روس کا ایک فوجی طیارہ بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہوگیا، جہاز میں 91 مسافر سوار تھے۔

روسی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی کہ 91 افراد کو شام لے جانے والا فوجی جہاز بحیرہ اسود میں گر کر تباہ ہوگیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق روسی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تباہ ہونے والے طیارے کے ٹکڑے ساحلی شہر سوچی سے ڈیڑہ کلو میٹر دور بحیرہ اسود سے 50 سے 70 میٹر کی گہرائی سے ملے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے ایک شخص کی لاش ملنے کی بھی تصدیق کی۔

اس سے پہلے طیارے کے ریڈار سے غائب ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

جہاز کے تباہ ہونے سے پہلے روسی خبر رساں ادارے آر ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ روس کی وزارت دفاع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ٹی یو-154 طیارہ بحیرۂ اسود کے ساحل پر واقع روس کے تفریحی شہر سوچی سے اڑان بھرنے کے بعد ریڈار سے غائب ہوا۔

رپورٹس کے مطابق طیارہ جنگ زدہ ملک شام کے شہر لاذقیہ جا رہا تھا، جہاں روس کے فوجی اڈے پر سال نو کے موقع پر جشن کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

طیارے میں 9 صحافیوں اور فوج کے ایک میوزیکل گروپ کے افراد بھی سوار تھے، وزارت دفاع کے مطابق میوزیکل گروپ سال نو کے موقع پر منائے جانے والے جشن میں فن کا مظاہرہ کرنے جا رہا تھا۔

روسی وزارت دفاع نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ طیارے میں 83 مسافر اور 8 عملے کے ارکان سوار تھے۔

رپورٹس کے مطابق طیارہ سوچی کی ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد مقامی وقت صبح 5 بج کر 40 منٹ پر ریڈار سے غائب ہوا۔

وزارت دفاع کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ریسکیو ٹیموں کو طیارے کی تلاش میں فوری طور پر مصروف کردیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY