پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی وردی پہن کر 200 سےزائد اسٹریٹ کرائمز کرنے والے بین الاقومی گروہ کے 3 کارندوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہسر نے بتایا کہ گروہ کے زیرحراست 3 مشتبہ افراد کے نام علی، رضا اور عدنان ہیں۔
اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ’ڈکیتوں کا بین الاقوامی گروہ‘ پولیس کی وردی پہن کر شہر کے مختلف علاقوں میں واردات کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ زیر حراست مشتبہ افراد میں گینگ کے لیڈر علی بھی شامل ہے جو کرایے پر حاصل کی گئی کاروں پر واردات کرتا تھا۔ ایس ایس پی ایسٹ نے بتایا کہ گینگ نے مجموعی طور پر تقریباً 200 ڈکیتیاں کیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’گینگ کے کارندوں نے اٹلی، ترکی، سعودی عرب، دبئی سمیت دیگر ممالک میں بھی جرائم کیے‘۔
اظفر مہسر نے بتایا کہ گینگ 8 کارندوں پر مشتمل ہے جو زیادہ تر بینک اور منی چینجر سے نقدی نکالنے والے شہریوں کو نشانہ بناتے تھے۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ ’گینگ کے کارندوں کے پاس سے پولیس سروس کارڈ بھی برآمد ہوئے‘۔
انہوں نے بتایا کہ زیر حراست مشتبہ افراد غیرقانونی طریقے سے پاکستان میں داخل ہوتے اور واردات کے بعد ایران فرار ہوجاتے تھے۔
پولیس نے دعویٰ کیا کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور 3 لاکھ روپے نقد برآمد کیے جو انہوں نے ناگن چورنگی سے چھینے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزمان سے پولیس یونیفارم، پولیس کیپ اور 9 جعلی پولیس نمبر پلیٹ بھی برآمد کرلی گئی۔
ایس ایس پی ایسٹ نے ابتدائی تفتیش سے متعلق بتایا کہ ملزمان کے نزدیک پاکستان میں واردات ’آسان ہدف‘ تھا۔
دوسری جانب آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے ائیرپورٹ، ریلوے اسٹیشنوں،بس اڈوں پر پولیس اہلکاروں کا روپ میں ڈکیتی کرنیوالے ’ایرانی ڈکیت گروہ‘ کے 3 ڈاکوؤں کی گرفتاری پر ایس ایس پی ایسٹ اور ان کی ٹیم کو شاندار کامیابی پر خراج تحسین پیش کیا۔
آئی جی سندھ نے موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کرنے والے ڈکیت گینگ کے 5 ملزمان کی گرفتاری پر ایس ایس پی، اے وی سی سی اوران کی ٹیم کی کارکردگی کوسراہتے ہوئے شاباش دی












