مکہ کی فضاؤں اور بیت اللہ شریف کے ماحول سے شناسائی ہونے لگی توپانچ فروری کو رات گیارہ بجے ٹرانسپورٹر کی جانب سے پیغام ملا کہ مدینہ منورہ جانے کے لیے صبح(چھ فروری کو) چھ بجے ہمیں ہوٹل خالی کرکے نیچے ہونا چاہیئے چنانچہ ہم سب اپنے اپنے زاد راہ کے ساتھ صبح چھ بجے ہوٹل کی سیڑھیوں پر موجود تھے۔گاڑی پاکستانی ٹرین کی طرح حسب عادت آٹھ بجے ہوٹل پہنچی اور ہمیں لیکر’’ سرکار رحمتہ اللعالمین‘‘ کی جاگیر’’ ریاست مدینہ‘‘ کی جانب روانہ ہوگئی۔ بس میں ایک عجیب اور پرکیف منظر تھا، ہر ایک کی زبان پر دردو شریف اور سرکار کی نعتیں تھیں۔ آنکھوں اور دل کا تجسس بڑھتا جارہا تھا کہ کب سبز گبند اور مسجد نبوی کے مینار وں کا دیدار نصیب ہوگا۔وہ کیا منظر ہوگا جب مسجد نبوی کے میناروں اور ہمارے آقا ومولا کے روضہ اطہر کے سبز گبند پر ہماری پہلی نگاہ پڑے گی؟ دل اور دماغ کی کیا حالت ہوگی؟ سب سے اہم کہ ہمارے وجود کی کیفیت کیا ہوگی؟ سوچتے رہے کہ ہم تو دنیا کے حاکموں کے روبرو ہونے کے آداب سے نا آشنا ہیں تو جب ہم کائنات کے خالق و مالک اور رازق و حاکم کے محبوب، جس کے لیے یہ کائنات تخلیق کی گئی ہے، اس کے سامنے حاضر ہونے جارہے ہیں تو کیا منظر ہوگا؟
آخر کار چند گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم سرزمین مدینہ پر موجود تھے۔ ہوٹل کے معاملہ میں ہمارے ساتھ یہاں بھی مکہ والی مشق دہرائی گئی کہ ووچر میں دیئے گئے ہوٹل’’ فندق صفا مشعل‘‘ میں تو نہ ٹھہرا گیا البتہ اس سے ملحقہ ’’عمارۃ الفیحا ‘‘ نامی عمارت میں رہاش فراہم کی گئی بہت بہتر نہ سہی مگر اچھی رہائش تھی۔۔۔۔ جس چیز کے حصول کے لیے انسان تڑپتا ہو، جس ہدف کو وہ محبوب رکھتا ہو، اور اسے پانے کی تمنا اسکے دل میں مچلتی ہوں اگر وہ اس کے سامنے آجائے تو وہ انسان کیا کرے گا؟ یا اسے کیا کرنا چاہیئے؟اسکی ظاہری ،باطنی اور روحانی کیفیت کیا ہو رہی ہوگی؟ ایسا ہی کچھ ہمارے دل و دماغ میں چل رہا تھا ،سامان رہائش گاہ پر پہنچایا تو فیصلہ کیا کہ سامان کو بعد میں دیکھا جائے گا اور کھانا بھی ’’پھر‘‘ کھائیں گے پہلے حضور کی بارگاہ میں حاضری لگوانے چلتے ہیں۔ د جلدی جلدی غسل کیا ننیا لباس زیب تن کیا، وجود کو خوشبو سے معطر کیا وردو سلام کے ورد کی صداؤں میں دربار رحمتہ اللعالمین کی طرف روانہ ہوئے ۔ہوٹل سے نکل کر شارع ابو امامہ الباہلی جوکہ مسجد بلال کے عقب میں واقع ہے عبور کی تو ایک بڑی پارکنکگ سے گزرے اور بلال مسجد کے سامنے والی سڑک عبور کی تو بیت اللہ شریف کے بعددنیا کی افضل اور اعلی ترین جگہ مسجد نبوی کے مینار دکھائی دئیے، اور زبان پر تھا
جب مسجد نبوی کے مینار نظر آئے
اللہ ہی رحمت کے آثار نظر آئے
ہماری چال اونٹوں جیسی ہوگئی یعنی تیزی آگئی، شارع امیرالمومنین علی ابن ابی طالب عبور کرتے ہی ہم گیٹ نمبر 37 پر تھے ۔اس گیٹ سے مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو ہمارے آنکھیں ’’وجہ تخلیق کائنات‘‘ کے روضہ اطہر کے سبز گنبد کی تلاش میں سرپٹ ادھر ادھر دوڑ رہی تھیں کہ یکدم رک گئیں ،قدم آگے بڑھنے سے معذرت کرنے لگے۔’’ مقصود و مطلوب ‘‘ سامنے تھا۔وضو ہم ہوٹل سے کرکے نکلے تھے۔ سب سے پہلے اذن دخول طلب کیا، پھر زیارت رسول اللہ پڑھی سلام عقیدت بھی وہیں صحن میں کھڑے کھڑے پیش کیا۔ دو رکعت نماز تحیت اور نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد اپنے رب کے حضور سجدہ شکر بجالائے اور دعا کی ’’اے ہمارے خالق و مالک ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے ہم گناہ گاروں ، بدکاروں ،سیاکاروں ،ریاکاروں اور کمزوروں کوتو نے اپنے گھر کے بعد دنیا کے اعلی مقام مسجد نبوی کی زیارت کی سعادت عطا فرمائی۔ اے ہمارے حاکم و مالک اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے ہمیں اپنے محبوب پیغمبر اعظم، سید الاانبیا، رحمتہ اللعالمین کی قبر اطہر کی زیارت کی سعادت نصیب فرمائی حالانکہ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ اگر تو لطف و کرم اور فضل نہ فرماتا تو ہم یہ سعادت حاصل نہ کرپاتے، اے اللہ !تو نے ہمیں اپنے گھر کی زیارت کا شرف بخشا، تو نے ہمیں وہ مقام دکھایا جہاں مولا علی علیہ السلام، ان کے فرزندگان امام حسن و حسین علیہ السلام اپنے ننھے ننھے قدموں سے چلتے چلتے تیرے نبی مکرم ﷺکی پشت پر بحالت سجدہ سوار ہوتے تھے۔ وہ مقام دکھایا جہاں تیرا رسول اپنے نواسوں کو اپنے کندھوں پر سوار کرکے چلتے تھا،تیرے دین کی تبلیغ کیا کرتا تھا۔ بعد نماز عشا ء بھیگی آنکھوں اور روتے دل کے ساتھ ہوٹل پہنچے۔ کچھ دیر کے لیے آرام کی غرض سے بستر پر دراز ہوئے تو بھی قلب و ذہن اور آنکھیں حضور صلواتہ اللہ علیہ کے تبلیغ اسلام کے واقعات اور جدوجہد کی یادوں سے مزین رہیں۔
اچانک کمرے کے دروازے پر کسی نے دستک دی تو نہ چاہتے ہوئے بھی زبردستی اٹھے، دروازہ کھولا تو سامنے چچا زاد بھائی ناصر سجادکوپایا۔ اسلام علیکم بھائی اس نے کہا، جواب میں وعلیکم السلام کہہ کر اسے اندر لے آیا۔ زبیدہ بیگم کے آگے اس نے اپنے سرکو جھکایا اور میری بیگم زبیدہ بیگم ( جسے عام طور پر محلے دار اور اپنے سب زبیدہ آپا پکارتے ہیں) اسکے سرپر ہاتھ پھیر کر پیار دیا۔ ہمارے پنجابی کلچر میں اسکا مطلب ہوتا ہے کہ جیتے رہو بیٹا ہم آپ کے سرپر موجود ہیں۔بیگم صاحبہ ناصر سجاد کو ڈھیروں دعائیں دیتی رہیں، اسکی بلائیں لیتی رہی۔ کافی دیر باتیں کرتے ہوگئی تو ناصر سجاد نے کہا کہ بھائی جان باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے کھانا کھا لیں، ہم نے رسمی طور پر جواب میں کہا کہ بھائی اس کی کیا ضرورت تھی آپ نے خوامخواہ تکلف کیا، جس پر اس نے کہا کہ یہاں تکلف نہیں کرنا تو پھر کب اور کہاں کرنا ہے، پردیس میں اپنے ہی کام آتے ہیں اور اگر اپنوں نے اپنوں کے کام نہیں آنا تو کس نے آنا ہے۔ ناصر سجاد بہت اچھا نوجوان ہے۔ اس کی گفتگو اور عمل سے ظاہر ہوا کہ اسکے والدین نے اسکی تربیت میں کوئی کمی نہیں رہنے دی، اسے اپنے رشتوں کی پہچان ہے۔ سچی بات ہے کہ باقی نو دن اس نے ہماری دن رات خدمت میں کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ دل تو کرتا ہے کہ بس نبی مکرم شافعی محشرصلی اللہ علیہ وآلی وسلم کے بعد ناصر سجاد کی ہی باتیں کروں، بیٹروں چڑوؤاں سے لیکر اس نے اللہ کی ہر نعمت ہمارے حلق میں اتاری ہے۔ اللہ اسے صحت و تندرستی کے ساتھ سلامت رکھے ۔ مدینے کی یادوں میں وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گا۔
جمعرات 7 فروری کو وہ ہمیں ( مجھے ،میری اہلیہ زبیدہ بیگم ، بھائی غلام شبیر اور اس کے لخت جگر علی رضا کو) اپنے ہمراہ اپنی رہائش گاہ پر لے گیا اور پھر ہوٹل بھی دکھایا ،جہاں وہ کام کرتا ہے۔ اس موقعہ پر ہم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا وہ ’’مزرعہ عمری‘‘ کبھی گیا ہے ؟ اس نے نہیں میں جواب دیا اور ساتھ ہی ہمیں’’ مزرعہ عمری ‘‘ پہنچانے ،دکھانے کی ذمہ داری اٹھائی، اگلے روز جمعہ مبارک تھا اس نے فون کیا اور بتایا کہ اس نے گاڑی کا انتظام کیا ہے اور لیکر آرہا ہوں۔ کچھ دیر بعد پراڈو گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہمارے پاس پہنچ گیا۔ ہم ہوٹل سے نیچے آئے تو اس نے فرنٹ خالی کی اور ہمیں بیٹھنے کی پیش کش کی لیکن ہم نے پیچھے بیٹھنے کو ترجیح دی۔ ناصر سجاد خود تو ہمارے ساتھ نہ گیا، وجہ اس نے ملازمت کی مجبوری بتائی ،البتہ پراڈو کا کرایہ اس نے ادا کیا۔وہاں نماز ادا کی ،دسترخوان امام حسن مجتبی علیہ السلام سے لنگر تناول فرمایا تو ’’مزرعہ عمری‘‘ کے منتظمین کی طرف سے کھجوروں کے تحائف سے نوازا گیا جو ہم اپنے ہمراہ پاکستان لائے۔
پاکستان پہنچنے کے کچھ دنوں بعد ہم نے کھجوروں کے تحائف والے ڈبوں کو نکالاتو بیٹی مہوش نے کہا کہ ان پر کارآمد ہونے کی تاریخ درج ہوتی ہے وہ دیکھ لیتے ہیں۔ جب پلاسٹک کے ڈبوں پر تاریخ پر نظر پڑھی تو حیرت میں گم ہوگئے کیونکہ دو ڈبوں میں سے ایک ڈبے پر تاریخ فروری2016 اوردوسرے ڈبے پر چار اکتوبر2018 تحریر تھی۔ چنانچہ یہ دونوں ڈبے ضائع کردئیے گئے، بعد میں بھائی غلام شبیر کے ہاں سے بھی ایک ڈبے کے متعلق ایسی ہی اطلاع موصول ہوئی۔ اس بات کا ہم پر بہت اثر ہوا، کیونکہ مزرعہ عمری کے مالکان کے اس کام پر مامور افراد کوکھجوریں تقسیم سے قبل اچھی طرح دیکھ لینا چاہیے تھا۔ کیونکہ ایسے تحائف لینے والوں میں ایران ،عراق سمیت بہت سارے دیگر ممالک کے زائرین بھی شامل ہیں۔ یقیناًان میں سے بھی کھجوریں خراب نکلی ہوں گی جس سے ’’مزرعہ عمری‘‘ کے حوالے سے کوئی مثبت پیغام نہیں گیا ہوگا اور مزرعہ عمری کے ملت اسلامیہ میں قائم امیج کو کافی جھٹکا لگا ہوگا۔
ہمارے اوپر یوں تو اللہ رب العزت کے انعامات و اکرامات کی فہرست بہت لمبی چوڑی ہے مگر میں اسے بھی اللہ کی کرم نوازی ہی شمار کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں 37 نمبر گیٹ کے قریب بلال مسجد کے عقب میں رہائش عنایت فرمائی۔ میں اسے نعمت اس لیے شمار کرتا ہوں کہ یہ گیٹ جنت البقیع کی سائیڈ پر واقع ہے اور جنت البقیع کا صدر دروازہ گیٹ نمبر 36 کے عین سامنے ہے۔ ہم مسجد نبوی میں نماز کی ادائیگی اور روضہ اطہر خاتم النبین حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت سے مستفیض ہوجاتے تو 36 نمبر گیٹ کے سامنے صحن مسجد نبوی میں بیٹھ جاتے، اسکا فائدہ یہ ہوتا کہ جب دائیں طرف نگاہیں ڈالیں تو جنت البقیع میں موجود خاندان نبوت کے عالی قدر افراد کی قبور کی زیارت ہوجاتی اور جب بائیں جانب آنکھیں اٹھتیں تو سبز گبند پر جا رکتیں، دورد سلام ویسے تو ہر لمحہ زبان پر ہوتا مگر جب آنکھیں قبر اطہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلی وسلم پر ہوتیں تو السلام علیک یا رسول اللہ پڑھتے آنکھیں پرنم ہوجاتیں۔ یہی کیفیت جنت البقیع کو دیکھتے ہمارے اوپر طاری ہوتی۔ یہ روزانہ کی عادت سی بن گئی تھی۔
سنا تھا کہ سعودی عرب کے قبرستانوں میں میتوں کی تدفین کے کچھ ماہ بعد قبرکشائی کی جاتی ہے اور قبروں میں موجود ’’ باقیات‘‘ کو نکال لیا جاتا ہے اور ان میں نئے مرنے والوں کو دفنایا جاتا ہے ۔ ایک دن جنت البقیع میں قبروں کی صفائی کے مناظر ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، اہلکار جنت البقیع کے صدر دروازہ کے دائیں طرفخاندان نبوت کی قبور سے قدرے فاصلے پر قبروں کی صفائی کررہے تھے، قبر کے اندر اترے ہوئے اہلکار قبر کے باہر موجود اہلکار کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بالٹیوں میں قبروں سے نکالی گئی باقیات ڈالتے جاتے اور قبروں کو صفائی کے سبز چادروں سے ڈھانپ دیتے۔ اور دروازہ کے بائیں جانب کی کچھ قبروں کونشان زدہ کرتے جن کو اگلے روز صاف کرنا تھا۔
ہم نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ یہ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو ہمیں بتایا گیا کہ سعودی عرب کے قبرستانوں میں چھ سات ماہ بعد قبروں سے مردوں کی باقیات کو نکال لیا جاتا ہے ۔ جس سے ہم نے حیرانگی کے ساتھ سوال اٹھایا کہ کیا ایسا اس قبرستان میں بھی کیا جاتا ہے جہاں شاہی خاندان کے سابق بادشاہ اور شاہی خاندان کے افراد دفن ہیں؟ جواب نفی میں ملا۔
