عوام کی کھال اور قربانی کی کھال کا فرق۔ نگہت نسیم

0
2658

قربانی کی عید کی اپنی ہی شان ہے اپنا ہی اہتمام ہے۔ قربانی کے لیئے جانور خریدنا ایک مرحلہ ہے پھر قربانی کے لیئے قصائی جو اس روز وی آئی پی ہوتا ہے اسکی تلاش ایک اور مرحلہ ہے اور پھر قربانی کے گوشت کی تقسیم اور پکوان بار بی کیو سمیت۔ اس سال تو قربانی کے جانور کی قیمت اگر جانور خود سُن لے تو خود منڈی میں ہی قربان ہو جائے

ایک اہم عنصر جانور کی کھال ہے جو پورے مقالے کا موضوع ہے۔ ویسے قربانی کی کھال اور عوام کی کھال میں بھی بہت فرق ہے۔ ہر حکومت عوام کی کھال اُلٹی چھری سے اتارتی ہے اور کئی مواقع پر تو عوام خود خوشی سے اپنی کھال اترواتے ہیں۔

لیکن قربانی کی کھال۔۔۔۔۔

ملکی چمڑے کی صنعت کا دارومدار قربانی کے جانوروں کی کھالوں پر بھی ہے لیکن بد احتیاطی کے باعث 30 سے 35 فی صد کھالیں یا تو ضائع ہو جاتی ہیں یا پھر ان کی قیمت میں واضح کمی ہوجاتی ہے۔

قربانی کےجانورکی کھال کو عموما سب سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔ قصائی سے گوشت اچھا بنانے پر تو زور دیا جاتا ہے لیکن کھال پر کوئی کٹ نہ لگے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ کیونکہ کھال پر جتنے چھری کے کٹ لگیں گے اس کی قیمت اتنی ہی کم ہو گی اور اگر کھال پر نمک لگانے میں دیر کر دی تو یقینا کھال ضائع ہی ہو جائیگی۔

اسی غفلت کے باعث قربانی کے جانوروں کی بیشتر کھالیں ضائع ہو جاتی ہیںعیدالضحی ہر حاصل کی گئی قربانی کی کھالیں ملکی معیشت خصوصا چمڑا سازی کی صنعت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اسی اہمیت کو سمجھتے ہوئے قربانی پیشہ ور قصائی سے ہی کروانی چاہیئے تا کہ کھال محفوظ رہ سکے۔

اس عید پر بارشوں کے باعث کھال کو پانی سے محفوظ رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے۔ عیدالضحی پر مذہبی فریضے کی ادائیگی کے ساتھ قومی فریضہ بھی سرانجام دیجیئے اور قربانی کے جانور کی کھال کو احتیاط سے اتروایئے۔

اب آخر میں ایک اور کھال کا ذکر بھی سن لیجئے اور یہ ہے گدھے کی کھال،

یہ تازہ خبر کسی قسم کے تبصرے کے بغیر

وفاقی کابینہ نے گدھوں کی کھالیں برآمد کرنے سمیت چین کے ساتھ 4پروٹوکولز پر دستخط کرنے کی منظوری دیدی۔

وفاقی حکومت نے پاک چین تجارت کو توسیع دینے کےلیے گدھوں کی کھالیں برآمد کرنے، خشک مرچیں، بیف اور ڈیری مصنوعات کے پروٹوکولز پر دستخط کی منظوری دیدی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان4 مختلف پروٹوکولز پر دستخط کئے جائیں گے، پروٹوکولز کا مقصد چین کیلئے گدھوں کی کھالیں برآمد کرنے کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ خشک مرچیں، بیف، ڈیری مصنوعات کی چین کیلئے برآمدات بھی ریگولیٹ ہوں گی۔

پروٹوکولز کے تحت چین کے ساہٹو سینٹری قوانین اور ریگولیشنز کی تعمیل ہوگی، صحت،حفاظتی معیارات اور کورنٹائن ضروریات پر عملدرآمد ہوگا۔ پروٹوکولز کی وزارت قانون و انصاف سے پہلے ہی توثیق کرائی جاچکی ہے جبکہ وزارت خارجہ نے بھی پروٹوکولز پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔

نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY