اللہ پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ قائم اباد رکھے ,فائزہ عباس

0
697

جس زمین کی ہم صحیح سے قدر نہیں کر پائے اسکی بنیادوں میں کتنی نسلوں کا خون، جان مال ، قربانیاں ہیں مگر ہم نہ تو اس خون کی قدر کر پارہے ہیں نہ ان جزبات کی نہ ہی اس عظیم احساس کی ۔ ۔ ۔ انکی تو تین تین نسلوں نے گھر، بار، مال و دولت، عیش عشرت، آرام سب کی قربانیاں دیں صرف اسلیے کے انے والی نسلیں ایک پرسکون وطن میں باعزت زندگی گزار پاییں ۔ ۔ ۔

نہ کے اسلیے کہ ہم پنجابی، بلوچی، کشمیری، سندھی، گلگتی، خیبر بختونخواہ، بلوچی، یا زبانوں، فرقوں، علاقوں، سیاستدانوں، وڈیروں، جاگیرداروں، مافیاز کے ہاتھوں استعمال ہو کر تقسیم ہونے لگیں ۔ ۔ ۔تقسیم سے انسان مسائل کے حل نہیں پا سکتے،

ایمان، اتحاد اور تنظیم کیساتھ ایکدوسرے سے اخلاقی اصولوں کیساتھ مثبت اظہار رائے اور منطقی، علمی، ہوشمندانہ اور دور اندیشی پہ مبنی گفتگو سے بہرحال ضرور بہتری کا حل نکال سکتے ہیں ۔ ۔ ۔بجائے ایکدوسرے سے بد گمانی کا شکار ہونے کے ہم سب کو بلاتفریق ایک پاکستانی بن کر سوچنا ہو گا اور ایک

پاکستانی کوکیسا ہونا چاہییے اس پر بہت سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا ہو گی ۔ ۔ ۔
کہ ایک پاکستانی کا شعور، علم انداز گفتگو، احساس زمہ داری ، علمی میدان میں ترقی بلند نہیں ہونی چاہییے ۔ ۔ ۔؟ کہ وہ ڈگری یافتہ بے شعور غلام فکر نہ ہو بلکہ ،

مشکلات پہ رونے دھونے کی بجائے اور ایکدوسرے کو لعن طعن کرنے کی بجائے ان مسائل کے حل نکالنے کی طاقت رکھنے والا شعوری اور عملی اعتبار سے بلند فکر، بلند ہمت انسان ہونا چاہییے یا کہ جو منافقت، جھوٹ، دھوکہ دہی، ظلم، کم ظرفی، مصلحت پسندی، ہر بات پہ بھوک، فقر، افلاس اور بے بنجاد ابائ فرسودہ رسموں کے بت پوجنے والا ہو کے جس کے سر پر جاگیرداروں، وڈیروں اور مافیاز نے اپنے ظلم، مفاد، اور ہیر پھیر میں لپٹی سازشوں کا شکار ہونے والا ۔ ۔ ۔

جسکو غیرت کے درست معنی معلوم ہوں نہ کے وہ غیرت جو انا اور ابائ رسموں رواجوں کے تحت چلتی ہو، جسکو یہ پتہ ہو کے کب صبر کا مطلب مسائل پر خاموش ہو جانا نہیں ہے بلکہ ڈٹ کر سامنا کرنا ہے، انکے حل کے لیے تعمیری عملی کوششیں کرنی ہیں ۔ ۔ ۔

جسے پتہ ہو کی جب بات عزت پہ ائے تو حرمت کی حفاظت کرنی ہے ۔ ۔ ۔

جسے ہتہ ہو کے 60 سے 65 فی صد خواتین کی تربیت، تعلیم اور گھر سے نکلنے کے لیے مناسب، پاکیزہ ماحول دینا ہے تاکہ خواتین ان ہاسپٹلز کو چلا سکیں جہاں خواتین کے ہی مسائل حل کیے جاتے ہوں اور کسی غیر محرم کو ضرورت ہی نہ ہو کے ان کی حرمت تک رسائ پا سکے،

ساینس، سیاست، ریسرچ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں عورت کو مکمل حصہ دار ہونا چاہییے کیوں کے عورت کو گھر بٹھا کر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا انکے لیے اسطرح کے پارٹ ٹائم جابز ہوں، شفٹس کی فارم میں کے 4 گھنے، 6 یا 8 گھنٹے کی شفٹ کے اعتبار سے کے وہ اپنے گھر، بچوں اور صلاحیتوں میں توازن رکھ سکیں اور یہ بہت ضروری ہے کے بچیوں، بچوں کو زندگی کا ویثن گھر گھریستی کے علاوہ بھی دیا جائے کے زندگی میں شادی زندگی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔اور گھر ایک ٹیم جہاں پہ سب ایکدوسرے کی صلاحییتوں کا بہترین استعمال کرنے میں ایکدوسرے کے مددگار ہوں نہ کے صدیوں سے چکتی ائ ساس، نندوں کی جنگ میں ہی اگلی صدیاں گزار دی جایین

معاشرے کے ہر فرد کو معلوم ہو کے 60 سے 65 فی صد عورت صرف بچے پیدا کرنے، اور مرد کی تشنگی دور کرنے ہی کا زریعہ نہیں ہے وہ ایک مکمل انسان ہے، اسکی دینی، انفرادی، انسانی، حیثیت ہے کے جسکو میدان عمل میں اقرار کیے بنا، سمجھے بنا اور اسکو درست جگہ پہ لگائے بنا کوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، اج کی ماں کا شعور اور ویثن ایسے ہی بلند ہو کے جسطرح جناب زینب سلام اللہ علیہ کا تھا ۔ ۔ ۔

کے جنکے ھدف کی تربییت انکو بچپن ہی میں دی گئ تھی کیا اپ علم میں، کردار میں، عمل میں کسی بھی مرد سے کم تھیں…؟ کیا اپ سلام اللہ علیہ میدان عمل میں امام حسین علیہ السلام کے ساتھ نہ تھیں اسی طرح اس صدی میں فاطمہ جناح رح کا حصہ جو ازادی کے حصول کی راہ میں انہوں نے ملت کے لیے پلے کیا ۔ ۔ ۔دین نے حیا داری سکھائ ہے اور حیا مرد و عورت دونوں ہی کے لیے یکساں ہے ۔ ۔ ۔صرف عورت کو گھر میں گھر داری دے مخصوص کردینے کو حیا نہیں کہتے ۔ ۔ ۔اس سب کو کہنے کی وجہ یہی ہے کے ہمارے معاشرے نے عورت کو شعوری اعتبار سے لونڈی اور باندی جیسی ایک مخصوص حیثیت دی ہے ایک میجر طبقہ اسی کا شکار ہے اور خواتین کی گھریلو سیاست میں ہنگامہ ارائ کی وجہ بھی انکی صلاحیتوں کے درست جگہ استعمال نہیں ہونا ہے۔ ۔ ۔کسی بھی قوم کو پاکیزہ، بلند فکر پر اعتماد مائیں ہی ترقی اور نجات دلا سکتی ہیں پر جس معاشرے کی عورت فیشن، دکھاوے، اور انڈین، ویسٹرن ڈراموں، فلموں سے ہی زندگی کے معنی اخز کریگی اٹھنے بیٹھنے، سازشیں کرنے کی تربییت لے گی اس معاشرے کا حال ہمارے سامنے ہے ۔ ۔ ۔

جن تین نسلوں نے ہم جیسی ان نسلوں کے لیے قربانی دی تھی کے جنہیں یہ تک معلوم نہیں تھا کے اس دھرتی پہ رہنے والے ہم جیسے لوگ ہونگے جن میں نہ تو احساس زمہ داری ہوگا، نہ مسائل سے نپٹنے کی صلاحیت، نہ ہی قربانیوں، کوششوں اور قوم، دین و ملت کی پرواہ تو شاید وہ رک کے سوچتے کے یہ قربانی دیں یا نہیں مگر شہیدوں کا لہو نہ تو بے رنگ تھا، نہ بیکار وہ سب ہم سے زیادہ قیمتی لوگ تھے کے جنکے ضمیر اور ۔ ۔ ۔ احساس میں بیداری ۔ ۔ ۔تحریک ۔ ۔ ۔اور عمل کی قوت تھی سو اب ہمیں بھی اپنے قومی بچپنے سے باہر نکل انا چاہییے اور اپنی زمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے انکے لیے درست حل نکا لنے والے ازہان، لیڈرز، تھنکرز، پروفیشنلز، پیدا کرنے چاہییں جب تک ہم سب پاکستانی بن کر نہیں سوچیں گے اور اہنی دھرتی کو اپنی مٹی کی قیمت کو سمجھیں اور اسکا سب سے اسان طریقہ یہ یے کے پہلے ہم یہ جان لیں کے ہمارے دشمن کون ہیں…؟
اور کس انداز سے وہ ہمیں ہمارے ہی خلاف استعمال کر رہے ہیں؟
جب ہم اہنے دشمنوں کی لسٹ بنایینگے تو معلوم چلیگا کے جتنا بڑا دشمن ہوتا ہے اتنی ہی قیمتی وہ شے، شخص، یا مٹی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔

اور سب سے بڑا دشمن ہمارا ہماری جہالت، لاعلمی، کم علمی اور الودہ فکریں ہیں ۔ ۔ ۔ اور اسی کے باعث ہم منفی رسموں، رواجوں، خوف اور ظلمتوں کا شکار ہوتے ہیں اگر اس دشمن پہ قابو لیا تو ہمارا کوئی دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اسکے لیے جاگیردارانہ نظام، موروثی سیاست، ابائ دین، اور ہندوانہ رسموں سے نجات پانی ہو گی ۔ ۔ ۔

تربیت، ہنر، علم، مسائل کے حل کے قابلیت رکھنے وامے ازہان اور لوگ پیدا کرنا ہعنگے اپنے مسائل کو گہرائی سے سمجھتے ہوئے اسی گہرائی، بصیرت اور دور اندیشی سے ہر علاوے، صوبے، جگہ کے انسانی، معاشرتی، صوبائ، علاوائ حقوقِ عدل کی بنیاد پر دینا ہونگے اس ملک اور افراد کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر فرد کو ایک ٹیم کیطرح ایکدوسرے کے داتھ کھڑاہونا ہو گا ایکدوسرے کی قابلییت اور صلاحیت سے جلنے کڑھنے اور نیچا دکھانے کی پالیسیز کی بجائے انہیں سراہنے ان میں مددگار بننے اور ایکدوسرے کی طاقت بننے میں مسرت اور خوشی کی روش اپنانا ہو گی ۔ ۔ ۔ایک قوم بنے کے لیے ایکدوسرے کی طاقت اور کمزوریوں کو اہنانا ہو گا اور ایکدوسرے کی طاقت بننا ہو گا۔ ۔ ۔

اپنے وطن کی قدر اور عزت کرنا بھی ایمان اور کردار کی نشاندہی کرتا ہے ۔ ۔ ۔

رب کریم اس پیارے ملک کو ہمیشہ ہمیشہ قائم اباد، آزاد اور شاد رکھے ہر شر سے اسکی حفاظت فرمائے اور ہر خیر سے اسکو کامیاب رکھے اور اسکے اندرونی و بیرونی دشمن کو برباد کرے ۔ ۔آمین

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY