گلشن عشق کی بہار حسین
دین احمد کے جانثار حسین
اپنا بھی الفت و مودت کا
تجھ سے رشتہ ہے استوار حسین
ہے رضائے بتول و حیدر پر
سب کی بخشش کا انحصار حسین
کس قدر مخلص و یقیں والے
تو نے پائے تھے خانثار حسین
رحمت کبریا سے ہوں میں بھی
تیری نسبت سے مالدار حسین
زندگی بھی کیا خدا کے لیے
فقر کو تو نے اختیار حسین
مجھ سے عاصی کا دل بھی رہتا ہے
یاد میں تیری بے قرار حسین
خلد میں یہ بلال مضطر بھی ۔
کاش پائے ترا جوار حسین
بلال رشید













