سب سے پہلے تو ہم سب کو پیارے نبی صلم کی اآمد کا ماہ بہت بہت مبارک ہو لاکھوں درود اور سلام ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر

میں اُس پیارے نبی کی آمد کے ماہِ مبارک پر جو لکھ رہی ہوں دل خون کے آنسو روتا ہے کہ ہم اُس نبی کی اُمت ہیں جو جہالت اور جھوٹ کو مٹانے کے لئے اللہ کی طرف سے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور ہم اُن کے اُمتی ہیں لیکن جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ ہمیں دُکھ دیتا اور تکلیف میں مبتلا کرتا ہے کہ ہم نے جھوٹ کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ،شرمندگی سے کوسوں دور ہیں ،بے ایمانی کے لبادے اوڑھ لئے ہیں ۔لیکن سب ایسے نہیں ہیں اللہ کے فضل سے بہت لوگ ہیں جو اس ملک کی بقاء کی بنیاد ہیں جن کے کرداروں پر کوئی اُنگلی نہیں اُٹھا سکتا مگر ایک مچھلی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے اور ہمارے تالابوں میں یہ مچھلیاں بہت ہیں کیونکہ ہم انہیں افزائش کا موقہ فراہم کر رہے ہیں خاموش رہ کر ؟؟؟

قانون بھی بنتے ہیں تو صرف کالا دَھن سفید کرنے کے جیسے جائیداد کے زریعے کالا دَھن سفید کرنے کا قانون ۔ہم حیران ہیں ؟؟یہ لوگ جو کمیشن کی آڑ میں دولت بناتے ہیں اُن کی کوئی پوچھ ہی نہیں ہے ۔
جس کا خدشہ تھا وہ ہی ہوا ہم کوئی تنقید نہیں کر رہے بس جو کچھ دیکھ اور سُن رہے ہیں اُس پر ماتم کناں ہیں ،جن باتوں پر فوری توجہ دے کر معاملات کو جلد از جلد نمٹانا چاہئے ہمارے یہاں وہ کمیشن کی نظر ہوتے اآئے ہیں اور ان کمیشن کی رپورٹس کا حال یہ ہے کہ آج تک کوئی رپورٹ سامنے نہیں اآئی ایسی عُنقا ہوتی ہے کہ بس داخلِ دفتر کبھی نہ نکلنے کے لئے ۔یہ ہم سب کا مشاہدہ ہے جس سے شاید نون لیگ کے سوا کوئی انکار نہیں کر سکتا ، اور وہ معاملات جن پر کسی خاص توجہ کی ضرورت نہیں ہوتی ہمیشہ ہی اہم ہو جاتے ہیں جیسے اُلٹے سیدھے بیانات ،جو کبھی بٹن سے متعلق ہوتے ہیں کبھی پرانی شیروانی سے کبھی کسی کی ذاتیات کی دھجیاں اُڑانے کے لئے کبھی کسی کی بلا وجہ تنقید کرنے کے لئے ۔بس یہ ہی ماحول بنا دیا گیا ہے ان جمہوری دوروں میں ملک کا ۔کہیں کوئی مٹبت بات ہوتی نظر نہیں آتی اور ایک دَم یقین کی عمارت اڑا ،ڑا ڑا ،دھڑام نیچے !!!!!

اگر آج ہم مضبوط ہوتے تو کشمیر نہ جَل رہا ہوتا کم از کم انسانی بنیادوں پر اپنے حقوق تو حاصل کر رہا ہوتا ۔لیکن ہم تو ابھی اپنے ہی قدم مضبوطی سے جمانے میں مصروف ہین کہ قیادتیں ہمیں کھوکھلا کر کے نکل جاتی ہیں ،کوئی اقدار چھوڑتی ہیں نہ کوئی اچھی روایت کوئی بھی ادارہ قابلِ اعتماد نہیں رہا جس کا ہمیں بہت افسوس ہے کہ ان اداروں ہی پر رکھی جاتی ہے بنیاد کسی بھی معاشرے کی کہ وہ ایمان داری اور بر وقت فیصلوں سے اپنی طاقت میں اضافہ کرے گا نہ کہ تلوار کی طرح لٹکے معاملات جوعوام کو کسی بھی طرح مطمئن نہ کرتے ہیں نہ کوئی سوچتا ہے کہ اگر ہم نے ان معاملات کو حل؛ نہ کیا تو یہ مشکل میں مبتلا کرینگے ۔کیونکہ ذخم اگر اوپر سے ٹھیک ہوجائے اور اندر سے بڑھتا رہے تو ناسور بن جاتا ہے جیسے ہمارے یہاں ہر مسئلہ کسی نہ کسی طرح دبا دیا جاتا ہے اور اُس کے ناسور ہمیں ڈستے رہتے ہیں ۔بڑے سے بڑے مسئلے کو ہم اہمیت نہیں دیتے جیسے ابھی پاناما کا معاملہ ،ہر ملک نے اپنے یہاں کے کرپشن کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دیا لیکن ہم موقہ دے رہے ہیں کہ کوئی یہ نہ کہے کہ زیادتی ہوئی اگر انصاف بھی یہ سوچنے لگے تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔کیونکہ ان مناصب پر بیٹھے لوگوں کو اتنا تو پتہ ہو ہی جاتا ہے کہ کون حق پر ہے کون نہیں پھر وقت دینا ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔ہماری تو خواہش تھی کہ ہمارے وزیرِ اعظم نکل آتے صاف ستھرے ۔لیکن ہمیں دُکھ ہے کہ انہوں نے آٹھ ماہ سے پوری قوم کو سولی پر ٹانگ رکھا ہے اور اب عدالت نے بھی کمیشن بنا کر سب کو مذید اُلجھن میں ڈال دیا ہے ۔ہمارا تو ایک ہی سوال ہے کہ کیا ہم کبھی اپنے ملک سے کرپشن ختم کر سکینگے ؟ کیا ہم کبھی ان دولت لوٹنے والوں کو سامنے لا سکینگے ؟ کیا ہم کبھی صاف ستھری سیاست دیکھ سکینگے ؟ کیا ہم کبھی اِن بڑے خاندانوں کو احتساب کے تابع کر سکینگے یا ہم انہیں یونہی وقت دے دے کر طاقتور کرتے رہینگے ۔اور عوام اور معاشرے کو بے حس بناتے رہینگے ؟؟؟

کوریا کی منسٹر کو عوام نے اپنے احتجاج سے کرسی چھوڑنے پر مجبور کر دیا نہ کام چھوڑا نہ اسٹرائک کی روز احتجاج کیا کہ نہیں چاہئے کرپشن کرنے والے لوگ چاہے عورت ہو یا مرد ۔لیکن ہم روز سنتے ہیں کہ ہاں سب کچھ ہمارا ہے لیکن پھر بھی ہم سزا نہیں دے سکتے ۔ہم انہیں مجبور نہیں کر سکتے جو کچھ کہا ہے اُس کا ثبوت دو ،اب اس سے زیادہ ثبوت کیا کہ میں کہوں چیز میری ہے لیکن کہاں سے اآئی یہ نہ بتا سکوں ۔کیسی عجیب بات ہے جو زہنوں سے چپک کر رہ جاتی ہے ۔ ان دو جماعتوں پر جتنے کرپشن کے الزامات ہیں انکی مثال بھی شاید ہی کسی ملک میں ملے کیونکہ ہر قوم اپنے نمائندوں کو بہت دیکھ بھال کر چُنتی ہے ۔وہ اپنے ووٹ کی اہمیت کو سمجھتی ہے ۔ہمارے یہاں ہر بات میں پیسہ بولتا ہے ۔

ہمیں تو اپنی مذہبی جماعتوں پر بھی بہت افسوس ہوتا ہے ۔ہمارے ایک پارٹی کے سربراہ شروع دن سے کمیشن کی بات کرتے نظر اآئے کیوں ؟ یہ ہمارے لئے بھی سوال ہی ہے کیونکہ ان مزہبی پارٹیوں کو تو ایسے معاملات میں اور بھی اپنا کردار پیش کرنا چاہئے کہ یہ خُم ٹھوک کر کھڑے ہوں کہ جلد از جلد ایسے معاملات جن میں بے ایمانی ،اقربا پروری اور دھوکا شامل ہے اُسے جلد از جلد حل ہونا چاہئے ۔مگر ہم ان جماعتوں کو بہت پیچھے دیکھتے ہیں جس کا ہمیں بہت دُکھ پہوتا ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حق کی بات کرتے ہیں انصاف کی بات کرتے ہیں ۔لیکن ان ملکی معاملات میں یہ ہمیشہ کمزوری کا شکار نظر اآتے ہیں یا پھر اپنے فائدے کے طلبگار ؟؟ پھر چاہے کشمیر کمیٹی کے سربراہ ہوں یا کوئی دوسرے امیر ۔ ہمیں دُکھ ہے کہ ہم ان کے بارے میں ایسا لکھ رہے ہیں مگر مجبور ہیں کہ ہمیں ان کے کردار نظر نہیں اآتے وہ کردار جو ہم جیسے کمزور لوگوں کو طاقت دیں کہ سچائی اور دیانت ہی سب کچھ ہے ۔اس پر چلنے والے ہی کامیاب ہوتے ہیں لیکن ان کو ہم صرف بیانات اور جلسوں کی حد تک ہی دیکھتے ہیں ،جس کا ہمیں افسوس ہے ۔کاش کوئی ایک جماعت سختی سے اِن برائیوں کی طرف نظر کرے اور انہیں ملک سے نکالنے کی تگ و دَو کرے صرف تنقید نہ کریں اُن لوگوں پر جو نکل کھڑے ہوئے ہیں اس کرپشن کے خلاف بلکہ اُن کا ساتھ دیں کم از کم اس معاملے میں اآپ کے اختلاف اپنی جگہ لیکن یہ تو قوم کا معاملہ ہے ۔ کا ش ہم سب مل کر ملک سے بے ایمانی اور نا جائز دولت کے خلاف کھڑے ہوں اور اپنے ملک کی طاقت بنیں ۔

اس کمیشن کا کیا انجام ہوگا ہم اللہ پر چھوڑتے ہیں کیونکہ ہم مایوس نہیں ہوتے ہمیں اُمید ہے کہ کچھ نہ کچھ اچھا ہوگا ضرور ۔انشاء اللہ
اللہ وطنِ عزیز پر رحم فرمائے آمین
عالم آرا

SHARE

LEAVE A REPLY