ھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کے بعد کشمیریوں نے وادی میں تشدد کی نئی لہر شروع ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کا خاتمے کا مقصد کشمیر کی مسلمان اکثریت والی شناخت تبدیل کرنا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ارشد وارثی کا کہنا تھا کہ ’آخر کب تک یہ سب کو نظر بند رکھیں گے، آرٹیکل 370 ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ’ہم اپنی نفرت کا اظہار نہیں کرسکتے‘۔
خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے یکطرفہ فیصلے کے بعد بھی کشمیر کی ہر گلی ہر موڑ پر کثیر تعداد میں سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کر کے وادی کو جیل میں تبدیل کردیا ہے۔
واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے آئینی دفعہ ختم کرنے کے ردِ عمل میں احتجاج کے پیشِ نظر کشمیر میں کرفیو نافذ کررکھا ہے جس کے لیے گزشتہ روز مزید 8 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کو خطے میں بھیج دیا گیا تھا۔
اتوار سے اب تک مقبوضہ جموں اور کشمیر میں تمام تعلیمی ادارے بند، انٹرنیٹ اور موبائل فون سمیت لینڈ لائن سروسز معطل ہیں جس کے باعث پوری وادی بیرونی دنیا سے بالکل کٹ کر رہ گئی ہے۔
مذکورہ سہولیات نہ ہونے کے باعث مقامی اخبارات آن لائن اشاعت نہیں کرسکے جبکہ کرفیو اور دیگر سختیوں کے باعث بڑے اخبارات بھی شائع نہیں ہوسکے۔












