قابض بھارتی حکومت کی جانب سے کرفیو اور پابندیوں کے باعث مقبوضہ وادی کے شہریوں کو آج جمعے کی نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی مذہبی آزادی بھی سلب کرلی۔
عید الاضحیٰ کے بعد مقبوضہ وادی میں جمعے کی نماز پڑھنا بھی مشکل ہو گئی، قابض فوج نے کرفیو اور پابندیوں کے دوران شہریوں کو جمعے کی نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔
ایک کشمیری شہری نے اپنے ویڈیو پیغام میں اس حوالے سے کہا ہے کہ آج جمعہ ہے، قابض حکومت ہمیں مسجد میں جانے نہیں دیتی، نہ ہی نماز پڑھنے دیتی ہے۔
ایک اور کشمیری شہری کا کہنا ہے کہ پابندیوں اور ہر جگہ رکاوٹوں کے باعث ہمیں شدید پریشانی ہے، یہاں سب کچھ بند ہے، ہم بھی بند ہیں، حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ درست نہیں ہے، یہاں سب ہاؤس اریسٹ ہیں۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی حکومت کی جانب سے کرفیو کے نفاذ کا آج تیرہواں روز ہے، وادی میں ہر طرف خوف کا ماحول ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، مقبوضہ وادی کا رابطہ مسلسل تیرہویں روز بھی دنیا سے منقطع ہے۔
مظلوم کشمیری خوراک، ادویات اور دیگر ضروریاتِ زندگی سے محروم ہیں، جس سے مودی کا ہندو ازم کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ وادی میں کرفیو کے باعث انٹر نیٹ اور ٹیلی فون سروس معطل ہے جبکہ تمام رابطے منقطع ہونے سے کشمیری عوام کا رابطہ دنیا بھر سے کٹا ہوا ہے۔
بھارت نے مقبوضہ وادی کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے اور ہزاروں بھارتی فوجی تعینات کر رکھے ہیں، کرفیو کے باعث ضروریاتِ زندگی، بچوں کے لیے خوراک اور جان بچانے والی ادویات کی قلت کے باعث انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔












