امیرالمومنین سیدنا حضرت علی مرتضیٰ کی آخری افطار،عفت سلطانہ

0
1757

انیسویں روزے کی افطاری کا وقت قریب آیا تو حضرت علی نے اپنے بیٹے حسن کو کہا کہ جاؤ اپنی بہین ام کلثوم سے کہنا کہ آج میں افطاری اس کی گھر پرکروں گا رمضان کے آخری عشرہ کی شروع ہونے والا تھا امیرالمومنین باری باری اپنے تمام بیٹے اور بیٹیوں کے گھر روزہ افطار کر رہے ثھے
بی بی ام کلثوم اچھی طرح جانتی تھیں کہ والد محترم زہدو تقویٰ کے کس اعلیٰ مقام پر فائز ہیں اور ولیوں جیسی زندگی بسر کرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ
اامیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ کا طرزِ زندگی ، خوراک ، اور لباس انتہائی غریبانہ تھے اپنے کام خود اپنے ہاتھوں سے کرتے رسول اللہ نے تربیت ہی ایسی کی تھی
آپ دو جوڑے بنوایا کرتے تھے اعلیٰ جوڑا غلام کو دیتے اور ادنیٰ خود زیب تن کرتے ۔ پیوند لگے کپڑے پہنتے اوریہ پیوند بھی کپڑوں پر خود ہی لگا لیا کرتے جبکہ یتیموں اور مسکینوں کے لیے نفیس لباس بنواتے کسی نے کہا کہ آپ امیرالمومنین ہیں لوگ باہر سے ملنے آتے ہیں تو آپ کو حقیر سمجھتے ہیں آپ ایسا لباس نہ پہنا کریں
آپ نے فرمایا
یہ وہ لباس ہے جو دل سے غرور کو دور رکھتا ہے
حیدر کرار علی المرتضیٰ کی طبیعت میں عجز و انکساری بہت تھی سواری کم ہی استعمال کرتے زیادہ تر پیدل سفر کرتے انہوں نے محلات نہیں بنائے چٹائیوں چبوتروں اور زمین پر بیٹھ جا یا کرتے آپ کی تو کنیت ہی ابو تراب تھی اور یہ لقب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کو اس وقت عطا کیا تھا جب آپ مٹی پر سوئے ہوئے تھےتراب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی مٹی ہیں
غریبا نہ طرزِ عمل اختیار کرنے والے یہ دنیا کے امیر لوگ تھے۔ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ادنی درجے کی زندگی گزارا کرتے ان کی خوراک عام آدمی سے بھی کم تر ہوتی تھی خود روزے سے ہوتے اور دوسروں میں کھانا تقسیم کر رہے ہوتے وہ اتنی ہی خوراک لیتے تھے جو جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہوتی
روحانی طاقت کی بدولت عبادت وریاضت کرتے، جہاد میں حصہ لیتے، امور سلطنت نمٹاتے اور زندگی کے دیگر فرائض سر انجام دیتے
بھائی امام حسن کی یہ بات سن کرکہ والد محترم ، امیر سلطنت آج ان کے گھر تشریف فرما ہوں گے اور یہیں روزہ افطار کریں گے
وقت افطار قریب آیا تو صاحبزادی ام کلثوم نے دسترخوان پر جو کی دو روٹیاں ، نمک اور دودھ رکھ دیا حضرت حضرت علی نے دسترخوان دیکھ کر بیٹی سے کہا کہ
تم نے تین کھانے دسترخوان پر کیوں رکھے ہیں کیا تم نہیں جانتیں کہ تمہارے نانا رسول خدانے کبھی دسترخوان پر ایک کھانے ایک کھانے سے زیادہ کا اہتمام نہیں کیا دو کھانے یہاں سے اٹھا لو اور کسی مستحق کو دے دو
آپ نے یہ بھی فرمایا
اے میری بیٹی کلثوم اس دنیا میں نہ جانے کتنے لوگ ایسے ہیں جو ایک کھانا بھی پیٹ بھر کر نہیں کھاتے اور
میں ان کا امیرکس طرح تین طعام سے افطار کروں
ام کلثوم چاہتی تھیں کہ والد روزے سے ہیں اور وہ دودھ ان کے لیے دسترخوان پر چھوڑ دیں اور باقی چیزیں اٹھا لیں لیکن حضرت علی نے پہلے ہی ان کا ہاتھ روک لیا اور فرمایا کہ یہ دودھ جاکر پڑوس کے یتیم بچوں کو دے دو
امیر المومنین نے خود نمک سے روزہ افطار کیا اور عبادت میں مشغول ہو گئے ساتھ ساتھ آسمان کی طرف منہ کرکےیہ بھی کہتے جا رہے تھے
آ گئی وہ رات جس کا علی سے وعدہ کیا گیا تھا تھا
جب نماز فجر کا وقت قریب آیا تو آپ نے روزے کی نیت کی اور وہ نعلین مبارک ( جوتے ) پہن کر جو جگہ جگہ سے سلے ہوئے تھے پہ مسجد کوفہ کی طرف روانہ ہو گئے
مسجد میں چھپے ہوئے ایک قاتل نے آپ کے سر پر زہر آلود تلوار سے وار کیا جس سے آپ کے سر مبارک پر گہرا زخم لگا اور اکیس رمضان کی رات کو آپ شہید ہوگئے
اس طرح بیٹی ام کلثوم کے گھر کی جانے والی یہ غریبانہ سی افطار آپ کی زندگی کی آخری افطار ثابت ہوئی نہ افطاریوں کے خون سجے تھے اورنہ ہی شاہی دسترخوان پر انواع و اقسام کے کھانے تھے
شکر الحمدللہ ہم مضان 2021 کے آخری عشرہ میں داخل ہوچکے ہیں مقدس طاق راتیں چل رہی ہیں انہی راتوں میں سے ایک بہت ہی مبارک شب میں خدائے بزرگ وبرتر نے ہمیں ایک بہت بڑا تحفہ دیا تھا
پاکستان 27 رمضان المبارک 1366 ہجری کو معرضِ وجود میں آیا تھا اپنے قیام کے وقت یہ دنیا کے نقشے پر ابھر نے والاسب سے بڑا اسلامی ملک تھا
افسوس ! اس کا یہ فخر اور مقام تو ہم بہت پہلے ہی کھو چکے ہیں
باقی بچے کھچے پاکستان کے ساتھ بھی ہم نے کچھ اچھا نہیں کیا
ہمارے حکمرانوں نے قدرتی وسائل سے مالامال اس ملک کوسودی قرضوں کی دلدل میں ایسا پھنسایا کہ یہاں کی آنے والی نسلیں تک مقروض ہیں یہاں چھ کروڑ سے زیادہ لوگ انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں روٹی،کپڑا ، مکان ، تعلیم اورعلاج معالجہ کی تو بات ہی چھوڑ دیں انہیں تو پینے کا صاف پانی تک میسرنہیں قول و فعل کے تضاد نے ہمیں کس مقام تک پہنچا دیا ہے
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اقبال
اہل وطن کو یہ سوچنا چاہیے کہ لیلتہ القدر کی مبارک ساعتوں میں قائم ہونے والی اس مملکت خداد کے حوالے سے ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں ایسی رات جو ہزار مہینوں سے افضل ہے اس میں پاکستان کا قیام کوئی اتفاقی امر نہیں تھا
سادہ طرزِ زندگی ہی درحقیقت اسلام کا وہ پیغام ہے جو انسان کی فلاح و کامیابی کا ضامن ہے اگر سادگی کا یہی ماڈل ہم نے اپنی زندگیوں میں اپنایا ہوتا تو آج ہم دنیا کے سامنے یوں ذلیل ورسوا تو نہیں ہوتے

غریبانہ زندیگیاں گزارنے والے صحرا نشینوں نے عرب کے شہر مکہ سے شروع ہونے والے اس نئے دین کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دیا تھا آج اسلام دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے
مسلمانوں کی میراث شاہی محلات نہیں علم ہے قرآن کا پہلا لفظ ہی اقرا ہے
دنیا کی جن اقوام نے بھی اسلام کے سنہری ضابطہ حیات کو اپنا لیا وہ دنیا میں معتبر اور معزز ہوگئے یہ وہ اقوام ہیں جنہیں ہم کافر کہتےہیں اور انہی کے سامنے کاسئہ گدائی لیے کھڑے رہتے ہیں
دنیا والوں کے سامنے ہماری حیثیت کیا ہے
محض بھکاری

حضرت علی المرتضیٰ کی سیرت مبارکہ مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے
اسلامی تاریخ کی جلیل القدر ہستیوں کے راستوں پر چلنے سے پاؤں لہو لہان تو ضرور ہوتے ہیں لیکن ایسی روشنی پھیلتی ہے کہ تاریکیاں اپنی موت آپ مر جا تی ہیں

یا اللہ ہمارے قلب و ذظر، ذہن وفکر، ظاہر وباطن کو بھی ان اجالوں سے منور کردے ۔ آمین

SHARE

LEAVE A REPLY