قصور وار کون ۔سید کوثر کاظمی ، لندن

0
342

پانامہ کا قصہ اقامہ پر ختم ہوا تو ملک سے کرپشن کے خاتمے کی امید لگاے معصوم عوام حیران رہ گئے .ایک عرصہ تک پانامہ ہر محفل کا موضوع گفتگو بنا رہا پرنٹ میڈیا ھو یا الیکٹرانک یہی تاثر دیا جاتا رہا جیسے اس کے سوا ملک کا کوئی اور مسلۂ ہی نہیں اور جیسے ہی اس کا فیصلہ آے گا ملک سے کرپشن کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ھو جائے گا اعلی عدلیہ بھی یہی کہتی رھی کے ایسا فیصلہ دیں گے جو صدیوں یاد رکھا جائے گا .پھر فیصلہ آیا لیکن شدت سے اس کے انتظار میں میں بیٹھے عوام کی سمجھ میں کچھ نا آیا کیوں کے پہلے تو انھیں بہت وقت لگا پانامہ سمجھنے میں اور جب فیصلہ آیا تو اس میں پانامہ کی گھونج کم اور اقامہ کا دھماکہ زیادہ تھا

پھر اہل فکر یہ سوچنے پر مجبور ھو گئے کے اقامہ پانامہ کو بنیاد بنا کر ایک ایسے شخص کو ہٹانے کی کوشیش تو نہیں کی جا رہی جو سیاسی طور پر ووٹ کے زریعے ناقابل تسخیر ہے اور یہ کے یہ سارا دباؤ جو موجودہ حالات میں نظر آ رہا ہے ایک فرد پر ہے یا سول بالا دستی کے خاتمے کے لیے اور اس بات کو تقویت اس وقت ملی جب لاہور کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی الیکشن میں کچھ نادیدہ قوتوں کی جانب سے سیاست میں پھر مذہبی انتہا پسندی کو اپنے فوائد کے لیے استعمال کیا گیا
ایسے حالات میں یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کے ان تمام عوامل کے پیچھے وہ ہی غیر جمہوری طاقتیں کارفرما ہیں جنہوں نے 70 سالوں سے کسی منتخب وزیر اعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی

ان غیر جمہوری قوتوں کے غیر جمہوری اقدام کو ھر دور میں تھوڑی بہت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر بالآخر ان کی طاقت جیتتی رہی اور جمہوریت ہارتی رہی
جمہوریت کے ہارنے میں قصور بھی ہمیشہ جمہوری طاقتوں کا رہا ہے جب انھیں وقت اور موقع ملتا ہے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ کرنے کا اپنے روٹی کپڑا مکان اور روزگار کے وعدے جو ووٹ کے حصول کے لیے کئے گئے تھے پورے کرنے کا تو ہمیشہ عوامی مفاد کو ذاتی و پارٹی مفاد پر قربان کر دیا جاتا ہے اور عوام کا اعتبار جمہوریت سے اٹھ جاتا ہے اور آوازیں بلند ہونا شروع ھو جاتی ہیں کے آمرانہ دور عوام کے لیے بہتر تھا

پھر زرداری دور ھو یا میاں نواز شریف کا لوگ آٹا چینی دال چاول کے باؤ کا موازنہ مشرف دور سے کرتے نظر اتے ہیں کے کتنا سستا تھا مشرف کا دور .اس آمرانہ دور سے ملک کو کتنا نقصان پہنچا اس کی خبر تک نہیں سادہ عوام کو اور اسمیں بھی قصور جمہوری طاقتوں کا ہے کیوں کے روٹی کپڑا مکان اور روزگار کا نعرہ صرف ووٹ کے حصول کے لیے لگا اور عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل اور فلاح کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھاے گئے ایسی صورت حال میں غریب عوام جمہوریت اور آمریت کا موازنہ آٹا دال چاول اور چینی سے نا کریں تو اور کیا کریں
موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کے ملک کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں مل بیٹھیں اور اپنی ماضی کی غلطیوں کو نا صرف تسلیم کریں بلکے ان پر قوم سے معافی مانگتے ہوۓ غیر جمہوری طاقتوں کا راستہ مل کر روکیں
ورنہ اگلے ستر سالوں میں بھی کوئی منتخب وزیر اعظم اپنی مدت پورے نہیں کر سکے گا

سید کوثر کاظمی ۔لندن

SHARE

LEAVE A REPLY