طارق بٹ,گاڑی کو چلانا بابو

0
68

یادش بخیر کہ12 اگست 2017 کو اس ناچیز قلم کار نے اپنے کالم ” گاڑی کے پیچھے لٹکتا وزیر اعظم ” کا آغاز کچھ یوں کیا تھا ” میری یاداشت اگر دھوکہ نہیں دیتی جو اکثر اس عمر میں دیا کرتی ہے تو بات 26 نومبر 2007 کی ہے کہ میری گناہ گار آنکھوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں آنکھوں نے وہ منظر دیکھا ہو گا کہ اس وقت کے حکمران جنرل پرویز مشرف کے احکامات کے تحت ملک بدر کیا ہوا سابقہ وزیر اعظم نواز شریف جلا وطنی کی زندگی ترک کر کے ایک بار پھر مادر وطن کی چھاتی پر اپنے قدم رکھتا ہے ائرپورٹ پر کوئی زیادہ ہجوم نہیں ہے مگر لوگ استقبال کے لئے موجود ہیں ان کے نعروں کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف اپنی گاڑی میں بیٹھ کر ائرپورٹ سے باہر جانے لگتے ہیں ۔ گاڑی چل پڑتی ہے کیمرہ گاڑی کے پیچھے بھاگتے ایک لمبے تڑنگے شخص پر ہے یہ لمبا تڑنگا شخص چند قدم تیز تیز بھاگتا ہوا گاڑی کے پچھلے پائیدان پر پاوں جما کر لٹک جاتا ہے اور گاڑی ائرپورٹ سے باہر نکل کر اپنی منزل کی طرف رواں ہو جاتی ہے ۔ اس وقت کون کہہ سکتا تھا کہ گاڑی کے پیچھے لٹکنے والا یہ شخص زندگی کے کسی موڑ پر مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم بن جائے گا ۔ جی ہاں بالکل ٹھیک پہچانا آپ نے اپنے قائد میاں محمد نواز شریف سے والہانہ محبت اور عقیدت رکھنے والا یہ نوجوان کوئی اور نہیں آج کا وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان شاہد خاقان عباسی تھا “۔

شاہد خاقان عباسی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر کیا بیٹھے کہ خود ڈرائیونگ کا از حد شوق رکھنے والے چودھری نثار علی خان نے بحثیت ایک مسافر گاڑی میں بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا اور یوں وہ حکومت کے آخری سال میں اپنی ہی جماعت کی حکومت کا حصہ نہ رہے۔ مگر ڈرائیونگ کا شوق پورا کرنے کے لئے اپنی جماعت کے قائد نواز شریف، اپنے دوست شہبازشریف اور اسحاق ڈار کو JIT میں پیشی کے وقت بڑی مہارت سے گاڑی چلاتے ہوئے پیش کرتے رہے ۔ حالانکہ وہ نواز شریف کو مشورہ ہمیشہ یہی دیتے رہے کہ انہیں JIT میں پیش نہیں ہونا چاہئے مگر نواز شریف اپنے کیس کا سامنا کر کے سرخرو ہونا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے چودھری نثار علی خان کی ایک نہ مانی۔ اور بالآخر چودھری صاحب نے میاں صاحب کی گاڑی سے اتر کر جیپ کے ذریعے منزل مقصود کو پانے کی ٹھان لی ۔

ملکی سیاست سے دلچسپی رکھنے والے محترم قارئین کو اچھی طرح یاد ہو گا کہ 1997 کے انتخابات میں تانگے کا انتخابی نشان مشہور ہوا تھا بالکل ویسے ہی جیسے 2002 میں چاند کا انتخابی نشان اور 2013 میں ہر آزاد امیدوار بالٹی کے انتخابی نشان پر میدان میں اترنے کی تگ و دو میں مصروف دیکھا گیا اب چودھری نثار علی خان نے جیپ کا انتخاب کیا لیا کہ آزاد امیدواروں کی امید بر آئی اور انہوں نے جوق در جوق لبیک کہتے ہوئے جیپ کے انتخابی نشان پر حق جتانا شروع کر دیا کہ جن کے ساتھ جماعت کی طاقت اور عوام کی حمایت نہ ہو وہ اسی طور اپنا خود ساختہ حق حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ تاریخ ہمیں کچھ مختلف حقائق سے روشناس کرواتی ہے ۔ 1997 کی انتخابی دوڑ میں تانگہ باوجود تمام تر سہولیات اور صاف شفاف راستے کے بہت پیچھے رہ گیا اور سہولیات فراہم کرنے والوں کو شدید مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا ۔ کچھ ایسی ہی صورت حال کا سامنا 2002 میں ملک کے کونے کونے میں چن چڑھانے والوں کو کرنا پڑا کہ بڑی مشکل سے ایک ووٹ کی سادہ اکثریت سے حکومت بن پائی اور پھر ملک نے پانچ سالہ دور میں پہلی بار تین وزرائے اعظم کا بوجھ برداشت کیا جو سوائے اپنے زمینی تخلیق کار کو خوش رکھنے کے کچھ بھی نہ کر پائے ۔ کہ کٹھ پتلیوں میں خود سے حرکت کرنے کی صلاحیت نہیں ہوا کرتی۔ ان تجربات سے کوئی بھی سبق نہ سیکھنے کا تہیہ کر رکھنے والوں نے 2013 میں اقتدار کے دریا کو بالٹی میں بند کرنےکی کوشش کی مگر ٹھاٹھیں مارتے دریا کو بالٹی میں مقید کرنے کی احمقانہ کوششیں انتہائی برے طریقے سے ناکام ثابت ہوئیں اور تقریبا ساری بالٹیوں کا پانی شیر کی پیاس بجھانے میں ممدومعاون ثابت ہوا جب کہ بالٹیوں کے کاریگر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہ گئے اور کچھ بھی نہ کر پائے۔

وقت موجود کے زمینی حقائق اور انتہائی بلندی پر پہنچے ہوئے عوامی شعور کو پس پشت ڈال کر ایک بار پھر ماہر کاریگروں نے ایک جیپ تیار کر لی ہے جس کی ڈرائیونگ سیٹ انتہائی منجھے ہوئے ڈرائیور چودھری نثار علی خان کے حوالے کی جا رہی ہے اس جیپ اور اس کے ساتھ ٹو چین ہو کر سفر پر روانہ ہونے والی دیگر جیپوں کے مسافروں کا انتظام بھی ہو گیا ہے جیپ میں سوار ہونے سے انکاری پریشانی میں مبتلا ہیں کہ کسی کا ڈیڑھ کنال زمین کا کیس کھل گیا ہے تو کسی کو محکمہ زراعت کے اہلکار سر عام تھپڑ رسید کر رہے ہیں کوئی معصوم بچے کو باہر چھوڑ کر خود پیشی بھگتنے جاتا ہے تو اسے اندر ہی رکھ لیا جاتا ہے اور بارہ سالہ معصوم بچہ گھنٹوں اپنے والد کا انتظار کرنے کے بعد اکیلا لاہور سے راولپنڈی واپس آنے پر مجبور ہو جاتا ہے مگر اس تمام سختی کے باوجود اپنا سیاسی قبلہ تبدیل کرنے کو تیار نہیں ہوتا اس کے باوجود کوشش جاری ہے ۔ جیپ تیار ہے مسافر بھی فراہم کر دئیے گئے ہیں منزل کا تعین بھی ہو چکا ہے لاہور تک ہی تو جانا ہے کہ پنجاب کا دارلحکومت جو وہی ہے مگر جیپ موٹر وے یا جی ٹی روڈ کے سفر کے لئے ایجاد نہیں ہوئی اسے تو اونچے نیچے پر پیچ دشوار گزار راستوں پر سفر کرنا ہوتا ہے اس لئے چودھری نثار علی خان سے گزارش ہے کہ جس راستے کا آپ نے انتخاب کیا ہے اس میں اکثر دل کا جام چھلک جاتا ہے اس لئے گاڑی کو چلانا بابو ذرا ہلکے ہلکے ہلکے کہیں دل کا جام نہ چھلکے ۔۔

SHARE

LEAVE A REPLY