امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پانامہ کینال کا کنٹرول حاصل کرنے کے بیان کی وجہ سے یہ اہم تجارتی گزر گاہ ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
پانامہ کینال بحرِ اوقیانوس (اٹلانٹک) اور بحر الکاہل (پیسیفک) کو ملانے کے لیے بنایا گیا راستہ ہے جس کا کنٹرول وسطی اور جنوبی امریکہ کے سنگم پر واقع ملک پانامہ کے پاس ہے اور وہ یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے اس گزرگاہ کی فیس وصول کرتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ پانامہ نے اگر اس راستے کے استعمال پر عائد فیس میں کیا گیا اضافہ ختم نہیں کیا تو وہ اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کینال کا کنٹرول فوری اور غیر مشروط طور پر واپس لینے کا مطالبہ کریں گے۔
امریکہ نے 1977 میں اس کینال کا کنٹرول پانامہ کے سپرد کرنے کا معاہدہ کیا تھا جس پر 1999 میں عمل درآمد ہوا۔ یہ معاہدہ تھا کیا اور امریکہ کیوں پانامہ کینال سے دستبردار ہوا، اس کا پس منظر جاننے کے لیے اس کینال کی تاریخ کو سمجھنا ضروری ہے۔













