ظفر معین بلے جعفری بیورو چیف عالمی اخبار پاکستان
حکومت کے مہم اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوٸے لاہور اور اسلام آباد میں خیمے لگانے کا اعلان سن کر پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کارکنان میں جوش اور جزبے کی نٸی لہر دیکھنے میں آنے لگے ۔ سیاسی حلقوں میں سابق صدر آصف علی زرداری گزشتہ چند روز سے توجہ طلب بیانات دے رہے ہیں ۔
پاکستان میں سابق صدر آصف علی زرداری کے اس اعلان کے بعد کہ وہ حکومتِ وقت کے خلاف خود احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہے ہیں سیاسی حلقوں میں حکومت کے خلاف ایک نیا جوش اور ولولہ دیکھنے میں آرہا ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ اللہ نے سونامی سے نجات کےلیے آصف علی زرداری کی شکل بمیں ایک نجات دہندہ عطا کیا ۔ لیکن دوسری طرف حکومتی حلقوں میں آصف علی زرداری کے اس اعلان کے بعد بوکھلاہٹ واضح طور پر محسوس کی جاسکتی ہے
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
سابق صدر آصف علی زرداری نے حکومت کیخلاف خود میدان میں آنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ وقت آگیا ہے کہ وہ وفاق میں بیٹھ کر حکومت کا مقابلہ کریں، ساتھ ساتھ لاہور میں احتجاجی خیمہ لگانے کا بھی اعلان کیا۔
ٹنڈو الہ یار میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ میں لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھ کر مخالفین کا مقابلہ کرنے جا رہاہوں، لاہور میں خیمے لگا کر احتجاج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اور ہمارے درمیان کچھ مسائل ہیں اور یہ مسائل چلتے رہیں گے، آج میرے لیےمشکل وقت ہے، بچپن کا دوست بچھڑ گیا، لاہور میں خیمے لگا کر احتجاج کرنے جا رہا ہوں، پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوامی کام کیے۔
آصف زرداری نے کہا کہ وفاقی حکومت اور ہمارے درمیان کچھ مسائل ہیں، مسائل چلتےرہیں گے، بلاول اور آصفہ بھٹو کی قیادت میں عوام کی خدمت کریں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز آصف زرداری نے کسی کا نام لیے بغیر نواب شاہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’فارمولہ بنا بنا کرملک کا بیڑا غرق کررہے ہیں، اب یہ عالم ہےکہ وہ فرماتے ہیں کہ آکرہماری مددکریں کوئی ہم طریقہ بنائیں، فارمولہ بنائیں لیکن جواب یہ ہے کہ اب تم کرو اس کی چھٹی پھر کرو ہم سے بات۔‘
آصف زرداری کے اس بیان پر ایک سینیئر دفاعی ذریعے نےکہا ہے کہ آصف علی زرداری کو چاہیے کہ وہ اُس شخص کا نام بتائیں جس نے اُن سے اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے رابطہ کیا اور مستقبل کے سیٹ اپ کے حوالے سے مدد کی درخواست کی۔
دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے ذریعے نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہر بار غیر ذمہ دارانہ انداز سے بیانات دیے جاتے ہیں اور ڈیل (اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ) کے اشارے دیے جاتے ہیں جو بہت بد قسمت اور غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔













