خیبر پختونخوا میں مجبوری میں ایمرجنسی لگانی پڑی، آئے روز دھمکیاں اور لانگ مارچ کیے جارہے تھے: وزیراعظم
گوجرانوالا میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی ترقی اور خوش حالی کے لیے حاضر ہیں، خیبر پختونخوا میں مجبوری میں ایمرجنسی لگانی پڑی، آئے روز دھمکیاں اور لانگ مارچ کیے جارہے تھے، دھرنوں سے پورے ملک کا نظام مفلوج ہوتا ہے، سہیل آفریدی کوکہا تھا صوبےکو جو وسائل چاہئیں فراہم کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی ماضی کی تاریخ بھیانک ہے، سابق وزیر اعلیٰ کو کہا دہشت گردی کے خلاف مل کر چلیں، اس بار انہوں نے خون ریزی کا منصوبہ بنایا تھا۔ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں،افغانستان سے 2018 کے بعد سے دہشت گردی کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک جاری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ خلیجی جنگ کے اثرات پورے خطے پر ہیں ، وزیر اعظم مذاکراتی کمیٹی نے دن رات بیٹھ کر کوششیں کیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر سے ملاقات ہوئی، ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اسپیکر سے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی درخواست کی۔
ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ ہمارے ارکان حراست میں ہیں، ایوانِ میں لایا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملے پر قانونی مشاورت کرنے کی یقین دہانی کرادی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسپیکر کے پاس اپنے پارلیمنٹیرینز کی پروٹیکشن کےلیے گیا تھا، بڑی مشکلات کے بعد ہم مذاکرات کے میز پر بیٹھے تھے، آج اسپیکر کو مخاطب کر کے کہا مذاکرات کی میز سے کون اٹھا؟ آپ نے وزیراعلیٰ اور اسپیکر سمیت دیگر اراکین کو گرفتار کیا، مراد سعید نے یا کس نے مداخلت کی سوال یہ نہیں، اصل سوال یہ ہے مذاکرات کی میز سے کون اور کیوں اٹھا؟ مذاکرات کی ٹیبل تک میرے ساتھ جو لوگ تھے انہیں کون لے کر آیا تھا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا مذاکرات کی میز پر بننے والے مسودے کی 5 شقیں تھی، آپ مذاکرات کی میز سے چوتھے نمبر کی شق پر اٹھ جاتے ہیں۔ حکومتی ٹولے مذاکرات میں دراڑ ڈال رہے ہیں، دراڑ ڈالنے والوں کو اس کا فائدہ ہے۔
بیرسٹر گوہر بولے خیبرپختونخوا عمران خان کا صوبہ ہے، عمران خان کا ووٹ ہے، میری جان میں جان ہے تو عمران خان کا نامزد کردہ بندہ ہی وزیراعلیٰ ہوگا، نئے وزیراعلی کی نامزدگی صرف بانی پی ٹی آئی ہی کر سکتے ہیں، جب تک بانی پی ٹی آئی نے چاہا سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ تھے اور رہیں گے، میں نے کہا آپ مذاکرات کی جو بات کر رہے ہیں وہ خوش آئند ہے، مذاکرات ہونے چاہیے اور ہر صورت ہونے چاہیے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا دہشتگرد جہاں بھی ہیں وہ ملک کے دشمن ہیں، دہشتگرد جہاں بھی موجود ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کی حکمت عملی طےکرلی گئی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس آج صبح 11 بجے اور سینیٹ کا اجلاس شام 4 بجے ہوگا۔ قومی اسمبلی اجلاس کا 8 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کردیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد کی منظوری ایجنڈے میں شامل ہے، دونوں ایوانوں میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی نفاذ کی توثیق کے لیے قراردادیں پیش کی جائیں گی۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 15 اکتوبر جمعرات صبح ساڑھے 11 بجے ہوگا جس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کی توثیق ہوگی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کی حراست بہت بڑی غلط بات ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعلیٰ بھی کبھی گرفتار ہوئے ہیں، کیا وزیراعلیٰ کو ایسے ہٹایا جاتا ہے؟ منتخب حکومت کو ایسے گرایا جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اگر حراست میں ہے یہ بہت بڑی غلط بات ہے، سہیل آفریدی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں، انہیں بانی پی ٹی آئی کی حمایت حاصل ہے۔
رابطوں کے سوال پر جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ کا رابطوں سے کیا جھگڑا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے متعلق وفاقی حکم نامہ جاری کردیا ہے جس کے تحت گورنرخیبرپختونخوا وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کے امور انجام دیں گے اور فرائض کی انجام دہی میں مشاورتی کونسل کی معاونت حاصل کریں گے۔
حکم نامےکے مطابق خیبرپختونخوا کے لیے 11رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دے دی گئی ہے۔
مشاورتی کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹرعامرعبداللہ اور لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگارجوہر، ثمربلور، ڈاکٹرسرفراز علی، عامرجاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد،کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔
وفاقی حکومت کے حکم نامےکے مطابق ثنااللہ ایڈووکیٹ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل مقرر کیےگئے ہیں۔
حکم نامےکے مطابق صوبائی حکومت کے امور آئینی دفعات اور کے پی گورنمنٹ رولز آف بزنس 1985 کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔
حکم نامےکے تحت وفاقی حکومت کا جاری کردہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشاورتی کونسل کا اعلان کیا اور مشاورتی کونسل کے ارکان کو شائننگ اسٹار قرار دیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ محمد یحییٰ اخونزادہ ایڈوائزری کونسل کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوں گے۔ مشاورتی کونسل کا اپنا الگ سیکرٹریٹ ہوگا، جسے براہ راست فنڈز دیے جائیں گے،کونسل گورنر خیبرپختونخوا کی معاونت کرےگی۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج دونوں کا اطلاق ہوا ہے، خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا اطلاق زیادہ سے زیادہ 6 ماہ کے لیے ہے، آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے لیے ٹائم لائن سیٹ نہیں ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا جب سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنے تو دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، متاثرہ علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن وقت کی ضرورت ہیں، خیبرپختونخوا اسمبلی غیر فعال ہے ، اسپیکر حفاظتی تحویل میں ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی پسندیدہ اقدامات نہیں لیکن آئین ان کی اجازت دیتا ہے، انہیں غیر آئینی قرار دینا درست نہیں۔
ان کا کہنا تھاکہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی ملک کے لیے چیلنج بن چکی تھی، لانگ مارچ دہشت گردوں کو محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے کا ذریعہ بن رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات سے معاملات حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر پی ٹی آئی نے ایک بار پھر سیاسی تدبر پر ضد اور انا کو ترجیح دیکر اپنی آخری پناہ گاہ اور حکومت بھی گنوا دی شکریہ پی ٹی آئی!
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جمہوریت کےلیے ہرطرح کے مذاکرت پر تیار ہیں، آئین نےگارنٹی دی تھی کہ ملک میں جمہوری نظام ہوگا، ہمارا آئین کہتا ہے پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہے، متفقہ آئین کو متنازع بنایا جارہا ہے۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال زیادہ خراب ہے، بلوچستان میں ایمرجنسی لگائیں وہاں حالات زیادہ خراب ہیں۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
خیبرپختونخوا پولیس کا کہنا ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کے8 اہم رہنما پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکرکےپی اسمبلی بابرسلیم سواتی، پی ٹی آئی کےصوبائی صدر جنید اکبر اور دیگر بھی حراست میں ہیں۔
مالاکنڈ ضلع میں 30 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے تمام سیاسی اجتماعات، جلسے جلوسوں اور تقریبات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ریاست اور سرکاری اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسلحے کی نمائش پر بھی پابندی عائد کردی گئی جبکہ ضلع بھرکے تمام سرکاری و نجی اسکولز اور کالجز 2 روز کے لیے بند رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ذرائع کے مطابق گریڈ21 کے اکرام اللہ، گریڈ20کے شاہد اللہ ، گریڈ19کے شاہ فہد، گریڈ18کے کیپٹن (ر) زبیرخان، گریڈ19کے کیپٹن (ر) میاں عادل اقبال، گریڈ18کے وقار علی، گریڈ21کے عنبر علی خان، گریڈ 18کے کیپٹن(ر) ثناءاللہ خان اور گریڈ20کے سہیل خان کا کے پی کے سے تبادلہ کردیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ گریڈ18کے محمد احتشام الحق، گریڈ18کے محمد فہیم، گریڈ19کے محمد عثمان، گریڈ19کے کیپٹن ر سرمدسلیم اکرم سمیت گریڈ19کے شفیع اللہ خان کا کے پی کے سے تبادلہ کردیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تمام افسران کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا سے 4 پولیس افسران کو اسلام آباد رپورٹ کرنے کے احکامات جاری، نئے افسران تعینات
خیبرپختونخوا سے 4 پولیس افسران کو اسلام آباد رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔
گریڈ 20 کے ہمایوں مسعود، فصیح الدین اور عرفان طارق کو اسٹبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے جبکہ گریڈ 18کے عمران خان کو بھی اسٹبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے 4 نئے پولیس افسران کو خیبرپختونخوا میں تعینات کردیا ہے۔
گریڈ 18کے پنجاب سے سعد آفریدی، بلوچستان سے اعتزاز عارف کو خیبرپختونخوا میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ اسلام آباد سے پری گل، سندھ سے کاشف آفتاب عباسی کو بھی خیبرپختونخوا میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ کو او ایس ڈی کردیا گیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کوخیبرپختونخوا کا نیا چیف سیکرٹری لگادیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس میں تعینات محمد یحییٰ خانزادہ کی خدمات بلوچستان حکومت کے سپرد کر دی گئی ہیں جبکہ پنجاب میں تعینات پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے خواجہ سکندر ذیشان خیبرپختونخوا میں تعینات کر دیئے گئے ہیں۔ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کوئٹہ سے اورنگزیب بدانی کا خیبرپختونخوا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔













