ہر طرف سے آوازیں آرہی ہیں بھوگو پکڑو جانے نہ پائے ۔مگر کاش ایسا ہو جائے ایک دفعہ تو سارے دھوکہ باز پکڑے جائیں ۔
موسم خوشگوار بھی ہے اور پریشان کُن بھی ۔کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم بدل رہے ہیں اور کبھی کبھی ہمیں ایک خوفناک ڈر گھیر لیتا ہے ۔اکثر خبریں اور معلومات پریشان کر دیتی ہیں ۔لیکن پھر کہیں اندر سے آواز آتی ہے کہ اُچھاڑ پچھاڑ کے بغیر سُدھرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے ۔عدلیہ باقی تھی کہیں کہیں خدشات تھے لیکن جو کچھ آج کل دکھایا جارہا ہے وہ شدید تکلیف دہ اور نا قابلِ یقین ہے ۔جب عدل بھی بِک جائے تو کہاں کا انصاف اور کیسا عدل۔ لیکن یہاں بھی ہمیں پہلے ایک عدلیہ کے مقدمے کی طرح خطرہ ہے کہ ہم ہمیشہ پھنسنے والے کو تو سزا کا مستحق سمجھتے ہیں لیکن پھنسانے والے کو چھوڑ دیتے ہیں بلکہ بڑے بڑے عہدوں پر بٹھا دیتے ہیں جیسے ماضی میں شھباز صاحب کی آواز اور اُن کے ساتھی کی طرف سے فون ایک جج کو اور سزا دلانے کی بات لیکن شھباز صاحب کو کسی نے ہاتھ تک نہ لگایا اور ججز ہٹا دئے گئے ۔بالکل ٹھیک ہٹائے گئے کہ کیسے اتنی کمزوری دکھائی حاکم کے سامنے مگر کیا شھباز صاحب کو بھی سزا نہیں ملنی چاہئے تھی ۔؟ کیا دونوں کا جرم ایک سے بڑھ کر ایک نہیں تھا ۔۔
اب بھی یہ ہی ہوگا کہ جج پر دباؤ ڈالنے والے نہیں پکڑے جائینگے ۔جج تو ہے ہی قصور وار جیسا کہ نظر آرہا ہے کہ کیوں نہ اُسی وقت اپنے دِفاع میں بولے کہ مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں یہ پردہ پوشی ہی سب سے بڑی لعنت ہے جس نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔اگر ہم سارے ہی ایسی تخریب کاری پر جو اداروں کے لوگوں کو خرید کر یا زور ڈال کر کی جاتی ہے اُسی وقت منظرِ عام پر لے آئیں تو شاید یہ مافیا جو ہر کسی کو خرید لیتا ہے کچھ کمزور پڑ جائے ۔اب بھی کچھ لوگ بلکہ زیادہ تر لوگ کسی تبدیلی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں کیونکہ جب شیر کے منہ کو خون لگ جاتا ہے تو وہ آدم خور بن جاتا ہے یہ ہم مثال کے طور پر لکھ رہے ہیں ۔اس لئے اُسے اسی وقت قابو کر لینا چاہئے جب وہ پہلا شکار کرتا ہے ۔لیکن ہم نہ جانے کس بات کا اانتظار کرتے ہیں یہاں تک کہ ہماری ساری شخصیت اور انسانیت داغدار ہو جاتی ہے ۔نہ کہیں ملک کی اہمیت رہ جاتی ہے نہ اپنی ۔اور یہ ہی بے حسی ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچا دیا ہے کہ اب ہم برائی کو بھی زور زبردستی سے اچھائی کہنے لگے ہیں ۔
ہمیں اپنے روئیوں پر غور کرنا ہوگا ۔ہم اب بھی اُن ہی باتوں کو اہمیت دے رہے ہیں جن سے ہم نے اتنے نقصان اُٹھائے ہیں کہ کسی صورت مداوا نہیں کر پا رہے ۔غریب کیوں پستا ہے ؟؟ اس لئے کہ امیر کو اپنی دولت اور عیاشی سے فرصت نہیں ملتی کہ وہ غربت کے خاتمے کے بارے میں سوچے ۔ملک کیوں پروان نہیں چڑھتا ؟ کیوں کہ ہم ملک کو صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ہمیں اسکی بقاءسے مطلب نہیں ہے ہمیں اس سونے کی مرغی سے صرف انڈے چاہئیں ۔حکومت کرنے کے لئے اس کے عوام کی ضرورت ہے وہ بھوکے ننگے عوام جو صرف اس آس پر ہر اُس حاکم کا ساتھ دیتے ہیں جو انہیں سبز باغ دکھاتا ہے کہ مجھے لے آؤ میں تمہاری تقدیر بدل دوں گا ۔لیکن اُس کے آس پاس صرف اور صرف بھیڑئے ہی ہوتے ہیں جو نوچ کھاتے ہیں عوام کو ۔
اب شاید ہم کچھ بدل رہے ہیں یا کوشش کر رہے ہیں خود کو بدلنے کی ۔زیادہ تر عوام اب سمجھ گئے ہیں کہ اُن کے لئے کون کام کر سکتا ہے کون نہیں ؟ اب سیاسی گماشتے چکرائے ہوئے ہیں کہ کیا کریں اس لئے وہ سوائے کردار کُشی کے کچھ نہیں کر رہے ۔ہمیں خوشی ہے کہ حکومتی ارکان کی باز پرس بھی کی جارہی ہے ۔ضرور اُن سب کو سامنے لانا چاہئے جو کسی بھی صورت کسی بھی بددیانتی یا غلط کام کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔کیونکہ یہ ملک کا معاملہ ہے ہم کسی کو چھوٹ نہیں دے سکتے ۔
ایک اینکر نہ معلوم کیوں اس قدر حراساں ہے کہ چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ آؤ مجھے گرفتار کرو ۔۔ اُس کے ساتھی اُس کی پولیں کھول رہے ہیں ملک میں یہ مزہ آرہا ہے کہ جو چیخ پکار کر رہا ہے وہ اپنی ہر ڈھکی چھپی کمزوری کو اُجاگر کرنے کا باعث بن رہا ہے کیونکہ اُس کے وہ ساتھی جو کہیں نہ کہیں ڈرے یا سہمے ہوئے تھے اب کُھل کر سامنے آرہے ہیں اور ہر اُس بات پر سے پردہ اُٹھا رہے ہیں جو چھپی ہوئی تھی ۔جو بھی ملک اور اُس کے اداروں کی مخالفت میں بول رہا ہے اُس کے کرتوت سامنے لائے جارہے ہیں کہ اب ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے ۔جو جو ان مکروہ کھیلوں میں شامل ہیں سامنے لائے جائینگے ۔کچھ تو خود ہی چیخ و پکار کر کے سامنے آرہے ہیں اور کچھ لائے جارہے ہیں یہ وہ موسم ہے جو میرے ملک میں کبھی نہیں آیا ۔ہمیں یہ لگتا ہے کہ یہ موسم اگر قائم رہا تو ملک ضرور ترقی کر جائے گا کیونکہ ہر وہ شخص کُھل کر سامنے آجائیگا جس نے ملک کو کسی بھی طور کمزور کیا ہوگا ۔کہتے ہیں کہ جو ویہڈیو دکھائی گئی ہے وہ خریدی گئی ہے دروغ بر گردنِ راوی اگر ایسا ہے تو یہ بھی خود کو سامنے لا رہے ہیں کہ جو تم ہمارے بارے میں سُنتے تھے کہ ہم خرید و فروخت کرتے ہیں تو لو یہ بھی سامنے آگیا ۔لیکن ہمارا دل بہت افسردہ ہو جاتا ہے جب ہم اخلاق کی اس قدر گراوٹ سُنتے یا دیکھتے ہیں ۔اور وہ بھی اُن لوگوں سے جنہوں نے ہم پر تین ادوار حکومت کی ۔ہم کتنے بد قسمت ہیں کہ ایسے لوگوں کو اب بھی بچانے کے لئے کھڑے ہیں ؟؟؟؟
ایلکٹرانک میڈیا کا زمانہ ہے لیکن یہ ایلکٹرانک ہی بہت سی پولیں بھی کھول دیتا ہے کیا جعلی ہے کیا حقیقت ہے سب سامنے آجاتی ہے ۔ اس سے جہاں بھی چھیڑ چھاڑ کرو یہ سامنے لے آتا ہے ۔ویڈیوز کی بہار ہے شاید اس میں سے کچھ اچھے پھل پھول نکلیں ۔اور کچھ چہرے بے نقاب ہوں اور کچھ دفن ہوجائیں جھوٹ کےغبار میں ۔ویسے تو ہم جھوٹ پر بھی سزا نہیں دیتے کہیں خاتون ہونا آڑے آجاتا ہے تو کہیں بوڑھا ہونا جب کہ انصاف بے رحم ہوتا ہے وہ صرف انصاف ہوتا ہے سامنے کوئی بھی ہو ۔عدلیہ سے بھی کمزوروں کا خاتمہ ہونا چاہئے وہ کمزور جو دباؤ میں آتے ہیں یا جان پہچان سے مرعوب ہو کر فیصلہ کرتے ہیں عدل کرنا ہو تو نہ بیٹا باپ کا ، نہ باپ بیٹے کا ۔جب تک ایسا عدل نہیں ہوگا ہم ٹھیک نہیں ہوں گے ۔اب انتظار ہے کہ کب کون چھوٹتا ہے ؟؟؟؟؟
پاکستان کے وزیرِ اعظم امریکہ کے دورے پر جانے والے ہیں یہاں ہم اسے صرف اور صرف پاکستان کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔لیکن مخالف جس طرح کی باتیں کر رہیے ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہے ۔جس طرح کی باتیں اس دورے سے پہلے کی جارہی ہیں وہ ہماری دانست میں پاکستان کے حق میں نہیں جاتیں ۔آپ کو عمران خان سے بیَر ہے اُس کی پارٹی کے مخالف ہیں لیکن انٹرنیشنل میڈیا کو تو وہ مواد فراہم نہ کریں کہ آپ کا وزیرِ اعظم وہاں پاکستان کا دِفاع بھی نہ کر سکے ۔ہمیں سخت تشویش ہے کہ ہم کن ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں کیا ہمیں ہمارے لیڈر پاکستان سے زیادہ عزیز ہیں ؟ یا وہ پاکستان سے زیادہ قیمتی ہیں ؟ کہ ہم انہیں پاک صاف دکھانے کے لئے اپنی ریاست کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں بلا سوچے سمجھے ۔ ہمیں لگتا ہے کہ پاکستان کی عزت اور اس کی ترقی کے خواہاں لوگ کبھی بھی اس دورے کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیں کریں گے ،ہمیں حزبِ مخالف سے بھی یہ ہی امید ہے کہ وہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں نہیں ڈالیں گے ۔عدلیہ اپنا کام کر رہی ہے اگر کوئی بے قصور ہے تو اس کے لئے سب کھڑے ہو جائیں گے کہ غلط سزا نہ دی جائے مگر جہاں اتنی شھادتیں ہوں وہاں ملزموں کی تعریف میں آسمان زمین کے قلابے ملانا اور انہیں معصوم بنانا کہاں کی عقلمندی ہے ۔
پاکستان ہم سب کا ہے اگر یہ دنیا کے کسی ملک میں اپنی شناخت بناتا ہے تو یہ ہم سب ہی کا اعزاز ہے ۔ہم سب پاکستانی ہیں ہمیں پاکستانی بن کر سوچنا چاہئے ۔اختلاف کیجئے ضرور کیجئے مگر اب سنبھل جائے ۔پارٹیاں کوئی بری نہیں ہیں ان میں بہت اچھے اور سمجھدار لوگ بھی ہیں لیکن چند لوگوں کی سوچ کے آگے اس طرح جھک جانا کوئی اچھائی نہیں ہے ۔ ہمارے سامنے ہیں وہ ممالک جن کے انتشار انہیں لے ڈوبے ۔جمہوریت کو مضبوط کریں ۔اس کو ختم کرنے کی کوشش نہ کریں یہ ہی ہم سب کے لئے بہتر ہوگا ۔ہم سب کو ہی سوچنا ہوگا کہ ہم خود کو بدلنے کے لئے کتنے تیار ہیں ۔یہ سارے سیاست دان ہماررے سامنے ہیں جنہیں صرف اور صرف اپنے لیڈر سے غرض ہے انہیں اس کا کوئی دکھ نہیں ہے کہ اُن کے لیڈروں نے ملک کے ساتھ کیا کیا ۔انہیں صرف یہ معلوم ہے کہ حکومت اگر ہماری نہ ہو تو نہ چلنے دو ۔نہ کام کرنے دو ۔اب اس سوچ کو بھی بدلنا ہوگا ۔اگر آپ سب نے اپنے لیڈروں وک قابلِ جواب دہی بنایا ہوتا تو ہم یہ سب نہ بھگت رہے ہوتے جو آج ہو رہا ہے ۔ہمارا ملک بھی جمہوریت کی راہ پر چل رہا ہوتا جہاں سب ہی خوشحال بھی ہوتے اور تعلیم کے زیور سے آراستہ بھی ہوتے ۔اسپتال بھی ٹھیک ہوتے اور سڑکیں بھی پر رونق ہوتیں ۔
ہمارے مسائل اتنے گھمبیر نہ ہوتے جتنے آج ہیں کہ جس پتھر کو اُٹھائیں کرپشن کا اژ دہا پھنکارنے لگتا ہے ۔اور ہم دوسرے پر الزام دھر کر سرخرو ہو جاتے ہیں ۔
ہمارا ایک مشورہ ہے جناب وزیرِ اعظم صاحب اور اُن کے رفقاء کو کہ آپ کو چاہئے کہ ہر دورے کے بعد جو کچھ اُس دورے پر کرچ ہواہے سب کے سامنے رکھیں تاکہ کل کو کوئی آپ کے دروں کی قیمت نہ بتاتا پھرے ۔یہ ایک اچھی اور مثبت روایت ہوگی جسے آپ قائم کر سکتے ہیں ۔
پاکستان زندہ باد
ہم بدل رہے ہیں,عالم آرا
551
0












