بھارت کے چاند مشن چندریان 3 نے چاند پر اپنا 2 ہفتے کا اسائنمنٹ مکمل کر لیا ہے۔
بھارتی خلائی ایجنسی نے بتایا ہے کہ اب چندریان 3 کے مون روور کو سلیپ موڈ میں کر دیا گیا ہے۔
بھارتی خلائی ایجنسی کے مطابق مون روور نے چاند کے قطبِ جنوبی پر 100 میٹر سے زائد کا فاصلہ طے کیا ہے، اب اگلے اسائنمنٹ کے لیے اسے دوبارہ فعال کیا جائے گا۔
بھارتی خلائی ایجنسی نے بتایا ہے کہ چاند مشن بھارت کے قمری سفیر کے طور پر وہاں رہے گا۔
بھارتی چاند مشن نے چاند پر سلفر، آئرن، آکسیجن اور دیگر عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت کا خلائی مشن 23 اگست کو چاند کے قطبِ جنوبی کی سطح پر اترا تھا۔
بھارت، امریکا، چین، روس کے بعد چاند پر پہنچنے والا چوتھا جبکہ چاند کے قطبِ جنوبی پر اترنے والا دنیا کا سب سے پہلا ملک ہے۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
بھارت کا مشن چندریان 3 کامیابی سے چاند کے تاریک حصے پر اتر گیا جس کے ساتھ ہی بھارت چاند کے تاریک حصے پر لینڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔
بھارتی اسپیس ایجنسی کے مطابق چندریان 3 مشن 14 جولائی کو روانہ ہوا تھا جو لانچ کے بعد 10 دن تک زمین کے مدار میں موجود رہا اور 5 اگست کو کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل ہوا۔
وکرم نامی لینڈر 17 اگست کو پروپلشن موڈیول سے کامیابی سے الگ ہوا تھا جس کے بعد آج یہ مشن چاند پر کامیابی سے اتر گیا ہے۔
مشن کی کامیابی کے بعد بھارت چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک جب کہ چاند پر پہنچنے والا دوسرا ایشیائی ملک ہے۔
اس سے قبل امریکا، روس اور چین چاند کے خط استوا کے قریب سافٹ لینڈنگ کر چکے ہیں۔
یہ بھارت کی جانب سے چاند پر اترنے کی 4 برسوں کے دوران دوسری کوشش ہے، اس سے قبل 2019 میں چندریان 2 مشن ناکام ہوگیا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جہاں چندریان 3 اترا وہ قطب جنوبی کا دوردراز خطہ ہے، مستقل طور پر سائے میں رہنے کی وجہ سے اسے ‘چاند کا اندھیرے والا حصہ’ بھی کہا جاتا ہے اور غالب امکان ہے کہ چاند کا جو حصہ سائے میں ہے وہاں پانی کی موجودگی کے آثار ملیں۔
چاندکے قطب جنوبی کی اہمیت کیوں ہے؟
سائنسدانوں کا خیال ہےکہ چاندکے قطب جنوبی میں کافی مقدار میں برف موجود ہے۔
چاند پر برف یعنی پانی کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انسان اسے استعمال کر سکتا ہے، یہ برف نہ صرف پینےکے پانی میں تبدیل کی جاسکتی ہے بلکہ اس سے آکسیجن اور ہائیڈروجن حاصل کی جاسکتی ہے جس سے وہاں زندہ رہنے اور راکٹ یا خلائی جہاز کے لیے فیول حاصل کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔
Published on: 15 Jul 2019
بھارت کے چاند پر بھیجے جانے والے مشن چندریان ٹو کی روانگی مؤخر کردی گئی۔
مون مشن کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے روانگی کے وقت سے 56 منٹ پہلے مؤخر کیا گیا۔
راکٹ بھیجنے کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
چندریان ٹو کی روانگی سے روس، امریکا اور چین کے بعد بھارت چاند پر مشن بھیجنے والا چوتھا ملک بن جاتا۔












