ڈھونڈتی ہے تمہیں نظر اتنا
راستہ پر ہے پُر خطر اتنا
جو ثمر بار لگ رہا تھا مجھے
وہ شجر بھی ہے بے ثمر اتنا
جتنی ہوں میں فریفتہ تجھ پر
تو مجھے چاہتا اگر اتنا
پہلے میں کاٹتی رہی گھر کو
اب مجھے کاٹتا ہے گھر اتنا
آبلہ پائی جزو جان ہوئی
کر کے آئی ہوں میں سفر اتنا
دل دھڑکنے لگا ھے صدیوں بعد
تیری باتوں میں ھے سحر اتنا
جسقدر عشق ہے ادھر شاہین
کاش یہ عشق ہو اُدھر اتنا
شاہین اشرف علی












