عام انتخابات کو ایک سال مکمل ہونے پر حکمراں جماعت تحریک انصاف آج یوم تشکر اور حزب اختلاف کی بیشتر جماعتیں یوم سیاہ منارہی ہیں۔
پچیس جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ تحریک انصاف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آئی بلکہ اس کامیابی کے پس پردہ غیر جمہوری قوتیں کار فرماں ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے خلاف مل کر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے ایک رہبر کمیٹی قائم کی گئی جس کے فیصلے کے مطابق آج کا دن بطور یوم سیاہ منایا جائے گا اور ملک کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں احتجاج اور جلسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔
اپوزیشن جماعتوں میں شامل مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، جمعیت علما اسلام (ف)، عوامی نیشنل پارٹی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی اور جمعیت اہلحدیث انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور حکومت کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہیں۔
متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے لاہور کے چیئرنگ کراس پر جلسے کا انعقاد ہونے جارہا ہے جب کہ جمعیت علما اسلام (ف) پشاور میں میدان سجائے گی۔
اپوزیشن قیادت کی جانب سے اب تک واضح نہیں ہے کہ کون کس مقام پر خطاب کرے گا لیکن مسلم لیگ (ن) کے سوشل میڈیا پیج پر مریم نواز کے پوسٹر جاری کیے گئے ہیں۔ جس کے مطابق وہ آج کوئٹہ میں جلسے سے خطاب کریں گی۔
اسی طرح کراچی میں بھی احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔













