رب انسان کو اسکے گمان کے مطابق عطا کرتا ہے۔فائزہ عباس

0
1436

توحید کا کمال اخلاص ہے۔ ۔ ۔
اور اخلاص کا حصول یقین سے ہے۔ ۔ ۔
یہ دل کی قوت ہے۔ ۔ ۔
علم اور یقین بڑی دولت ہے جب علم مل نصیب ہو تو اسے جہل سے مت بدل دو۔ ۔ ۔
یقین روح کی صحت ہے ۔ ۔ ۔
یقین غیب کو شہود سے بدلتا دیتا ہے۔ ۔ ۔
رب انسان کو اسکے گمان کے مطابق عطا کرتا ہے جسطرح کا گمان ہو ویسا ہی رب عطا فرمائے گا ۔ ۔ ۔کہ یقین سے مانگی گئ دعا کبھی رد نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔
کہ دعا اور یقین دکھائی نہیں دیتے مگر ناممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ان پہ اعتماد دراصل رب پہ اعتماد ہے۔ ۔ ۔

اور اس کائنات کی ہر شے اسی اعتماد کے حصار میں ہے۔ ۔ ۔سو رب سے جب بھی طلب کیا جائے۔ ۔ ۔ مانگا جائے تو مکمل اعتماد، یقین، اور بھروسے سے مانگا اور طلب کیا جائے۔ ۔ ۔

یقین کی بنیاد معرفت پر ہے۔ ۔ ۔جتنی معرفت بڑھے گی اتنا ہی یقین ہو گا، جتنا یقین ہو گا اتنا ہی اخلاص بڑھے گا۔ ۔ ۔

اور جتنا رب سے اخلاص بڑھتا ہے انسان اسی قدر تیزی سے سفر طے کرتا ہے۔ ۔ ۔ پھر وہ مایوسی، کاہلی، سستی نہیں دکھاتا، بزدلی نہیں دکھاتا، لاتعلقی اور بیگانگی اور خاموشی کی راہ نہیں پکڑتا بلکہ مستحکم، مظبوط، کر کے دکھانے والا شجاع، بابصیرت، باعمل انسان بنتا چلا جاتا ہے۔ ۔ ۔ گویا اسکے وجود سے منافقت، ظلم، دھوکے، کمزوریاں سب نکل جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور اسکے ظاہر اور باطن، قول وفعل کا تضاد مٹ جاتا ہے ۔ ۔ ۔
دین کی روح معرفت اور اخلاص ہے۔ ۔ ۔ اور معرفت کا تعلق علم سے اور علم کی طاقت خالص اورصالح عمل میں۔ ۔ ۔

معرفت کی مثال۔ ۔ ۔ کچھ اسطرح سے ہےکے انسان کبھی بھی آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتا حتی کے غلطی سے بھی نہیں کیونکہ اسکو علم ہے کے آگ جلا دے گی ۔ ۔ ۔گویا اسکے پاس علم تھا ۔ ۔ ۔ اور اس کاعلم اسے مشاہدے کی جانب لایا اس نے دیکھا کے واقعی آگ گرم ہے اور جلانے والی شے ہے۔ ۔ ۔اور اس سے ایسا یقین ملا کے آگ کے قریب ہوتے ہوئے انسان انجانے میں بھی آگ میں ہاتھ ڈالنے کےعمل سے خود بخود بچا گیا۔ ۔ ۔

بالکل اسی طرح رب سے تعلق کی ڈوریاں معرفت سے مستحکم ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔جب تک اسکی عظمت، اسکی بلندی، اسکی زات کی معرفت ہمارے شعور و لاشعور کو چکھ نہ لے اس تک پہنچ نہ جائے انسان اس خشوع و خضوع اس درد، قربت اور عشق کا احساس خود میں پیدا نہیں کر سکتا۔ ۔ ۔

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY