امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ انتظامیہ سے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کے خلاف تحقیقات کروانا چاہتے ہیں کہ گوگل چینی حکومت کے ساتھ کام کررہا ہے یا نہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیٹر تھائیل کی جانب سے غیرمصدقہ بیان دیا کہ گوگل چینی حکومت یا فوج کے ساتھ کام کررہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ’ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے والے پیٹیر تھائیل کا ماننا ہے کہ گوگل کے خلاف غداری کے تحقیقات ہونی چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ’ یہ بات ایک عظیم اور بہترین شخص نے کہی ہے جو ٹیکنالوجی کو کسی سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے کو دیکھے گی‘۔

اس حوالے سے گوگل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور تحقیقات سے متعلق پیٹر تھائیل کے مقاصد پر سوال اٹھایا جو ایک طویل عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔

گوگل نے اے ایف پی کو دیے گئے بیان میں کہا کہ ’ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ہم چینی فوج کے ساتھ کام نہیں کرتے‘۔

2010 میں چین کی جانب سے سرچ کے نتائج کو سینسر کرنے کی کوششوں کی وجہ سےگوگل نے چین سے سرچ انجن کا خاتمہ کردیا تھا۔

حال ہی میں گوگل نے چین کے لیے ترمیم شدہ ورژن پر تحقیق کا آغاز کیا تھا لیکن اس سرچ انجن کو بیجنگ میں استعمال کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

گوگل چین میں اپنا کاروبار محدود کرچکا ہے لیکن رواں سال جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے ایک سائنسدان نے ایک تحقیقی منصوبے میں شرکت کی تھی جس میں شہری اور ملٹری دونوں ایپلیکیشنز موجود ہوسکتی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY