حالیہ واقعات نے جہاں صورت حال کو بہت گنجلک کر دیا وہیں ایک گرہ کھل کر اس بات کو سامنے لے آئی ہے کہ سابقہ وزیر اعظم اور حالیہ سزا یافتہ مجرم نواز شریف کوئی عام شخص نہیں بلکہ ایک عامل اور جادوگر ہے ایک ایسا جادوگر اور عامل جس نے بہت سارے موکلین کو اپنے عمل کے ذریعے قبضے میں کر رکھا ہے انہی موکلین میں سے ایک نے نواز شریف کو برسوں پہلے یہ بتا دیا تھا کہ برسوں بعد جب وہ برسر اقتدار ہو گا تو اس کے خلاف ایک کیس بنے گا جس کی سماعت احتساب عدالت اسلام آباد کے ایک محترم جج صاحب کریں گے جو لمحہ موجود میں ایڈیشنل سیشن جج ملتان کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں چنانچہ پرویز مشرف کی جانب سے جلاوطن کیئے گئے نواز شریف نے ملک سے کوسوں دور ہوتے ہوئے اپنے ایک موکل کی ڈیوٹی لگائی اور اس موکل نے ملتان کے ایک وڈیو بنانے والے کی خدمات حاصل کر کے محترم ایڈیشنل سیشن جج کی ایک قابل اعتراض وڈیو بنا لی جو کہ موکل کے ذریعے بیرون ملک مقیم جادوگر نواز شریف تک پہنچ گئی جس نے اس وڈیو کو ایک لاکر میں محفوظ کر لیا کہ بوقت ضرورت استعمال میں لائی جائے گی –
کرنی خدا کی کچھ یوں ہوئی کہ وقت اور حالات نے پلٹا کھایا اور جلاوطن نواز شریف نہ صرف وطن واپس لوٹ آئے بلکہ اقتدار بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے مگر اب کی بار اس کا مقابلہ نہ تو دوراندیش محترمہ بے نظیر بھٹو سے تھا اور نہ ہی مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری اس کے مقابل تھے بلکہ انا پرست عمران خان نئی قیادت کے روپ میں سامنے آ چکے تھے جنہوں نے نواز شریف کو اقتدار کے ایوانوں سے نکالنے کے لئے پہلے تو ایک طویل ترین دھرنا دیا مگر جب پھر بھی وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو اسلام آباد کو بند کرنے کی کال دے بیٹھے اور اسی دوران میں ایک کھوجی صحافی عمر چیمہ پاناما کا ہنگامہ کھڑا کر بیٹھا یہ ہنگامہ عدالت عظمی تک پہنچا اور بالآخر نواز شریف کو اقتدار کے ایوانوں سے نکالتا ہوا اسلام آباد کی احتساب عدالت تک لے آیا جہاں نیب کی جانب سے دائر کردہ دو ریفرنسسز میں سے ایک فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں نواز شریف بری ہوگئے اور دوسرے العزیزیہ میں انہیں سات سال کی سزا سنا دی گئی سزا بھگتنے کے لئے لندن میں موجود نواز شریف اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر اڈیالہ جیل پہنچ گئے اور پھر وہاں سے ایک عدالتی حکم کے تحت کوٹ لکھ پت جیل لاہور منتقل ہو گئے اسی دوران جب ان کی طبیعت زیادہ ناساز ہوئی تو عدالت عظمی نے انہیں علاج کی غرض سے چھ ہفتے کے لئے ضمانت پر رہا کر دیا –
جیل سے وقتی آزادی ملی تو نواز شریف ذہنی دباؤ سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ایسے میں انہوں نے اپنے موکلین کی میٹنگ کال کی اور تمام صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہوئے مشورہ طلب کیا کہ اب کیا کرنا چاہیے برسوں پہلے ملتان میں وڈیو بنانے والے موکل نے انہیں یاد دلایا کہ حضور والا جس جج نے جناب کو سزا سنائی ہے یہ وہی جج ہے جس کی جناب نے مجھ ناچیز کے ذریعے 2002/2003 میں ایک وڈیو بنوائی تھی یہ سننا تھا کہ نواز شریف نے موکل کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ لگاتے ہوئے کہا ڈیڑھ سال کیس چلتا رہا اور اب جب کہ فیصلہ ہوئے بھی چار ماہ ہو گئے تو تمہیں یاد آیا موکل نے گال سہلاتے ہوئے کہا سرکار اب بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے جج صاحب سے کہلوایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ثبوت نہ ہونے کے باوجود فیصلہ دباو کے تحت آپ کے خلاف دیا یہ سننا تھا کہ ذہنوں میں کھچڑی پکنی شروع ہو گئی اور پھر وہ ہوا جو اب تک سب کے سامنے آ چکا ہے-
نواز شریف کی جادوگری اور اس کے موکلوں کے دباو کے تحت معصوم اور بھولے بھولے جج صاحب اپنی شرمندگی اور ضمیر پر بوجھ کا اظہار وڈیو میں کرتے نظر آئے نہ صرف یہ بلکہ اپنے ہی دیئے ہوئے فیصلے کے خلاف اپیل کی تیاری میں مشورے دینے کے لئے نواز شریف کے موکلین کے ساتھ انہوں نے اسلام آباد سے جاتی امراء لاہور کا سفر کیا اور اپنے ہی قلم سے مجرم ٹھہرائے نواز شریف کو مفید مشوروں سے نوازا اگر اسی پر سلسلہ رک جاتا تو شائید بات دور تک نہ جاتی مگر عامل اور جادوگر نواز شریف کے موکلین کی کارکردگی اتنی عمدہ رہی کہ محترم جج صاحب جب مکہ میں اللہ کے گھر حاضری دے کر مدینہ پہنچے تو حسین نواز کے در دولت پر بھی جا پہنچے جہاں اہل خانہ سمیت یورپ کے کسی ملک میں مستقل منتقلی اور پچیس سے پچاس کروڑ روپے کے حوالے سے معاملات پر گفتگو ہوئی یہ تمام وہ باتیں ہیں جو خود محترم جج نے اپنے بیان حلفی میں درج فرمائی ہیں اور میڈیا کے ذریعے خلق خدا تک پہنچ چکی ہیں-
درج بالا تمام کہانی پر اگر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کیا جائے تو انسان نواز شریف کی جادوگری کا قائل ہو جاتا ہے جو ایک ایسے محترم جج کو جسے من چاہی سیکیورٹی حاصل ہے اتنی سخت سیکیورٹی کہ کیس کی سماعت کے دوران ایک موقع پر اس وقت کے وزیر داخلہ احسن اقبال کو ان کی وزارت کے ماتحت کام کرنے والا ایک سیکیورٹی ادارہ عدالت تک تو کیا جوڈیشل کمپلیکس کے گیٹ تک سے اندر داخل نہیں ہونے دیتا ایسی سیکیورٹی میں جج صاحب جادوگر نواز شریف کے موکلین سے ایک نہیں بیسیوں ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی اسلام آباد سے جاتی امراء لاہور کا سفر بھی کسی کی نظروں میں آئے بغیر ہو جاتا ہے اور سکون ذہن و اطمینان قلب کی غرض سے کیا جانے والا ارض مقدس کا سفر بھی جج صاحب کے لئے مزید ذہنی پریشانی کا سبب بنا دیا جاتا ہے مگر محترم جج اتنے صابر پائے جاتے ہیں کہ وہ یہ تمام دباو اور تناو اکیلے اپنی ننھی سی جان پر برداشت کیئے چلے جاتے ہیں نہ تو اپنے براہ راست باس اسلام آباد ہائی کورٹ کے محترم چیف جسٹس کے علم میں لاتے ہیں اور نہ ہی نواز شریف ریفرنسسز کی نگرانی پر معمور عدالت عظمی کے محترم جسٹس تک شکایت پہنچاتے ہیں –
یہ الف لیلوی داستان سننے کے بعد بندہ اس بات کا قائل ہو جاتا ہے کہ نواز شریف کوئی عام انسان نہیں بلکہ ایک ماہر عامل اور جادوگر ہے جو کسی بھی قسم کے حالات میں کچھ بھی کر سکتا ہے اب دیکھیں عامل اور جادوگر نواز شریف کب اپنے جادو کے زور پر جیل کی سلاخوں سے باہر آتا ہے













