روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے فیصلہ کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں واقع روسی زبان بولنے والے ڈونسک اور لہانسک کے دونوں علاقوں کوبطور آزاد ریاستیں تسلیم کیا جائے گا۔ اس اعلان کے نتیجے میں اس خوف میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ پوٹن یوکرین پر حملہ کرنے والے ہیں۔
اپنے اعلان میں کریملن نے بتایا ہے کہ پیر کے دن پوٹن نے فرانس اور جرمنی کے سربراہان کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیا ہے۔
سال 2014ء سے اب تک ڈونباس کے تنازعے پر روس کے حامی اور کیف کی افواج کے مابین لڑائی میں اب تک 14000افراد ہلاک ہوچکے ہیں، خندقوں سے کی جانے والی ان جھڑپوں کا آغاز روس نے کیا تھا، جس نے یوکرین کے کرائیمیا کے جزیرے کو ضم کردیا تھا۔
علیحدگی پسند اس بات کے خواہاں ہیں کہ وہ روس کے ساتھ دوستی کے معاہدوں پر دستخط کریں، اور انھیں ہتھیاروں کی امداد دی جائے تاکہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں۔ بقول ان کے، یوکرین کی ملٹری ہمارے خلاف اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے۔
روسی پارلیمان نے گزشتہ ہفتے پوٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ڈونسک اور لہانسک کے عوامی جمہوریاؤں کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں۔ دونوں نے 2014ء میں یوکرین سے آزاد ی کا اعلان کیا تھا، حالانکہ کوئی بھی ملک ان ری پبلکز کوبطور آزاد ریاستیں تسلیم نہیں کرتا۔
پوٹن نے کہا ہے کہ مشرقی یوکرین میں لڑائی کا کوئی پرامن حل ممکن نہیں۔ لیکن، ماسکو یہ بیان دیتا آیا ہے کہ اس کا یوکرین کے خلاف حملے کا کوئی ارادہ نہیں، حالانکہ اب بھی یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ کے قریب روسی فوج تعینات ہے۔
اس سے قبل رائٹرزنے خبر دی تھی کہ روس نےالزام لگایا ہے کہ بکتر بند گاڑیوں میں سوار یوکرین کے فوجی تخریب کاروں نےروسی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی؛ لیکن کیف نے اس الزام کوجعلی خبر قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ اس کے برعکس مغربی ملکوں نے الزام لگایا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کی جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصد یوکرین پر حملے کا بہانہ ڈھونڈنا ہے۔