مسجد نبوی میں سعودی اہلکاروں سے تکرار
ایک روز ہم مسجد نبوی میں نماز کی ادائیگی کے بعد روضہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کے بعد سبز گنبد کے سائے تلے کھڑے دعا مانگ رہے تھے کہ ایک سعودی اہلکار نے کندھے سے پکڑ کر قبلہ رخ ہوکر دعا مانگنے کی ہدایت کی تو ہم نے اسے بتایا کہ ’’ اللھم اللھم‘‘ مطلب کہ ہم اللہ سے دعا کررہے ہیں، لیکن وہ مسلسل کہتا کہ اللہ سے مانگو لیکن اپنا منہ قبلہ رخ کرو، جس پر ہمیں تیش آگیا اور ہم نے اس سعودی اہلکار سے کہا کہ ’’ہمیں بتاؤ کہ اللہ صرف مغرب کی جانب ہے؟ کیا اللہ مشرق کی طرف نہیں ہے؟ کیا شمال اورجنوب کی طرف نہیں ہے اللہ؟ جس پر سعودی اہلکار چپ چاپ وہاں کھسک گیا۔
عورتوں کے جنت البقیع جانے سے قبرستان پر عذاب نازل ہوتا ہے
مسجد نبوی میں بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ مسجد نبوی کے کسی ایسے اہلکار سے دریافت کیا جائے کہ جنت البقیع کی زیارت کے لیے خواتین کے لیے کونسا وقت مختص ہے ؟ قسمت نے یاور کی اور ایک اردو بولنے والا خدمت گار دکھائی دیا ،اس کے پاس پہنچ کر ہم نے پوچھا کہ جنت البقیع میں عورتوں کے جانے کے کونسے اوقات مختص ہیں؟ ہمارا سوال سنتے ہی اس نے کہا کہ’’ قال رسول اللہ، اللہ کے نبی نے فرمایا ہے کہ قبرستان میں عورتوں کے جانے سے قبرستان پر عذاب نازل ہوتا ہے‘‘ یہ سنتے ہی ہم نے اس اہلکار سے سوال کیا کہ اگر یہ سچ ہے تو پھر مسجد نبوی میں عورتوں کے لیے ریاض الجنہ میں زیارت قبر رسول کے لیے علیحدہ سے انتظام کیوں کیا گیا ہے، جبکہ روضہ رسول میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق کے علاوہ بھی دیگر قبریں موجودہیں۔ وہاں عورتوں کی موجودگی سے وہاں بھی عذاب نازل ہوتا ہے؟ جس پر مسجد نبوی میں خدمت پر مامور خادم لاجواب ہوگیا۔ سوچتا رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ سعودی عرب کے حکمرانوں نے یہ منطق کیاں گھڑی ؟
ایک رات ایک شخص ہمارے ہوٹل کے کمرے میں آیا کہ مژدہ سنایا کہ صبح زیارات کے لیے روانہ ہونا ہے ، فی زائر دس ریال ادا کرنا ہونگے، اور آپ لوگ صبح آٹھ بجے تیار رہیں، وہ شخص ہم سب سے ہمارے فون نمبر لیکر چلاگیا، صبح چار بجے حسب معمول اٹھے، غسل کیا اور مسجد نبوی جہاں رحمتوں کی برسات ہوتی ہے، جہاں اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی بخشش کے لیے ’’کون بنے گا جنتی‘‘ کی لوٹ سیل لگائی ہوئی ہے کہ جانب نکلے، نماز فجر ادا کی اور حسب عادت جنت البقیع اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے درمیان بیٹھ کر ذکر الہی کرتے رہے ، نبی مکرم شافعی محشر ،خاتم رسل اور جنت البقیع میں مدفون خاندان نبوت کے افراد پر درود و سلام پڑھتے رہے، طلوع آفتاب کے بعد ہوٹل پہنچے ،ناشتہ وغیرہ کیا ،کپڑے تبدیل کر کے بس والے کا انتظار کرنے لگے۔ مقررہ وقت سے کچھ دیر بعد بس والا آیا اورنیچے کھڑی گاڑی کا نمبر بتکر چلاگیا۔ نوبجے کے قریب بس زیارات کے لیے روانہ ہوئی، مسجد بلال، مسجد ابوبکر صدیق، مسجد علی، مسجد غماکی زیارت بس میں بیٹھے بیٹھے ہی کرائی گئی۔جوکہ مسجد نبوی کے دروازوں کے قریب ہی واقع تھیں۔ مسجد قباء،مسجد قبلتین، میدان احد اور ایک کجھوروں کے باغ میں بیس سے پچیس منٹ ہمیں دئیے گئے،کیونکہ بس والے نے چلتے وقت ہی مطلع کیا تھا کہ انشاء اللہ تعالی ہم ظہر کی نماز حرم شریف میں ادا کریں گے جس کا مطلب واضح تھا کہ بس والے ہمیں نماز ظہر سے قبل واپس پہنچا ئیں گے۔ مسجد بلال چونکہ ہماری رہائشگاہ کے قریب تھی اس لیے ہم نے اکیلے ہی زیارت کرلی اور وہاں نوافل بھی ادا کیے اسی طرح ایک دن ہم نے اکیلے ہی مسجد غمامہ، مسجد علی اور مسجد ابوبکر کی بھی زیارت کی او مسجد ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے باہر موجود ایک اہلکار نے ہمیں مسجد کے متعلق آگاہ کیا کہ اس مسجد کا حضرت ابوبکر سے کچھ تعلق نہیں ،یہ مسجد سلطنت عثمانیہ کے دور میں تعمیر کی گئی، اللہ کی عبادت اور دعاؤں کے لیے بہترین جگہ مسجد نبوی ہی ہے۔ اسی طرح باقی مساجد کے بارے میں بتایا گیا۔
سعودی حکومت کے ترقیاتی کاموں کو دیکھ کر یقین ہوا کہ ’’بدوؤں کا دیس‘‘ بدل رہا ہے۔ پورے مکہ اور مدینہ میں ہمیں گلی محلوں ،بازاروں میں بجلی کی لٹکتی تاروں کے جال دکھائی نہ دئیے اور نہ ہی سڑکوں اور گلیوں بازاروں میں بجلی کے کھبے نظر آئے، استفسار پر بتایا گیا کہ یہاں بجلی کا سارا نظام زیر زمین ہے۔ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ یہاں بجلی نہیں جاتی۔سعودی عرب کے عوام کی آمدنی اور سعودی ریال کی مستحکم پوزیشن کے مطابق وہاں اشیاء خورد نوش بہت سستی ہیں۔ ایک وقت میں پانچ ریال میں تین افراد کھانا کھا سکتے ہیں۔ پانچ ریال میں سبزی اور دال بمعہ تین عدد روٹیاں سلاد اور دیگر چیزیں اضافی ملتی ہیں، چھوٹا گوشت،
بکروں کے پائے آٹھ ریال میں ملتے ہیں۔ اور اس قدر ملتا ہے کہ تین افراد کھلے ہاتھوں سے کھانا کھا سکتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کا نظام بھی ایک مربوط سسٹم کے تحت کامیابی سے چل رہا ہے۔ ہم نے ایک ٹیکسی ڈرائیور جوکہ پاکستانی تھا سے پوچھا کہ ٹیکسی کے پیچھے نمبر پلیٹ کے اوپر ڈگی پر یہ جو دو نمبر لکھے ہوئے ہیں اسکا مطلب کیا ہے؟ اس نے بتایا کہ195-70کا مطلب ہے کہ 195اس گاڑی کی ملکیتی کمپنی کا رجسٹرڈ نمبر ہے اور اسکی کمپنی کی یہ70ویں گاڑی ہے۔ مکہ میں رجسٹرڈ ٹیکسی کے اوپر ’’مکہ‘‘ لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اور جو مدینہ میں رجسٹرڈ ہوتی ہے اس پر ’’مدینہ ‘‘ درج ہوتا ہے۔
ایک شب ہم مسجد نبوی جانے کے لیے نکلے تو راستہ میں یہ دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب گئے کہ گلی میں تین عدد رہڑیوں کو ٓہنی سنگلوں سے باندھ رکھا ہے، ایسا دیکھ کر ورطہ حیرت میں اس لیے ڈوبے کہ ہم نے سن رکھا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی کسی کی چیز کو نہیں چھیڑتا، لوگ دوکانیں کھلی چھوڑ کر نماز پڑھنے جاتے ہیں، ایسا اس لیے ہے کہ وہاں سخت سزاؤں کا نظام نافذ ہے اور اسلام کا نظام عدل بھی پوری آب وتاب سے متحرک ہے، لیکن یہاں رہڑیوں کو سنگلوں سے باندھ کر تالے لگے دیکھ کر ششدر رہ گئے۔
اس کے علاوہ سعودی عرب میں رہنے والے پاکستانیوں کی جانب سے تنبیہ کی گئی تھی کہ ٹیکسی میں سفر کرنے میں اتنی احتیاظ برتنی ہے کہ کسی سعودی شہری کے ساتھ سفر نہ کیا جائے کیونکہ وہ ’’ہاتھ کر ‘‘جاتے ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت پاکستانیوں سمیت دیگر غیرملکی شہریوں کوتو پریشان کررہی ہے ۔ ہمیں ایک پاکستانی ہوٹی کے مالک جاوید نے بتایا کہ ہر پانچ چھ روز بعد راتوں پولیس پاکستانیوں کو اہل خانہ سمیت اٹھاکر لے جاتی ہے ،تین چار گھنٹے سڑکوں پر گھماتی ہے اور پھر حوالات میں بند کردیتی ہے، اور انکا بڑا افسر آکر چھوڑ دیتا ہے ایسا سب کچھ لوگوں کی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں اور بچوں کی موجودگی میں ہوتا ہے، جاوید نے بتایا کہ اسکا تعلق بہالوپور سے ہے لیکن اسکی پدائش سعودی عرب کی ہے، اگر ہمارے کاغذات مکمل نہیں ہیں تو ہمیں ڈی پورٹ کردیا جائے لیکن یوں آئے روز ذلیل و رسوا نہ کیا جائے۔
اس کے علاوہ وہاں پورے سعودی عرب میں کالے جو ایشین نہیں عربی النسل ہیں مگر سعودی عرب میں غیر قانونی ہیں انہیں کچھ نہیں کہا جاتا۔اس کی وجہ شائد یہ ہے کہ ان کالوں عربیوں کے ممالک کے سفارت کانے انہیں اپنے شہری تسلیم نہیں کرتے۔ ہماری حکومت پاکستان اور سعودی عرب سے درخواست ہے کہ وہ پاکستانیوں کے معمالات سدھارنے کی طرف توجہ دیں ،باہمی بات چیت کے ذریعہ معاملات طے کیے جائیں۔اور سعودی عرب کی سرزمین پر اپنی زندگیاں بزارنے دینے والے پاکستانی جو کسی غیر مسلم ملک میں اپنی اندگیوں کے قیمتی ماہ سال بسر کرتے تو انہیں وہاں کی نہ صرف شہریت مل چکی ہوتی بلکہ وہاں انہیں شادیاں کرنے کی بھی اجازت حاصل ہوتی، جائیدادیں بھی ان کے نام ہوتیں۔اوپر ضبط تھریر میں لاچکے ہیں کہ سعودی عرب میں پاکستانی عازمین حج و عمرہ سے کوئی بہتر سلوک روا نہیں رکھا جاتا۔
انور عباس انور













