زندگی میں محاذ کوئی بھی ہو۔ فائزہ عباس

0
1205

زندگی میں محاذ کوئی بھی ہو۔ ۔ ۔
آسانیاں جتنی بھی ہوں۔ ۔ ۔
لڑائی کوئی بھی ہو ۔ ۔ ۔
منزل کوئی بھی ہو۔ ۔ ۔ ۔
اسکی جانب بڑھنا انسان کو اکیلے ہی پڑتا ہے۔ ۔ ۔
رشتے طاقت یا کمزوری بن جاتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
ہمت دیتے ہیں یا چھین۔ ۔ ۔
لیتے ہیں۔ ۔ ۔
فیصلے خود ہی کرنا ہوتے ہیں۔ ۔ ۔
اور چلنا بھی خود ہی ہوتا ہے۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔پڑاو جتنے بھی آئیں بکھرنا یا نکھرنا خود ہی ہوتا ہے۔ ۔ ۔
ہم سب پزلز کے وہ حصے ہیں جو ایک مخصوص اہمییت اور منظر کیطرح ایک تصویر کو مکمل کرتے ہیں مگر ایک حصہ دوسرے کی جگہ نہیں ہوتا ہر حصے کی اپنی شکل۔ ۔ ۔اپنی پہچان۔ ۔ ۔اپنا منظر ہوتا ہے۔ ۔ ۔
ہر انسان ایک اکیلی۔ ۔ ۔ مکمل ۔۔جدا اور الگ شنا خت رکھتا ہے۔ ۔ ۔
ہر انسان کی اپنی ذاتی انفرادی جنگ۔ ۔ ۔الگ ہے۔ ۔ ۔
مجموعی اور اجتماعی الگ۔ ۔ ۔

مگر ہر انسان بحیثیت انسان اکیلا ہی ہے اور ہم اکثر اسے معیوب محسوس کرتے ہیں ہمارے ساتھ جتنے بھی لوگ ہوں مگر اصل ساتھ ہمارا اپنے ساتھ ہوتا ہے۔ ۔ ۔

اصل تعلق انسان کا خود سے ہوتا ہے انسان کی جہد ۔ ۔ ۔اسکے رستے۔ ۔ ۔اسکی جنگ اسے خود ہی لڑنا ہوتی ہے ۔ ۔ ۔اور جو لوگ یہ بات جلدی سمجھ لیتے ہیں اتنا ہی پریشانیوں سے بچ جاتے ہیں۔ ۔ ۔اور جو نہیں سمجھ پاتے الجھے رہتے ہیں اور مزید الجھنے بناتے رہتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

اس لیے اصل سفر انسان کا خود کی زات سے خود تک کا ہے اور اس بیچ جو منزل اور اھداف زندگی وہ رکھتا ہے ۔ ۔ ۔ اور اسکے اخلاص اور فیصلوں سے، اسکے عمل اور حوصلوں سے، اسکی دور اندیشی، اسکی بصیرت اس انسان کی’ قیمت’، طے کرتی ہے ۔ ۔ ۔

کے اسکی قیمت جنت رہی یا قرب الہی
اسکی قیمت رتبہ، اختیار، دولت، لزتیں رہیں یا کے اپنی منزل سے وفا داری کے، کی ہر لزت کا ایک انجام ہوتا ہے، جیسی لزت انسان خود کے لیے چاہے گا ویسا ہی انجام ہو گا ۔ ۔ ۔
جو کھانے کی لزت میں گرفتار ہوں تو کھانے کا انجام اخر کار گندگی ہے، گٹر ہے، ضروروت یا مناسب حد کے استعمال اور اسکی غلامی میں بہت فرق ہوتا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ ہم طبیعت کے غلام ہوجاتے ہیں اور طبیعت کا غلام شخص اپنی فطرت جو کے پاکیزہ، طاہر، شرف انسانییت کا عروج ہے اسے کھو بیٹھتے ہیں، سو اصل جنگ انسان کی خود کی منفی رحجان یا طبیعت کی غلامی سے ہے کے رب نے فطرت سب کی ایک رکھی ہے، رحجان برا اور اچھا دونوں ہی رکھے ہیں یعنی انسان برائ اور اچھائی دونوں طرف مائل ہوتا ہے پر فیصلے کا اختیار کے کیا چنتا ہے اس پل میں انسان کی رب کے سامنے قیمت کا اظہار کرتا ہے ۔ ۔ ۔

اسلیےانسان کو ہر وقت شعور کو استعمال میں لانا چاہییے اور جو اپنے شعور کو علم، طہارت،، حکمت، عشق کی غزا دیتے ہیں انکے دل اچھائی کی جانب خود بخود مائل ہوتے ہیں اور جب دل مائل ہو جاییں تو روح تکلیف محسوس نہیں کرتی اپنی فطرت کے اظہار میں اور اپنے اپ قدم اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ رب کے قرب کی جانب۔ ۔ ۔
اسکے عشق میں۔ ۔ ۔ طہارت و پاکیزگی کی طرف پھر بھلے ارد گرد کیسے بھی میلے ہوں سکون پاکیزگی کے حصار، طہارت کے آنچل، رب کیساتھ کے احساس کی دلفریب و حسین کاینات ہی میں ملتا ہے ۔ ۔ ۔ کے عاشق کبھی محبوب کی پسند و رضا کے برعکس نہیں کرتے اور عشق بنا معرفت عیب ہے اور معرفت کی سیڑھیوں کو صبر و رضا اور رب کے لطف کے احساس کے تلے چڑھنے والے کبھی تھکتے نہیں بلکہ انکے وجود میں ایسا حسن جنم لیتا ہے جہاں سکون، محبت، لطف، پاکیزگی، دردمندی، جنم لیتے ہیں ۔ ۔ ۔یہ مواقع ہر انسان کو میسر آتے ہیں بس اپنانے والے شعوری انتخاب اور توفیق رب کے تحت بروقت اس لمحے کو پہچان لیتے ہیں اور بہت سے ان لمحوں کو غفلت، نادانی، بےصبری جلد بازی کی نظر کر دیتے ہیں ۔ ۔ ۔

چونکہ وقت بھی قیمت رکھتا ہے اور رب کی عطا کردہ بیش قیمت نعمتوں میں سے ہے اس لیے ایک تو وہ وقت جو ہمیں رب سے جوڑ رہا ہو بھلے ازیت، کرب، چوٹ ہی کیوں نہ ہو اسے رب کا انعام ہی سمجھنا چاہییے اور وہ وقت جو رب سے کاٹ رہا ہو بھلے ہر سہولت، سکھ، اسانی، واہ واہ ہی کیوں نہ ہو اس سے پناہ مانگ لینی چاہییے کے قرب کے لمحے لطف الہی ہیں ۔ ۔ ۔اور اپنے ہر پل کو رب سے جوڑے رکھنا چاہییے جب تقوی کا لباس اوڑھ لیا جائے تو پھت انسان خود کو کسی پل بھی رب سے الگ نہیں سمجھ سکتا اسکی حکومت سے باہر نہیں سوچ سکتا۔ ۔ ۔

اور یہ کے۔ ۔ ۔

جینے کے لیے جینے کی تڑپ لازم ہے،
اور ۔ ۔ ۔
تڑپ وہ خواب ہے دل کا کے جب وہ
روٹھ جائے تو باقی کچھ نہیں بچتا!!!

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY