اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کے لئے متفقہ امیدوار کے نام کا اعلان 11جولائی کو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اپوزیشن کی 9سیاسی جماعتوں کے 11ممبران پر مشتمل رہبر کمیٹی نے اتفاق رائے سے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی منظوری دے دی۔
اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں جمعیت علما ئے اسلام (ف) کے اکرم خان درانی 2ماہ کے لئے رہبر کمیٹی کے کنوینر مقرر کئے گئے۔
کمیٹی نے اعلان کیا کہ نیا چیئرمین سینٹ تمام جماعتیں متفقہ طور پر لائیں گی،حکومت کیخلاف احتجاج اور دیگر امور پر فیصلے کےلئے 11جولائی کو دوبارہ اجلاس طلب کر لیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چیئرمین سینیٹ کے لئے اپوزیشن کے متفقہ امیدوار کے نام کا اعلان 11جولائی کو کیا جائے گا،اس کے لئے ریکوزیشن سینیٹ سیکریٹریٹ میں 9جولائی کو جمع کرائی جائے گی۔
کنوینر اکرم خان درانی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے بھی رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کی مذمت کی اور کہا کہ جس طرح انہیں گرفتار کیا گیا، اس طرح تو کسی کو بھی نشانہ نہیں بنایا گیا۔
اجلاس میں وزیرستان کے اراکین قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی پہلا قدم ہوگا،نہ ملک میں صدارتی نظام منظور ہے اور نہ 18 ویں ترمیم کو ختم کرنے دیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنا جمہوریت کی نفی ہے، یہ اختیار اسپیکر کا ہے۔
ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ جب سینیٹ اور قومی اسمبلی نہیں چلے تو ہم عوام کو بتائیں گے تبدیلی آ رہی ہے، ہم حصول اقتدار کی نہیں عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔













