شہزادہ الولید بن طلال نے نیشنل فیملی سیفٹی پروگرام کے تعاون سے دو ہفتوں پر مشتمل آگاہی مہم شروع کی ہےجس میں خواتین کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر آواز اٹھانے کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

مہم میں خواتین کے ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانے کے منفی کردارکو واضح کیا جارہا ہے، جس میں یہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ خواتین کا ظلم پر خاموش رہنا خود اپنے اوپر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔

اس حوالے سے ایک ہاٹ لائن بھی قائم کی گئی ہے، جس کے انتظامات تربیت یافتہ سعودی خواتین دیکھ رہی ہیں۔

گھریلو تشدد کے جسمانی اور نفیساتی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس میں نفسیات اثرات زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

شہزادی لامیا بنت ماجد السعود جو کہ الولید نامی فلاحی تنظیم کی سیکریٹری جنرل ہیں۔ان کا کہناہے کہ خواتین اکثر اوقات اپنے اوپر ہونے والے گھریلو تشدد پر چپ سادھ لیتی ہیں، کیوں کہ یا تو انہیں اسکینڈل بنائے جانے کا ڈر ہوتا ہے یا پھر ہمارا معاشرہ اسے قبول نہیں کرتا ہے۔

بحیثیت فلاحی ادارے کے ہمارا فرض ہے کہ ہم خواتین کو ان کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہی فراہم کریں اور معاشرے کو یاددہانی کروائیں کہ گھریلو تشدد ایک جرم ہے

SHARE

LEAVE A REPLY