انسانوں کو پرکھنے کا پیمانہ کیا ھونا چاھئے ؟

0
1678

جب ہم کسی چیز کو پرکھنے ، ناپنے یا چیک کرنے کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم یہ چاہ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی مستقل معیار ہو جس کے اوپر ہم اس چیز کو پرکھ سکیں۔ مثلاَ ہم کیسے تعیُن کریں گے کہ ابھی دن ہے ؟ اس کیلئے کوئی معیار کوئی پیمانہ یا میزان وغیرہ ہونا چاہیے ، پس ہم نے یہ طے کیا کہ جب سورج نکل اہو تب دن ہوتا ہے اور جب سورج نہ ہو تب رات ہوتی ہے۔ یعنی سورج کا نکلنا دن کے ہونے کیلئے معیار ہے۔

اسی طرح انسان کو جب ناپ تول کی ضرورت پیش آئی ، تب اس نے انٹرنیشنل پیمانے بنائے ، چنانچہ سسٹم انٹرنیشنل کے تحت مختلف چیزوں کیلئے سٹینڈرڈز اور ایس آئی یونٹس تشکیل پائے ، مثلاََ لیٹر کیلئے ، کے جی ، کیلئے ، فیٹ ، پاونڈ وغیرہ ہر چیز کیلئے مختلف پیمانے بنائے گئے اور دنیا میں رائج ہو گئے اب امریکہ میں کے جی کے پتھر کا جو وزن ہے وہی جاپان میں بھی ہے اور افریقہ میں بھی ہے ، دنیا میں ہر جگہ کے جی کا وہی وزن اور پیمانہ استعمال ہوتا ہے۔ ان کو اپنی آسانی اور سمجھ کیلئے آپ مختلف ٹرمز جیسے کہ میزان ، ترازو ، پیمانے ، یا معیارات وغیرہ کہہ سکتے ہیں۔ یہ معیارات ” مستقل ” ہیں ، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ کہیں بھی نہیں بدلتے ، بلکہ ہر جگہ ایک جیسے ہی رہتے ہیں اور رہیں گے۔ ہم دنیا میں کہیں بھی کسی چیز کا وزن کرنا چاہیں تو ہمارے پاس دنیا میں ہر جگہ ہی ایک جیسا ہی معیار موجود ہے۔ کیونکہ کسی بھی چیز کی ناپ تول ہم معیارات کے بغیر نہیں کر سکتے۔

بلکل اسی طرح انسان کی شخصیت ناپنے کیلئے بھی بھی ہمیں معیارات کی ضرورت ہے ، مثلاََ ہم کیسے تعیُن کریں گے کہ کوئی شخص بے وفا ہے ؟ یا دغاباز اور فریب کار ہے ؟ یا ” بُرا ” ہے ؟

اس کیلئے ہمارے پاس دو قسم کے معیارات ہو سکتے ہیں ، ایک فطری اور دوسرے طبیعی یا مزاج کے طابق بھی کہہ سکتے ہیں۔

فطری معیارات آپ کے ، اُس کے ، اِس کے ، اُن کے ، اِن کے ، یا میرے وغیرہ نہیں ہوتے ہیں ، بلکہ یہ ” انسانی ” ہوتے ہیں اور ہر انسان میں مشترک ہیں۔ مثلاَ ایسا نہیں ہے کہ میرے سر میں دماغ نہیں ہے اور فلاں کے سر میں ہے ، نہیں بلکہ ہر انسان کے سر میں ایک ہی جیسا ایک ہی کیمیسٹری کا دماغ موجود ہے ، یہ شخصی چیز نہیں ہے ، بلکہ اس نوع ( انسان ) میں موجود چیز ہے۔

مثلاََ ایک فطری معیار جیسے کہ ” انسان خیر کی طرف مائل ہے اور شر کو ناپسند کرتا ہے ” ، یا ایک دوسرا فطری معیار جیسے کہ ” انسان کمال کو پسند کرتا ہے اور نقص کو ناپسند کرتا ہے ” ، یا تیسرا فطری معیار جیسے کہ ” انسان حُسن کو پسند کرتا ہے اور اس کی طرف راغبت ہے جبکہ نجاست اور نقص کی جانب کراہت کا اظہار کرتا ہے “۔ یہ تین فطری معیارات کبھی تبدیل نہیں ہوں گے ، دس ہزار سال قبل انسان بھی خیر کو پسند کرتا تھا اور دس ہزار سال بعد کا انسان بھی خیر کو ہی پسند کرے گا۔

