ڈاکٹر نگہت نسیم کی کورونا ڈائری ۔۔۔قسط نمبر28‎

0
1025

یکم اپریل 2020

کورونا کی وبا میں سیاسی قائدین

An Award-Winning Week!

 

 

 

وبائی دنوں نے
دنیا کے ہر خاص و عام کو آزمایا ہے

تمام سیاسی قائدین کی قائدانہ صلاحیتوں کو پرکھا ہے
آج جی چاہ رہا ہے
خواتین قائدین کی بات کروں
ان کی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کروں

تائیوان کی صدر سوسائی اینگ ون

تائیوان کی پہلی خاتون صدر
سوسائی اینگ ون نے سب سے پہلے
اور تیزترین ردعمل ظاہر کیا
جنوری میں کورونا کی پہلی علامت پر
لاک ڈاؤن کئے بغیر
وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے 124 اقدامات متعارف کروائے
اور ابھی تک تایئوان میں صرف 6 اموات ہوئی ہیں
اس وقت وہ دنیا میں
اپنے اس بہترین رد عمل کے لئے پہلے نمبر پر ہیں
امریکہ اور یورپ کو
کورونا وبا سے بچنے کے لئے ماسک بھیج رہی ہیں

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسنڈا آرڈرن

جنوری میں
ووہان میں لاک ڈاؤن ہوتے ہی
جسنڈا آرڈرن نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا
اپنی تنخواہ اور ممبر پارلیمان کی تنخواہیں کم کر دیں
انہوں نے فیس بک لایئو پر اپنی قوم کو بتایا
ملک کو کیوں اور کس وجہ سے لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے
اور ایسے وقت میں قوم کو کس طرح سے رہنا ہے
اور پھر دنیا نے دیکھا کہ
ان کے اقدامات کے بعد
نیوزی لینڈ میں اب تک صرف 4 اموات ہوئی ہیں
وضاحت اور فیصلہ سازی
نیوزی لینڈ کو کرونائی طوفان سے بچا رہی ہے


کترین جیکبسٹیٹیر

ماہر ماحولیات
کترین جیکبسٹیٹیر
جو 2040 تک آئس لینڈ کو
کاربن فری بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں
اور کورونا کی عالمی وبا میں
اپنے تمام شہریوں کی
کورونا وائرس کی مفت جانچ کا حکم دیا ہے
ٹریکنگ کا ایک مکمل نظام قائم کیا ہے
وہاں ایک بھی اسکول بند نہیں ہے
اور آیئس لینڈ میں اب تک 8 اموات ہوئی ہیں
جبکہ زیادہ تر ممالک میں
فعال علامات رکھنے والے افراد تک جانچ محدود ہے
اور زیادہ تر ممالک میں ابھی تک اسکول بند ہیں

فن لینڈ کی وزیر اعظم ساننا مارن

نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم
جیسِنڈا آرڈرن 39 سال کی ہیں
یوکرین کے وزیرِ اعظم
اولیکسی ہونچاروک 35 سال کے ہیں
فن لینڈ کی وزیر اعظم ساننا مارن
دنیا کی کم عمر ترین وزیراعظم صرف 34 سال کی ہیں
انہیں معلوم ہے
لوگ اخبار اور خبروں سے دور رہتے ہیں
انہوں نے کورونائی دنوں میں
مشہور اور مخیر لوگوں کو جمع کیا اور درخواست کی
وہ اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے لوگوں میں
کورونا کے بارے میں درست معلومات اور حفاطتی تدابیر کو پھیلایئں
ان کی اس تدبیر وتدبر سے فن لینڈ میں اب تک 49 اموات ہوئی ہیں

ناروے کی وزیر اعظم ، ارینا سولبرگ

وبائی دنوں میں
سب نے سوچ لیا تھا
اسکول بند کر دیں گے تو بچے بہل جایئں گے
لیکن ۔۔ ارینا سولبرگ نے ایسا نہیں سوچا
انہوں نے ایک کانفرنس بلائی
جس میں صرف بچے ہی شرکت کر سکتے تھے
ارینا سولبرگ نے
ملک بھر سے
بچوں کے سوالات کے جوابات دیئے
انہیں وقت کی نزاکت کا احساس دلایا
یہ سمجھایا کہ خوف محسوس کرنا کیوں ٹھیک ہے
ان کی اس مہر و محبت کی تدبیر سے ناروے میں اب تک 98اموات ہوئی ہیں

