
افغانستان کے شہر جلال آباد میں ایک جیل پر داعش کے شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ حملے کے دوران جیل سے فرار ہونے والے سیکڑوں قیدیوں میں سے اکثر کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔
افغان صوبے ننگرہار کی کونسل کے رکن سہراب قادری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جلال آباد میں واقع افغان حکومت کی ایک جیل کے باہر اتوار کو پہلے دو کم شدت کے دھماکے ہوئے تھے جس کے بعد ایک کار میں شدید دھماکہ ہوا تھا۔
سہراب قادری کے مطابق دھماکوں کے بعد حملہ آوروں کی سیکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔
حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کی ہے۔ داعش کی نیوز ایجنسی ‘اعماق’ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کو ہونے والا حملہ داعش کے جنگجوؤں نے کیا ہے۔
البتہ بیان میں حملے کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ داعش کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس حملے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
ننگرہار کی وزارتِ صحت کے ایک ترجمان ظاہر عدل نے خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کو بتایا ہے کہ حملے میں سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبائی گورنر کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تعداد 21 بتائی ہے۔
ظاہر عدل کے مطابق زخمی ہونے والے 40 افراد میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ننگرہار کے گورنر کے ترجمان عطااللہ خوگیانی نے کہا ہے کہ جیل پر حملے کے دوران فرار ہونے والے 700 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ‘اے ایف پی’ نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا، جیل میں تقریباً 1700 قیدی موجود تھے جن میں سے اکثر طالبان اور داعش کے جنگجو ہیں۔
البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ حملے کے دوران کل کتنے قیدی فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے اور ان میں سے اب تک کتنے بدستور مفرور ہیں۔
عطااللہ خوگیانی کے مطابق حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ پیر کو بھی جاری ہے۔
یہ حملہ ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب اتوار کو افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے عیدالاضحیٰ پر کی گئی تین روزہ جنگ بندی کا آخری دن تھا۔ اس جنگ بندی کے دوران افغان حکومت نے طالبان کے مزید سیکڑوں قیدی رہا کیے ہیں۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں سال فروری میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت طالبان کے پانچ ہزار قیدی رہا کرنے کی پابند ہے جب کہ اب تک 4917 طالبان قیدی رہا ہو چکے ہیں۔ طالبان کے مطابق وہ معاہدے کے تحت افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کی رہائی کا وعدہ پورا کر چکے ہیں۔
امن معاہدے کے تحت قیدیوں کی رہائی کا عمل مکمل ہونے کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہونا ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی اور طالبان عندیہ دے چکے ہیں کہ عید الاضحیٰ کے بعد بین الافغان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو سکتا ہے۔
…………….
افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ عید کے دو دنوں میں طالبان قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری رہا جس کے بعد مجموعی طور پر 4917 قیدی رہا کر دیے گئے ہیں۔
ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے افغانستان کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عید کے دو روز کے دوران طالبان کے مزید 317 قیدی رہا کیے گئے۔
طالبان قیدیوں کی رہائی پروان اور دیگر صوبوں کی جیلوں سے عمل میں آئی ہے۔
نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام 5100 قیدی رہا نہیں ہو جاتے۔
خیال رہے کہ افغان حکومت پہلے ہی 4600 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی تھی جب کہ مزید 500 کے قریب قیدیوں کی رہائی پر طالبان اور افغان حکومت میں تنازع برقرار تھا۔
رواں برس فروری کے آخر میں امریکہ اور طالبان میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے کی رو سے افغانستان سے غیر ملکی فوج کا انخلا ہونا تھا جب کہ طالبان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ افغان سرزمین کو کسی دہشت گرد تنظیم کو استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ جب کہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ بین الافغان مذاکرات کے ذریعے کیا جائے گا جس میں حکومت اور طالبان کے نمائندے شامل ہوں گے۔
تاہم ان مذاکرات سے قبل افغان حکومت طالبان کے 5000 کے قریب قیدی رہا کرے گی جب کہ طالبان اپنی حراست میں موجود ایک ہزار افغان اہلکاروں کی رہائی کو ممکن بنائیں گے۔
افغان حکومت نے ساڑھے چار ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا تھا جب کہ دیگر 400 سے 500 قیدیوں کی رہائی پر حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قیدی سنگین جرائم میں ملوث ہیں ان کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب طالبان تمام 5000 قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات پر زور دے رہے ہیں۔
افغان حکومت اور طالبان میں عید پر جنگ بندی ہوئی تھی۔ عید کے دنوں میں جنگ بندی پر حکومت نے خیر سگالی کے طور پر مزید قیدی رہا کیے ہیں تاہم یہ وہ قیدی نہیں ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ طالبان کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔
افغان صدر اشرف غنی نے دو روز قبل ایک اجتماع سے خطاب میں کہا تھا کہ عید کے دنوں میں قیدیوں کو رہا کر دیا جائے۔
اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے تین روزہ جنگ بندی کے اعلان پر نیک نیتی اور بین الافغان مذاکرات کے جلد آغاز کے لیے حکومت 500 قیدیوں کو رہا کرے گی۔
طالبان جن قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی رہائی کے حوالے سے صدر اشرف غنی نے کہا کہ میرے پاس اختیار نہیں ہے کہ میں ان 400 قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ کروں۔ یہ قیدی سنگین جرائم میں ملوث رہے ہیں۔
افغان صدر کے مطابق ان قیدیوں کی رہائی کا فیصلہ افغانستان کا لویہ جرگہ کر سکتا ہے۔
خیال رہے کہ طالبان نے قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔
طالبان نے تین دن قبل ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔











