صحرا میں خُم کے اُترے فلک سے جو جبرائیل
ہمراہ لائے اپنے وہ روشن کھری دلیل
گرنے لگی تھی جبر کی طاغوت کی فصیل
بے شک ولی کمال ولایت تھی بے مثیل
نعت تمام کر دی خدائے عظیم نے
دست علی اُٹھایا رسول کریم نے
تکمیل دیں کا دوستو اعلان ہے غدیر
اللہ سے رسول سے پیمان ہے غدیر
حق بات یہ ہے حُرمت قرآن ہے غدیر
تاروز حشر دین پہ احسان ہے غدیر
دست نبی کو دست علی ہی قبول ہے
جس کا علی ہے مولا اُسی کا رسول ہے
بے شک خدائے پاک کا انعام ہے غدیر
اللہ کے رسول کا پیغام ہے غدیر
میدان خُم میں اُتار جو الہام ہے غدیر
سوچو تو سچ یہی ہے کہ اسلام ہے غدیر
مُنکر غدیر کا ہوا دُشمن اصول کا
دشمن خدا کا اور خدا کے رسول کا
وہ جنکا اُٹھ چکا ہوا ایماں غدیر سے
نسلیں ہیں جنکی اب بھی پریشاں غدیر سے
بعد رسول توڑے جو پیماں غدیر سے
حیران آج بھی ہیں جو انساں غدیر سے
صفدر وہ جن سے تنگ ہوئی عترت رسول کی
کیسے ملے گی اُن کو شفاعت رسول کی
صفدر ھمدانی













