وزیر اعظم عمران خان نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادوں نے دو ممالک سے رابطہ کیا اور ان کے والد کو سہولت فراہم کرنے کے لیے مداخلت کی درخواست کی۔
انہوں نے ان ممالک کا نام لیے بغیر کہا کہ ان ممالک کے پیغام پہنچایا لیکن مداخلت سے انکار کیا اور مجھے بتایا کہ وہ ملکی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کے پروگرام میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی کے ہمراہ بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ‘این آر او کے لیے کسی کی سفارش نہیں چلے گی، سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو دیئے این آر او نے ملک کو تباہ کردیا، بعد ازاں دونوں نے ایک دوسرے کو این آر او دیا۔’
انہوں نے کہا کہ ‘این آر او تو ہونا نہیں ہے، پلی بارگین ہوسکتی ہے، آصف زرداری مشکل میں ہیں تو پیسہ واپس کر دیں جبکہ نواز شریف بھی پیسہ واپس کریں اور علاج کے لیے بیرون ملک چلے جائیں۔’
دونوں رہنماؤں کو ریلیف دینے کے لیے کسی قسم کے دباؤ سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ‘یہ پہلا مرحلہ ہے جس میں پاک فوج، حکومت کے ایجنڈے اور منشور کے ساتھ کھڑی ہے، کوئی ملک سے فرار نہیں ہو سکتا اور نہ کوئی سفارش کام آئے گی۔’
انہوں نے خبردار کیا کہ منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتار یا سزا یافتہ سیاست دان جیل میں سہولتیں حاصل نہیں کر سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘میں وزارت قانون کو کہہ چکا ہوں کہ منی لانڈررز کو عام جیل میں ڈالا جانا چاہیے اور جلد ہی اس حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔’
عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘ان منی لانڈررز کو علم ہونا چاہیے کہ ملک میں عام مجرم کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے۔’













