ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حادثے کے شکار طیارے میں پہلے سے فنی خرابی تھی، فنی خرابی میں نشاندہی کے باوجود طیارے کو اگلی پرواز پر چترال بھیج دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آخری پرواز کے دوران طیارے کا ایک انجن الٹا گھومنے لگا تھا، کیپٹن نے سنگین فنی خرابی کو لاگ بک میں تحریر بھی کیا تھا
ادھر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے گزشتہ روز حویلیاں کے قریب پاکستان ائیر لائنز کے اے ٹی آر طیارے کے حادثے کے حوالے سے غیر مصدقہ آڈیو کلپ چلانے پر نجی ٹی وی چینل کو نوٹس جاری کردیا۔
پیمرا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نجی چینل 24 نے 7 دسمبر کو بریکنگ نیوز میں پی آئی اے کے طیارے کی حادثے کی رپورٹنگ کے دوران جہاز کے کریش ہونے سے چند لمحے پہلے اس میں سوار مسافروں کی مبینہ چیخ پکار نشر کی جس پر ناظرین نے پیمرا کو شکایات درج کروا کے کارروائی کا مطالبہ کیا۔
نوٹس میں چینل انتظامیہ سے ثبوت طلب کیے گئے ہیں کہ مذکورہ آڈیو کلپ پی آئی اے کے تباہ ہونے والے طیارے کے پسینجر کیبن کا ہے اور وہاں سے یہ ریکارڈ ہوکر چینل تک کیسے پہنچا جبکہ اس کے درست ہونے کی تصدیق کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔
پیمرا نے چینل کے اس اقدام کو پیمرا قوانین کی مختلف شقوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے 15 دسمبر تک جواب طلب کرلیا ہے اور جواب نہ دینے پر یکطرفہ کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
جواب جمع نہ کرانے یا اتھارٹی کو مطمئن نہ کرنے پر جرمانے یا لائسنس معطل کرنے کا انتباہ کیا ہے۔













