آخر ہماری پستی کا باعث کیا ہے؟ شمس جیلانی

0
793

آجکل آپ دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے نشانِ عبرت بن چکے ہیں یا پھر بننے جا رہے ہیں، کیوں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ ایک آیت میں اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما چکا ہے کہ گر ہم تبدیلیاں نہ لا ئیں تو کسی بھی معابد میں ہمارا لوگ ذکر نہ کرنے دیں؟ ا ور ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ“ انسان اتنا لالچی ہے کہ اگر میں ا سے سونے کا ایک پہاڑ دیدوں تو وہ دوسرےاور پھر تیسرے کی فرمائش کرے گا“۔ پھرسورہ تغابن کی آیت نمبر 11 میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کوئی مصیبت کسی کو نہیں پہنچتی بغیر اللہ سبحانہ تعالیٰ کی اجازت کے؟ اس کی تفسیر میں بہت کچھ لکھاگیا ہے جس سے تفسیر کی کتابیں پر ہیں۔میں یہاں ان کا صرف لبِ لباب پیش کردیتا ہوں وہ یہ ہے کہ ” اگر بندہ مومن ہے تو اس کے لیے مصیبت ابتلا ہے جوکہ باعث رحمت ہے کیونکہ وہ راضی بہ رضا رہ کر ثواب حاصل کرتا ہے اور پیش آنے والے مصائب اور تکالیف اس کے ترقی ِ درجات کا باعث ہوتے ہیں؟ اگر وہ زبانی اور کلامی مومن ہے تو بات دوسری ہے۔ یعنی اگر وہ اس کا قائل ہے کہ ہر طرح کا حرام بھی چلے گا، جھوٹ بھی چلے گا، بے ایمانی بھی چلے گی ،بد عہدی بھی چلے گی تو یہ اسکے اپنے کرتوں کی وجہ سے “سزا“ ہے اور ظاہر ہے کے اس کے لیئے باعث ذلت اور رسوائی ہی بنے گی بجا ئے ترقی ِ درجات کا باعث بننے کےِ۔ چونکہ اللہ بندوں پر بے انتہا مہربان ہے اور ہر وقت ہر ایک کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اگر بات صرف حقوق اللہ یعنی اللہ کی عبادات کی ہے تو؟ لیکن ا گر بندوں کے حقوق ادا نہیں کیئے ہیں توتوبہ سے پہلے انہیں راضی کرنا پڑیگا جن کے حقوق مارے ہیں یا ان کو نقصان پہنچایا ہے؟میں نہیں جانتا کہ ہمارے ہاں یہ تصور کہا ں سے آیا کہ ہم روزے نماز کی پابندی بھی کریں مگر سلام پھیر تے ہی وہی برائیاں پھر شروع کردیں جو ہمارے روزمرہ میں شامل ہیں؟ جبکہ قرآن میں سورہ بقر کی پہلی آیت میں فرمادیا گیا ہے کہ“ اس کتاب میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے“ اسی قرآن میں آگے چل کر لکھا ہوا ہے کہ“ نماز تمام برائیوں سے دور رکھتی ہے۔ روزہ اس لیے ہے کہ تمہیں متقی بنا تا ہے، زکات عمر بڑھاتی، مال بڑھاتی ہے“ اگر ہماری زندگیاں پھر بھی ویسے کہ ویسے ہی رہتی ہیں یہ تینوں فرائض ادا کرنے کے باوجود بھی؟ تو یہ ہماری اپنی کوتا ہی ہے کہ ہم دوسروں سے یہاں تک متاثر ہو چکےہیں کہ“ عبادت جو ہم کرتے ہیں وہ ہم پر فرض ہے ؟ اور جو اس کے سوا برائیاں کرتے ہیں وہ ہمارا کا روبار ہے کیونکہ اگر ہم بھی ا یسا ہی نہ کریں جیسا کہ سب کر رہے ہیں تو کاروبار چلے گا نہیں، ماند پڑ جا ئے گا؟ جبکہ اسی قرآن میں آگے چل کر اللہ سبحانہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ“ پورے پورے اسلام میں داخل ہوجاؤ “ جبکہ اسلام کے ہم لغوی معنوں پر جا ئیں تو کلمہ پڑھنے کے بعد ہماری اپنی کوئی را ئے نہیں رہتی ہے کیونکہ ہم پابند ہیں ان تمام احکمات کے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمادیئے ہیں؟ اس سلسلہ میں دوسری اہم آیت جو ہے اس میں فرما یا کہ“ ہم نے تم سے پہلی قوموں کی طرف نبی ؑبھیجے اور تمہاری طرف بھی ہم نے آخری نبی (ص)بھیج کر تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تمہارے نبی(ص) نے اپنے اوپر پورا دین نافذ اور عمل کر کے بھی دکھا دیا؟ پھر یہ کہ“ نبی (ص) کے اسوہ حسنہ (ص)میں تمہارے لیئے بہترین نمونہ ہے“ پھراسی مضمون کو مختلف الفاظ میں قرآن میں بار بار دہرایا ہے کہ “نبی کااتباع ہی دراصل میرا اتباع ہے“ پھر یہ بھی فرمادیا کہ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتے وہی فرماتے ہیں جو ان پر میری طرف سے وحی کیا جاتا ہے“
اب آئیے دیکھتے ہیں (ص) کہ وہ کیا فرماتے ہیں؟ وہ فرماتے ہیں کہ “ جھوٹا ہم میں سے نہیں، کم تولنے والا ہم میں سے نہیں، بد عہد ہم میں سے نہیں امانت میں خیانت کرنے والا ہم میں سے نہیں، اور خطبہ “ حج الو داع“ کے موقع پر جہاں صرف (صرف مسلمان تھے اور لوگ نہیں کہ اسلامی ریاست کاشہری ہونے کہ باوجود غیر مسلم پر حج واجب نہیں تھا) کہ“ تمہارے اوپر آج سے مسلمان کا مال ہے، حرام ہے عزت حرام ہے ۔۔۔۔ الخ۔ چونکہ خطبہ طویل ہے میں نے چند وہ اوصاف پیش کیے ہیں جو کہ ہم میں آجکل عام ہیں ان میں سے بھی ہم میںجو باتیں ہیں ان میں ایک دوسرے کا مال کھانا یا پگڑی اچھالنا یہ کام ہم روز کرتے ہیں؟ ا گرمزید تفصیل میں جائیں گے تو ہم میں وہ سب موجود ہیں جن میں سے کسی ایک پر پہلے قومیں تباہ ہوتی رہی ہیں۔ آئیے میں بھی اپنے گریبان میں جھانکتا ہوں اور آپ بھی جھانکیں کہ ہم ان میں سے کونسا کام نہیں کر رہے ہیں؟ اگر ہماری بہت بڑی اکثریت س پر عامل ہے تو ہم خود ہی فیصلہ کر لیں کہ ہم اس کردار پرنوازے جانے کے مستحق ہیں یا سزا کے؟ جبکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ “ میں کسی کو سزا دینے کر خوش نہیں ہوں صرف تم میری بات مان لیا کرو “ اب دل میں جھانک کر دوبارہ دیکھئے کہ اگر ہم اس کی بات مانتے ہوتے یہ ہی کچھ کرتے ہوتے ،جو آجکل کر رہے ہیں؟اس جائزے کے بعد ہر منصف مزاج ادمی کو یقین ہو جا ئے گا کہ اب ہم اپنی ان کرتوتوں کے بنا پر پسندیدہ قوم نہیں رہے؟ جبکہ ابھی تک ہم اسی غلط فہمی مبتلا ہیں کہ ہم پسندیدہ قوم ہیں لہذایہ نتیجہ غلط اخذ کرنے کا ہی ما حاصل ہے جو ہم آجکل کر رہے ہیں۔ پھر آپ کو اور ان سب کو یہ بات سمجھ میں آجا ئے گی جیسے کہ محمد شاہ رنگیلے کی سمجھ مٰیں آخری وقت میں آئی تھی جب کہ دلی کو نادر شاہ لوٹ رہا تھا جس کو اس نے خود ہی اپنی مدد کے لیے بلایا تھا اور اس نے اعتراف کیا تھا کہ“ یہ میرے برے اعمال ہیں جس کی گرفت میں آجکل دلی ہے“ مگر بہت تاخیر سے؟ کاش ہم پہلے کرلیں؟
وہ بھائی بھی جوآج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں یا کل جا نے والے ہیں ان کے بارے میں قوم کے بجا ئے اس طرح سوچنے کہ یہ میری برادری ہے یا پارٹی ہے۔یا میرا بھائی ہے یامیرا دوست ہے اس لیئے بیچارہ ظلم کی چکی میں پس رہا ہے؟ اس کا موازنہ جب غیر جانبدار ہو کر کریں گے تو نظر آجا ئے گاکہ انہیں ان کے اعمالوں کے باعث نشان عبرت بنا یا گیا ہے تاکہ ہم تو بہ کر کے اپنے نبی (ص)کے اسوہ حسنہ پر چلیں؟ اور رب کو راضی کرلیں اور وہ ہماری تمام مصیبتیں دور کردے؟ لیکن اس میں سب سے اول شرط توبہ کے لیے یہ ہے۔ جو انسانوں کے حقوق پامال کیئے وہ پہلے ادا کرنے ہیں۔ جن میں بنکوں کے لاتعداد حصہ دار اور پاکستان کے بائیس کروڑعوام بھی شامل ہیں ۔

SHARE

LEAVE A REPLY