اسپین کے شہر بارسلونا میں پیش آئے واقعہ میں 13 افراد کی ہلاکت کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم داعش نے قبول کرلی ہے۔حملے میں پاکستانی نژادکھاریاں کا رہائشی احسن امیر بھی زخمی ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشت گردی کے اس واقعہ میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ 10 افرد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔
ہسپانوی میڈیا کے مطابق پولیس کی جوابی فائرنگ سے مارے جانے والے حملہ آور کی شناخت ادریس اوکابر کے نام سے ہوئی ہے جبکہ وین کا ڈرائیور اب بھی مفرور ہے جس کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے ۔
واقعہ کے فوری بعد اسپین کے وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح اس وقت زخمی افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کرنا ہے۔
امریکاکے صدرڈونلڈٹرمپ نے بارسلونا حملےکی مذمت کرتے ہوئے اسپین کو تحقیقات میں مددکی پیش کش کردی ۔
برطانوی وزیر اعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ ہم بارسلونا حملے کے متاثرین کے ساتھ ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اسپین کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ لندن کے میئر صادق خان نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے دہشت گردی قرار دیا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم نے کاتالان وین حملےسےمتعلق پریس کانفرنس بھی کی ہے جس میں انھوں نے اس سانحے کو دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا ہے ۔
اسپینش وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،انھوں نے مزید کہا کہ ہم انسداد دہشت گردی سے متعلق قانون سازی کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سےرابطہ کررہے ہیں۔
بارسلونا میں ہونے والی دہشت گردی میں پاکستانی احسن امیر بھی زخمی ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق مرزا کھاریاں کا رہائشی ہے اور بارسلونا میں کریانہ سپلائی کرتا ہے۔
اسپین میں پاکستان کےسفیر رفعت مہدی نے بھی وین حملےکی مذمت کی ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY