آپ اختلاف کر سکتے ہیں ضرور کیجئے کہ آپ کا حق ہے مگر ناچیز کو بھی تو رائے کے اظہار کا حق دیجئے کہ گذشتہ کچھ سالوں سے شدت کے ساتھ یہ محسوس کر رہا ہے کہ پیارا پاکستان رہنمائی سے محروم ہے تقریبا بائیس کروڑ پاکستانیوں کے چوالیس کروڑ ہاتھ تعمیر وطن کے لئے دستیاب ہونے کے باوجود ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں نہ تو توانائیاں ختم ہوئیں اور نہ ہی ہمت اور جذبے کی کمی ہے اگر کمی ہے تو ایک رہنما کی جو قوم کے لئے ایک سمت کا تعین کرے اور پھر پوری قوم کو ساتھ لے کر چل پڑے سفر جاری رہا تو منزل خود قدم چومنے کو بڑھ کر آگے آ جائے گی-
قیام پاکستان سے پہلے کے دور اور مناظر کو ذہن میں دہرایئےمنحنی سا لمبا تڑنگا ایک اکیلا شخص ایک مقصد عظیم کو لے کر اٹھا اور منزل کی جانب رواں ہو گیا اس کے کمزور جسم سے جب توانا آواز بلند ہوئی تو برصغیر کے کونے کونے میں بکھرے مسلمان لبیک لبیک کہتے ہوئے اس کے پرچم کے نیچے جمع ہونے لگے پھر ایک ایسا کارواں بنا کہ جس نے منزل پر پہنچ کر دم لیا یوں ایک نیا ملک اور قوم معرض وجود میں آئی جسے دنیا آج بھی پاکستان اور پاکستانی قوم کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے-
عظیم قائد نے وطن کے حصول کے بعد یکجا اور متحد قوم کو زندگی بتانے اور آگے بڑھنے کے لئے تین سنہری اصول ایمان، اتحاد اور نظم بتائے اور خود خالق حقیقی سے جا ملے قوم رہنما سے کیا محروم ہوئی کہ سستانے کو بیٹھی مگر ایسے کہ پھر لمبی تان کے سو گئی آنکھ اس وقت کھلی جب 1965 میں مکار دشمن نے رات کی تاریکی میں پاک وطن پر اپنے ناپاک قدم جمانے کی جسارت کی- سوئی ہوئی قوم یک دم انگڑائی لے کر اٹھی اور اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ یوں گلی محلے گاوں اور شہر سے نکلی کہ دشمن کے پاس دم دبا کے بھاگنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں بچا یہ تھا ایمان اتحاد اور نظم پر عمل پیرا ہونے کا نتیجہ جس کا مظاہرہ پاکستانی قوم نے حصول وطن کی جہد کے بعد پہلی بار کیا اور دنیا کو پیغام دے دیا کہ کوئی مادر وطن کی جانب میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کرے ہم ایک پرچم کے نیچے ایک ہیں اور وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں جسے توڑنا کسی کے بس میں نہیں-
قوم کی یہ یکجہتی پکار پکار کے کسی رہنما کی رہنمائی کا اظہار کرتی رہی کہ ہے کوئی جو آگے بڑھ کر اس اتحاد اور یگانگت کو برقرار رکھ سکے نہ صرف برقرار بلکہ اس میں اور بڑھوتری دے کر اس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو اور مضبوط بنا سکے مگر نہ ، کوئی بھی سامنے نہ آیا اور بالآخر عدم توجہی کے باعث دیوار میں درزیں پڑنے لگیں قوم ایک بار پھر خواب خرگوش کے مزے لینے لگی اس خواب سے بیداری اس وقت ممکن ہوئی جب 2005 میں قیامت خیز زلزلے نے دھرتی ماں کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا خیبر سے کراچی تک خوابیدہ قوم ہڑبڑا کر اٹھی اور آفت زدہ بہن بھائیوں کی مدد کو آ لپکی دنیا نے ایک بار پھر دیکھا کہ ایمان اتحاد اور نظم کا عملی مظاہرہ کسے کہتے ہیں زلزلے نے تباہی تو بے انتہا برپا کی مگر قوم کو اکٹھا کر دیا یوں قدرت نے پاکستان کو ایک بار پھر یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اس اکٹھ کو قائم رکھ کر آگے بڑھ سکے مگر یہاں بھی رہنمائی کا فقدان آڑے آ گیا –
مواقع شاذ شاذ ہی ملا کرتے ہیں مگر ہمیں قدرت نے بار بار مواقع فراہم کئے اب اسے بد نصیبی اور نااہلی کے علاوہ کیا نام دیا جا سکتا ہے کہ ہم نے ان بار بار ملنے والے مواقع سے کبھی بھی فائدہ نہیں اٹھایا 2005 کے صرف پانچ سال بعد 2010 میں پانی کی بپھری ہوئی لہروں نے سیلاب کی صورت اختیار کی اور خیبر پختون خوا کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہوئے پنجاب میں تباہی کی داستانیں رقم کر کے مہران تک جا پہنچیں ایسے میں ایک بار پھر پوری قوم نے اپنی حکومت اور اداروں کا بھرپور ساتھ دیا اور سیلاب سے متاثر ہونے والے بہن بھائیوں کی دلجوئی اور آباد کاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا یہ ایک اور موقع تھا جب اگر کوئی رہنما ہوتا تو قوم کے اس جذبے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پاکستان کی بنیاد رکھ سکتا تھا وائے ری بد نصیبی کہ ہم نے یہ موقع بھی ہاتھ سے گنوا دیا-
طویل عرصے کے بعد پاکستان میں اقتدار کا ہما ایک ایسی شخصیت کے سر پر آ بیٹھا جس کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے خصوصا نوجوان جو کسی بھی ملک کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں خود عمران خان بھی ہر خاص موقع پر یہ دعوی کرتے ہیں کہ فلاں ادارے کے پیچھے یا فلاں مسئلہ یا معاملے میں پوری قوم اکٹھی ہے مگر کیسے تسلیم کر لیں کہ عملی طور پر جب کوئی قدم اٹھانے کا وقت آتا ہے تو اس دعوے کی نفی ہو جاتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی زندگی ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح پاکستان بھی پانی کی شدید کمی کا شکار ہے مگر اس کے باوجود ہم پانی کو انتہائی بےدردی اور بے رحمی کے ساتھ ضائع کئے چلے جا رہے ہیں نئے آبی ذخائر کی جانب اس شد و مد کے ساتھ توجہ نہیں دی گئی جس کے ساتھ دینی چاہیے تھی کوشش کی سابق چیف جسٹس محترم ثاقب نثار نے اور ان کا ساتھ دیا حاکم وقت جناب عمران خان نے کہ ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بار ہا انتہائی درد مندانہ اپیلیں کی گئیں مگر نتیجہ کیا نکلا اب تک صرف اور صرف دس ارب روپے اکٹھے ہو پائے اس میں سے بھی تقریبا نوے فیصد رقم وہ ہے جو مختلف سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے کٹوتی کے ذریعے حاصل کی گئی جب کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے جن کی اکثریت عمران خان کی پرستار ہے نے ان کی اپیل پر قطعا کان نہیں دھرے یاد رہے کہ دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لئے 1450 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ تقریبا ایک سال کی کوششوں کے بعد اکٹھے صرف اور صرف دس ارب روپے ہوئے ہیں صرف اسی ایک مثال سے اندازہ لگا لیں کہ اگر عمران خان جیسی عالمگیر شہرت یافتہ شخصیت کی رہنمائی بھی پاکستانی قوم قبول کرنے کو تیار نہیں تو پھر کون ؟
آپ اتفاق کریں یا نہ کریں آپ کا حق ہے مگر ناچیز کی رائے یہ ہے کہ بابائے قوم کی جدائی کے بعد ہم ایک قوم نہیں رہے بائیس کروڑ انسانوں کا ایک جم غفیر بن چکے ہیں جس میں سے ہر ایک کی اپنی سمت ہے اگر ہم اسی طرح سفر کرتے رہے تو یہ سفر کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے کا سفر ہو گا جو ہمیں تھکا تو دے گا مگر منزل سے کوسوں دور رہیں گے منزل کے حصول کے لئے قوم کو رہنما کی قیادت میں آگے بڑھنا ہو گا مگر فی الحال تو کوئی رہنما نہیں…!
طارق بٹ













