دنیا بھر کی طرح جرمن دارالحکومت برلن میں بھی کشمیری برادری نے جرمن، بھارتی اور پاکستانی شہریوں کے ساتھ مل کر ہندو قوم پرست مودی حکومت کے متنازعہ فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
برلن کا تاریخی برانڈنبرگر گیٹ ‘کشمیر کی آزادی اور ’گو انڈین آرمی گو‘ کے نعروں سے گونج رہا تھا اور مظاہرین کی ایک بڑی تعداد کشمیری پرچم لہراتے ہوئے بھارتی حکومت اور بھارتی فوج کے خلاف نعرے بلند کر رہے تھے۔
برلن کشمیر کی آزادی کے نعروں سے گونج اُٹھا
یہ مظاہرہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی منسوخی کے فیصلے اور اس کے نتیجے میں وادی میں گزشتہ چھ دن سے کرفیو کی صورتحال کے حوالے سے کیا جا رہا تھا۔
مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ چھ روز سے مسلسل کرفیو کے باعث کشمیری عوام گھروں میں قید ہے جبکہ کاروباری اور طبی مراکز بھی بند ہیں۔ انٹرنیٹ شٹ ڈاون اور ٹیلی فون سروس منقطع ہونے کی وجہ سے وادی کے باسیوں کا کسی سے رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ جرمنی میں مقیم مقبوضہ کشمیر کے رہائشی اپنے اہل خانہ کی خیر خبر معلوم کرنے سے قاصر ہیں۔











