میرے پاس صرف دو گھنٹے بچے تھے ۔۔
اور ۔۔۔ آفتاب کے آنے تک مجھے کامیاب ہونا تھا
مجھے اپنی بیماری کا کس کس کو بتانا چاہیئے تھا ۔۔ یہ فیصلہ انتہائی دشوار گزار تھا ۔
میں چاہتی تھی کہ سب سے پہلے میں سکون سے خود اپنی بیماری کوسمجھوں ۔۔ اسے پوچھوں تو کہ تم یہاں کیسے ؟
اپنی جی پی ڈاکٹر مدحت سید کو فون پر بتاؤں کہ رپورٹ کیا آئی ہے ۔۔۔ تاکہ وہ مزید ٹیسٹ کروا سکے ۔
اپنے بچوں کو سمجھاؤں ۔۔ کہ اب انہیں کیا کرنا ہے ۔۔۔ ایک دوسرے کا خیال کیسے رکھنا ہے ؟
آفتاب کی فکر کروں ۔۔۔ ساتھ چھٹ جائے تو انہیں کیا کرنا ہو گا ۔۔؟
وصیت میں تبدیلی بھی ضروری ہو گئی تھی ۔۔۔
چیرٹی کون کونسی کر پاؤنگی ۔۔ ؟
کینسر کے بعد اعضاء کے عطیات دے سکونگی کہ نہیں ؟
اپنے بہن بھائیوں کو بتاؤں ۔۔ کہ میرے بعد ان کی زمہ داری کیا ہو گی ؟
اپنے ہسپتال والوں کو بتاؤں ۔۔ کہ جو واپس نہ آ پائی تو میرے مریضوں سے کیا کہنا ہے ؟
اپنے انتہائی قریبی دوستوں کو بتاؤں۔۔ کہ اب دعاؤں کا وقت آ گیا ہے ۔۔ اور انہیں خود بھی سنبھلنا ہے اور ایک دوسرے کو بھ سنبھالنا ہے ۔
ہائے ۔۔ سب سے مشکل کام جناب صفدر ہمدانی کو سمجھانا ہو گا کہ وہ بہت کمزور دل کے ہیں ۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتیں انہیں اتنارنجیدہ کر دیتی ہیں کہ رو پڑتے ہیں ۔۔۔ ویسے بھی وہ کسی بھی بات کی سب سے پہلے ڈارک سایئڈ کی سوچتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ میری امید اور دعاؤں کا خزانہ تھے ۔۔انہیں بتانا اشد ضروری تھا۔
اپنے میڈیٹیشن کلاس کی پرخلوص روحوں کو بتاؤں ۔۔اپنی ٹیچر مالی کو کہوں کہ مجھے مثبت انرجی کا تحفہ چاہیئے ۔
اپے جم کی ممبر شپ رکوانے کے لئے اپنی دوست روینہ رایڈو کو کہنا ہوگا ۔روینہ میری ایک دہائی سے زائد کی دوست تھی ۔۔ بہت دردمند اور پیاری دل کی مالک تھی ۔ وہ میرے ہسپتال میں نرس اسپیشلسٹ اور ایجوکیٹر تھی ۔۔ ہم اکثر جم اور ہسپتال میں ساتھ ساتھ ہی ہوتے ۔۔۔ اب بھی سب سے نزدیک وہی رہتی تھی۔
اور ۔۔ یہ بھی ۔۔ طے کیا کہ ۔۔۔
اگر کوئی ان سب سے میرا پوچھے تو انہیں ضرور بتا دیں کہ ڈاکٹر نگہت نسیم کو کینسر ہوا ہے ۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ کسی نہ کسی کی دعا میرے حق میں ضرور قبول ہو گی اور میں معجزانہ س مشکل سے نکل آؤنگی۔
لیکن ایک فیصلہ بہت دشوار گزار تھا ۔۔۔
آیا کسی بھی سوشل میڈیا پر لکھوں یا نہیں ؟
بڑی مشکل سے فیصلہ کیا کہ سوشل میڈیا سے اس وقت تک دور رہونگی جب تک میں آپریشن سے کامیابی سے نہ نکل آؤں گی ۔۔ میں چاہتی تھی کہ میں خود انہیں بتاؤں کہ میرا یہ سفر کیسا رہا ۔۔اس لیئے نہیں کہ مجھے اپنے دوستوں کی دعاؤں پر بھروسہ نہیں تھا ، لیکن سچ یہ تھا کہ شدید بیماری میں ان کے سوالوں کا پریشر نہیں اٹھا سکتی تھی ۔۔ اور یہ بھی کہ بار بار کے سوالوں اور درد بھری ہمدردی سے کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی ۔ میں اپنی بیماری کو شکست دینے کے لئے مکمل یکسوئی اور علاج پر توجہ دینا چاہتی تھی ۔
اور ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں بخوبی جانتی تھی کہ ہمارے سماج میں خاصطر پر مریض کو پوچھ پوچھ کر ، اپنے پرائے لوگوں کے قصے اور علاج بتا بتا کر اس قدر ہلکان کر دیتے ہیں کہ مریض بعضاوقات وقت سے پہلے مرنے لگتا ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ میں اپنے بچوں اور آفتاب کو بار بار اس تکلیف سے نہیں گزارنا چاہتی تھی ۔
فیصلہ ہو چکا تھا ۔۔۔
لیکن اس فیصلے سے جڑے کئی فیصلوں پر عمل کرنے کے لئے وقت ریت کی طرح میرے ہاتھوں سے پھسل رہا تھا ۔
میرے لیئے یہ ادراک کسی سانحے سے کم نہیں تھاکہ فیصلے ہم نہیں کرتے بلکہ ہم سے کروائے جاتے ہیں ۔ کینسر تھا کہ راز حیات ۔۔۔ پرت در پرت کھل رہا تھا۔ جس طرح زندگی جینا ایک ہنر ہے ، اسی طرح موت سے آگہی ، لفظوں کی حد تک نہیں اس کو جاننا بھی ضروری ہے۔ کائنات کی یہ واحد ایسی سچائی ہے جس کے دونوں رخ سب کے لئے ابدی ہیں۔ اور ہم بے خبر انسان نہ تو ڈھنگ سے جیتے ہیں اور نہ ہی مرنا جانتے ہیں۔
مجھے یہ جان کر اتنی حیرت ہوئی کہ میں نےکبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ میں بھی مر جاؤنگی یا مر سکتی ہوں ۔
جب بھی سوچتی تھی تو میری سوچوں میں میرے علاوہ سب مر جاتے تھے ۔۔ میری کہانیوں میں بھی میرے کردار مر جاتے تھے ۔۔ میری شاعری میں بھی دوسرا فریق مرتا تھا ۔۔ میں ہر موقع پر بچ جایا کرتی تھی یا خود کو بچا لیا کرتی تھی ۔۔ میں کب سے یہی سوچ رہی تھی کہ ایسا صرف میں ہی سوچتی تھی یا سب ایسا ہی سوچتے ہیں ۔
یقین جانیئے میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں مرجاؤنگی ۔
ہائے ۔۔۔ صد افسوس
ہمیں عبادت ، عیادت اور رحلت کے آداب ہی معلوم نہ تھے ۔
جاری ہے
ڈاکٹڑ نگہت نسیم














پیاری نگہت نسیم
زندگی کے اسرار کو پرت در پرت کھولتی آپ کی تحریر نے مجھے اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے ، آج سے 3 سال پہلے جب مجھے بھی اسی قسم کے حالات سے گزرنا پڑا تھا تب شاید پہلی مرتبہ مجھ پر یہ ادراک کا در وا ہوا کہ مرضیء مولا از ہمہ مولا ۔۔۔۔ اس کی طاقت اور اپنی بےاختیاری کے صحیح معنی مجھے ان حالات میں ہی سمجھ آئے تھے ، مجھے لگتا ہے اللہ نے مجھے اس شدید مشکل میں ڈالنے اور پھر اس سے نکالنے کے ذریعے مجھے اپنے سے قریب تر کیا ، اتنا قریب کہ مجھ جیسی کم حوصلہ اور ڈرپوک واہموں سے گھری خاتون اب ہر لمحہ اس کے ہونے کو محسوس کرتی ہے ۔۔۔۔ آپ کی تحریر دل کو چھوتی ہے ، سلامت رھیں
JazakAllah
کتنے دنوں سے میرے سامنے پوسٹ بعنوان نگیت تمہیں کینسر ہے گزر رہی تھی اور میں کسی مجرم کی طرح نظریں چرائے گزر رہا تھا. لیکن آج جہسے کسی نے آواز دے کے روک لیا ہو کہ سماجی دنیا کے رشتوں کے بھی تقاضے ہیں. اور ڈاکٹر نگہت کے ساتھ تو قلم کا رشتہ بھی ہے پھر یہ جرات کر ہی ڈالی. پہلی قسط حدود اختتام کو چھونے لگی اور آنکھوں کی سرزمین سے جدا ہوتے آنسو پلکوں پہ جھلملانے لگے. اگلی قسط نے شاید جذبات کو تھوڑا سنبھالا دیا. اور پھر ساری اقساط ایک ایک کر کے پڑھ ڈالیں. اس سفر میں کئی موڑ ایسے آئے کہ پلکوں کے بندھن ٹوٹ گئے. اور کہیں کہیں تو شدت سے اس کندھے کی ضرورت بھی محسوس ہوئی جس پہ سر رکھ کے ہچکیوں کو تھپتھہایا جاتا ہے اور آنسووں کو جذب کیا جاتا ہے. کہنے کو تو ایک سیلاب ہے لیکن کاسہ اظہار محدود ہے. اللہ پاک سے دعا ہے آپکو لمبی زندگی, سکھ صحت نصیب فرمائے. ہ
سچ ۔۔دل نکال کر رکھ دیا ۔رلادیا آپ کی باتوں نے ۔ابھی بہت جیئیں گی بہت سارے کام کرنے ہیں ۔بہت چاہنے والے ہیں آپ کے ۔وہ سب دعاگو ہیں ۔اور رہیں گے ۔کس کس کے زخم پر پھاہا رکھا ہے آپ نے بابا صاحب تو واقعی بہت حساس ہیں ۔اور جس سے محبت کریں ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑے ھوتے ہیں ۔ان کی اور ہماری دعائیں آپ کو کہیں نہیں جانے دیں گی ۔بلکہ بہت جلد آپ مکمل شفایابی اور ترو تازگی کے ساتھ کوئ نیا پروجیکٹ کررہی ھوں گی انشاء اللہ