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکن

کورونا کی عالمی وبا میں
میٹے فریڈرکن نے بہت زمہ داری سے اپنے منصب کو نبھایا
سب کو صبر اور افہام و تفہیم کی ترغیب دیتی رہیں
بارہا اپنی عوام سے کہا
زندگی اب پہلی جیسی نہیں ہے
روزمرہ کی زندگی کو معمول پر واپس آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں
انہوں نے سب سے کہا
ہر فرد کا فرض ہے وہ ان حالات میں اپنا کردار نبھائے
تاکہ ڈنمارک
آہستہ آہستہ اپنی روز مرہ زندگی کی طرف واپس آئے
میٹے فریڈرکن نے یہ بھی کہا
اگرچہ انفیکشن کا پھیلاؤ ابھی قابو میں ہے مگر وبا ابھی بھی موجود ہے
صورتحال ابھی بھی نازک ہے
اور بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے
پھر بڑی محبت اور یقین سے کہا
دوسروں کی حفاظت کے لیے اپنی حفاظت کریں
ان کی اس فکر اور دانشمندی سے
ڈنمارک میں اب تک 260اموات ہوئی ہیں

جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل

کورونا وبا کے اولین دن تھے
انجیلا مرکل نے سچائی سے اپنی عوام کو بتایا
کورونا کی عالمی وبا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے
جس سے 70 فیصد آبادی متاثر ہوگی
پھر انہوں نے کہا
“یہ سنجیدہ مسلہ ہے ، اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔”
پھر یوں ہوا کہ
جرمنی نے انکار ، غصہ اور چشم پوشی سے کام نہیں لیا
اور کورونا سے منسلک ہر یورپی ملک سے جیت گیئں
ان کی سچائی اور سمجھ بوجھ سے
جرمنی میں انفیکشن اور اموات یورپ میں سب سے کم رہیں
وہاں پر اب تک صرف 2673 اموات ہویئں ہیں

دنیا نے دیکھا
ان تمام خواتین رہنماؤں نے
جو ہمدردی اور دیکھ بھال کی
وہ مرد سیاسی راہنماؤں کے مقابلے میں حیران کن تھی
ان کی محبت ۔۔ ان کی حوصلہ مند باتیں
جیسے دل سے دل کو پہنچ رہی ہوں
بیمار جیسے قرار پا رہا ہو ۔۔ زندگی کی طرف لوٹ رہا ہو
وہیں پر
ایسے مرد قائدین بھی تھے
جنہوں نے
عالمی وبا کی آڑ میں
بغض و عناد کی دیواریں اونچی کیں
اپنے بینک، خزانے بھرنے کے لئے نئے کھیل کھیلے
حیلوں بہانوں سے ظلم و جور کو مزید ہوا دی
حد تو یہ ہوئی ۔۔ کہ
کورونا وائرس کی وبا ہی کوگروہوں میں بانٹ دیا
اپنی طاقت سے چھوٹے ملکوں میں بحران پیدا کیا
عدلیہ کو گرفت میں رکھا صحافیوں کو شیطان بنایا
سنو ۔۔
طاقتور عالمی راہنماؤ
ٹرمپ ، بولسنارو ، لوپیز اوبراڈور
مودی ، دوتیرے ، اوربان ، پوٹن ، نتن یاہو
(Trump, Bolsonaro, López Obrador, Modi, Duterte, Orban, Putin, Netanyahu)
اکیسویں صدی کی
عالمی وبا کی تاریخ
تم سب کو
شاید کبھی معاف نہ کرے
اور تمہارے
انسان دشمن عزائم ہمیشہ یاد رکھے گی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کورونا اور دینی قائدین

اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گٹیرس نے کہا
دوسری جنگ عظیم کے بعد
کورونا کی عالمی وبا نے
دنیا کو “بدترین بحران” سے دوچار کیا ہے
عالمی سطح پر
اب تک متاثرین کی تعدا 10 لاکھ سے زائد ہے
اور دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 50،000 ہے
ہائے مسجد منبر اب بھی خاموش ہے
کتابوں میں لکھا ہے
مسجد منبر سب سے بڑا میڈیا ہے
کاش کہ
صاحبان عقل و ہوش
ڈاکٹرز، حکیم ، ہومیو پیتھ
پیر،خانقاہوں اور حجروں کے گدی نشین
روحانی علاج کرنے والوں کو دعوت دیتے
لایئو آن لائن آتے ۔۔
عوام کو کورونا وائرس سے ”بچواوربچاؤ“ کی آگاہی دیتے
لوگ انہیں براہ راست سنتے اور سوال کرتے
تکلیف زدہ سے دن رات تھوڑے سہل ہو جاتے
پر ۔۔ دینی قائدین نے
سیاسی قائدین سے کم نہ کی
ہر اس بات کی مخالفت کی
جو کورونا سے بچنے کے لئے ضروری تھی
مسجد منبر
جو محبتوں کے پھیلاؤ کے لئے تھا
اسے منافرت کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنا دیا

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY