سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت خود کرنے کا فیصلہ سنا دیا

0
190

سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی سماعت خود کرنے کا فیصلہ سنا دیا، کیس کی از سر نو سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں شروع ہوگی، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ممکن نہیں کیس 2دن میں سن کر فیصلہ کر دیا جائے۔

کیس کی سماعت کمیشن سے کرانے کی تجویزکی تحریک انصاف نے مخالفت کر دی، وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے وکلا نے کہا کہ عدالت کمیشن بنائے یا خود سماعت کرے، ہرفیصلہ منظور ہو گا۔

سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پاناما لیکس کیس کی سماعت کی۔

عدالت نے کمیشن بنانے یا سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے مقدمے کی سماعت پر فریقین سے رائے طلب کی، تحریک انصاف نے کمیشن بنانے کی تجویز کی مخالفت کردی۔

تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ عدالت خود اس کیس کا فیصلہ کرے، کمیشن بنا یا گیا تو اس کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔

وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ عدالت جو مناسب سمجھتی ہے وہ کرے،وزیراعظم کے خلاف بلواسطہ یا بلاواسطہ نہ کوئی الزام ہے نہ کوئی ثبوت ہے۔

وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عدالت کمیشن بنائے یا خود سماعت کرے فیصلہ منظور ہو گا۔انہوںنے کہا کہ حسن اور حسین اوور سیز پاکستانی ہیں۔

نعیم بخاری نے کہا کہ ہم نے اپنا کیس بنا دیا ہے عدالت اس پر فیصلہ دے ۔ اگر کیس ثابت نہ کرسکے تو قانون کے مطابق فیصلہ دیا جائے۔

شیخ رشید احمد نے بھی کمیشن کی تشکیل کی مخالفت کر دی اور کہا کہ عدالت اس کیس کا خود فیصلہ کرے، انہوںنے کہا کہ ہم ہار بھی گئے تو قوم سمجھے گی کہ عدالت نے درست فیصلہ کیا۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ مفاد عامہ کے کیس میں عدالت پر بھاری ذمہ داری ہوتی ہے، نہیں چاہتے کہ جس کے خلاف فیصلہ آئے وہ کہے کہ ہمیں نہیں سنا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کا خود فیصلہ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں، کمیشن کے قیام کی تجویز اس لئے دی تھی کہ کوئی فریق یہ نا کہے کہ اسے سنا نہیں گیا۔

اگر کل کو کہا گیا کہ دستاویزات مصدقہ نہیں توایک فریق شکایت کرے گا اوراگر فیصلہ دیا کہ دستاویزات درست ہیں تو دوسرا فریق کہے گا ان کو صفائی کا موقع نہیں ملا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سب کا احترام کرتے ہیں کہ انہوں نے بینچ پر اعتماد کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کہ ممکن نہیں کہ 2 دنوں میں سماعت کرکے فیصلہ کیا جائے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ میں ریٹائر ہورہا ہوں، فل کورٹ ریفرنس کے بعد کسی بینچ میں نہیں بیٹھوں گا۔

ایک موقع پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے شیخ رشید احمد سے کہا کہ آپ نے پتا نہیں پڑھے ہیں یا نہیں،مگر ہمیں ہزاروں صفحات پڑھنا ہوں گے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے سماعت جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت کو جزوی سماعت نا سمجھا جائے

SHARE

LEAVE A REPLY