۔

لیکن روزمرہ کے معاملات میں ہمیں انسان کے جس قسم کی شخصیت کا سامنا ہوتا ہے وہ اس کے مزاج اور طبیعت ہے ، یہ فطری نہیں ہے بلکہ تربیت ، ماحول ، ایجوکیشن ، کمپنی ، زندگی کے تجربات ، احساسات ، جذبات وغیرہ ان کو تشکیل دیتے اور مسلسل بدلتے رہتے ہیں ، اس لیے ہمیں کبھی بھی مکمل طور ان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکے گا کیونکہ انسان کا علم ابھی اس مقام پر نہیں پہنچا ، البتہ کسی انسان کے بارے میں ہم اس کا ایک عارضی سا عکس ضرور جان سکتے ہیں۔

مثلاَ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کوئی منافق ہے یا نہیں ہے ، تو دیکھیں کہ جو کچھ وہ کہتا ہے ، اس پر پہلے خود عمل کر چکا ہے اور کر رہا ہے ؟ یا صرف کہتا ہی ہے۔

ہم یہ دیکھنا چاہیں کہ کوئی مستقل مزاج ، مضبوط اور خاص کر میچیور شخصیت کا ہے یا نہیں ہے، تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کا رویہ اور زبان اس کے موڈ کے تابع ہے ؟ یا ہر موڈ میں وہ ایک جیسا ہی رویہ اور لہجہ رکھتا ہے؟ یعنی ویسے تو وہ نرم خو ہے لیکن غصے میں بے قابو ہو جاتا ہے ؟ اور غصے ٹھنڈا ہونے کے بعد پھر سے وہی نرم خو شخص بن جاتا ہے ، اور ہم سوچتے ہیں کہ یہ کیسا عجیب انسان ہے کہ پل میں ماشا پل میں تولہ ہے ، اور اس کے مزاج کا کوئی ” بھروسہ اور اعتماد ” نہیں ہے۔

میچیورٹی کو ہم لہجے کے اتار چڑھاو ، لہجے کی تندی تیزی اور نرمی وغیرہ ، آواز کی بلندی اور الفاظ کے چناو سے بھی جج کر سکتے ہیں ، اس سے بھی جج کر سکتے ہیں کہ کوئی اچانک سے ریئکٹ کرتا ہے یا ریسپانس دیتا ہے ؟ اس سے بھی یہ بات معلوم ہو سکتی ہے کہ ڈسکشن میں کوئی جذبات کا استعمال کرتا ہے ، وراثتی عقائد کے حوالے سے بات کرتا ہے یا منطقی دلیل پیش کرتا ہے؟ اس سے بھی چک کر سکتے ہیں کہ کوئی اپنی بات کو شائستہ انداز سے پیش کرتا ہے یا مسلط کر کے منوانے کیلئے بحث برائے بحث کرتا جا رہا ہے؟

یا تعلق اور رشتے میں جب کوئی آپ کے چوائسِس کا احترام نہ کرے ، آپ کی غلطیوں کو درگزر نہ کرے ، بہانے بہانے سے آپ میں نقص نکالنے لگے ، آپ کی خوبیوں کو بھی عیب سمجھنے لگ جائے ، آپ کو اِن ڈائریکٹلی دوسروں کے سامنے بےعزت کرنے لگے ، دوسرے کے سامنے آپ کی عزت کا خیال نہ رکھے اور آپ کے نقائص اور عیوب کو نہ چھپائے بلکہ ظاہر کرتا جائے ، مصیبت اور ضرورت کے وقت آپ کو تنہا چھوڑ دے ، آپ کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کا احترام نہ کرے ، آپ کی تنگ کرنے والی عادات کو تحمل اور برداشت نہ کرے اور ہر وقت ہر بات پر برہمی دکھائے ، آپ کے ساتھ وقت گزارنے سے فارغ ہونے کے باوجود بھی منع کرے اور دل تنگ ہو ، آپ کے جوتوں میں کھڑے ہو کر آپ کی پوائنٹ آف ویئو کو سمجھنے کی کوشش نہ کرے ، آپ کے غمزدہ ہونے کی پرواہ نہ کرے اور لہجے میں ہر وقت تلخی سجائے رکھے۔ تو یہ اس بات کی نشانیاں ہیں ککہ وہ اب آپ سے تنگ ہو چکا ہے ، تعلق ختم کرنا چاہتا ہے ، مخلص نہیں تھا یا اب نہیں رہا ، اب وہ بور ہو چکا ہے ، اب اس کو آپ میں دلچسپی نہیں رہی ، وہ یہ تعلق ختم کرنا چاہتا ہے اور بہانے تلاش رہا ہے۔

جہاں تک بھروسے کا تعلق ہے تو اس میں یہ دیکھا جائے گا کہ بھروسہ کس چیز کیلئے کیا جا رہا ہے؟ کیا زندگی کیلئے کسی پارٹنر کا انتخاب کرنا ہے اور اس حوالےس ے بھروسہ چیک کرنا ہے؟ یا کوئی ٹیکنیکل کام ہے جس کیلئے خاص قسم کے سکِل کی ضرورت ہے ؟ یا کوئی امانت سونپنی ہے اس کیلئے بھروسے کی ضرورت ہے ؟ یا وہ کوئی بات بیان کر رہا ہے اور اس پر یقین کا مسئلہ درپیش ہے ؟

مثلاَ لائف پارٹنر یا محبوب کا معاملہ ہے تو اس کیلئے اس کے مزاج کی مستقل پن کو دیکھا جائے گا ، جس کا اوپر تذکرہ ہو چکا ، اس کیلئے اس کی اپ کے ساتھ انڈرسٹینڈنگ کو دیکھا جائے گا ، انڈرسٹینڈینگ کا سادہ مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس کی پسند نا پسند آپ سے کتنی ملتی ہے ؟ اس کی عادات اور اطوار میں آپ اور اس کے درمیان کتنی مماثلت ہے ؟ یہ دیکھا جائے گا کہ اس کا رحجان کس طرف ہے ؟ اس کے شوق کیا ہیں اور اس کی آئیندہ زندگی کے گولز ، مقاصد ، اہداف وغیرہ کیا ہیں ؟ وہ کن چیزوں کو اہمیت دیتا ہے اور کن چیزوں کو اگنور کرتا ہے اس کا اس سے کمتر لوگوں سے کیا رویہ ہے اور اس سے برتر لوگوں سے کیسا لہجہ اور رویہ ہے ؟

اسی طرح اگر آپ نے کسی ٹیکنیکل کام کیلئے بھروسہ دیکھنا ہے تو آپ کردار ، یا شخصیت نہیں دیکھتے بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ اس کام کے حوالے سے اس انسان کی کوالیفیکیشنز کیا ہیں؟ اس کا تجربہ کتنا ہے ؟ اس کی مختلف جگہوں پر کام کا پرفارمنس کیسا رہا ہے ؟ اس کے انجام دئیے پراجیکٹس میں سکسِس لیول کیا تھا ؟ اور اس خاص سکِل میں کتنا ایکسپرٹ اور ماہر ہے ؟

یوں ہی دوستی کیلئے بھروسے کے ضمن میں وہ انسان مصیبت میں کام آیا ہے یا نہیں ؟ ضرورت کے وقت موجود رہا ہے یا نہیں ؟

یوں ہی کسی انسان کے وفاداری پرکھنے کیلئے ، چاہے وہ کسی بھی رشتے میں ہو ، دوستی ہو یا محبت میں ، اس کو پرکھنے کیلئے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ آپ کے ساتھ اس کا جو تعلق یا رشتہ ہے ، چاہے وہ دوستی ہو یا محبت ہو یا کوئی پروفیشنل تعلق ہو ، اس کے بننے کی ” وجہ ” کیا تھی ؟ اس کی بنیاد کیا ہے ؟ جتنی عمر اور مضبوطی اس ” وجہ ” کی ہے ، اُتنی ہی عمر اور مضبوطی اس شخص کی ” وفاداری ” کی بھی ہو گی۔

اس طرح جنرلی ” اچھا ” انسان اس کو سمجھا جاتا ہے جو جھوٹ نہ بولے اور خیانت نہ کرے ، جو آپ کیلئے کسی دوسرے سے جھوٹ بول سکتا ہے ، اس کا بھروسہ نہیں ہے وہ آپ سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے ، یوں ہی خیانت بہت براڈ کاسیپٹ ہے ا سکا مطلب فقط آپ کے پیشے کھا جانا ہی نہیں ہے بلکہ اس میں کُل ملا کر ہر قسم کی خیانت آتی ہے ، پس اس شخص کو ” اچھا انسان ” سمجھا جاتا ہے جو جھوٹ نہ بولے اور خیانت نہ کرے۔

۔

پوسٹ بہت زیادہ لمبی ہو گئی البتہ مختصراََ آخر میں یہ عرض کر دوں کہ انسان کو اس کے بڑے بڑے نہیں بلکہ چھوٹۓ چھوٹے کاموں میں پرکھا جاتا ہے کیونکہ بڑے بڑے کام وہ بہت سوچ سمجھ کر کرتا ہے ، اور اس میں شعوری فیصلے کرتا ہے ، ہم شعوری انتخاب اور اعمال پر انسان کو جج نہیں کر سکتے کہ وہ کیسا ہے ، بلکہ اسے لاشعوری فیصلوں اور کاموں میں جج کیا جاتا ہے چونکہ انسان شعوری طور پر سوچ سمجھ کر اپنی اصل کو بدل کر ایک اداکارنہ سراپا پیش کر سکتا ہے ، لیکن اس کا لاشعور اس سے وہی کچھ کرواتا ہے جو اس کی اصل شخصیت ہے ، پس یہ لاشعور ہمیں اگرچے مکمل نہیں ، لیکن اس کے شخصیت کا ایک عکس ضرور بتا سکتا ہے ، جس کی بنیاد پر ہم اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کر سکتے ہین اور فیصلہ کر سکتے ہیں۔

جسٹن سنو
انتخاب۔ فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY