ہم میں سے کتنے والدین اپنے بچوں سے مخلص ہیں۔۔۔ ڈاکٹر نگہت نسیم
02.09.2016, 04:05am , جمہ (GMT+1)
نگہت نسیم ۔سڈنی
عزیز دوستو ۔!
ایک ڈاکٹر کی حثیت سے میری پیشہ وارانہ زندگی میں روزانہ ایک سے زائد ایسے واقعات اور تجربات آتے ہیں جو بہت دیر تک زہنی طور پر پریشان رکھتے ہیں ۔ مجھے پروردگار نے قلم سے محبت اور تخلیق کی دولت عطا کی ہوئی ہے تو میں اکثر اپنے افسانوں ، نظموں کے موضوعات انہیں تجربات سے لیتی ہوں ۔ لیکن اس کے باوجود کچھ واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جومیں شدت درد کی وجہ سے بیان نہیں کر پاتی ۔ پھر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر مسلمہ ہے کہ برصغیر سے مغربی معاشروں اور ترقی یافتہ ممالک میں آنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعادا زہنی طور پر تبدیل نہیں ہو پائی ۔ اور ان معاشرو ں کی وہ مکروہ روایات ان معاشروں میں بھی ان کے ساتھ ساتھ رہتی ہیں ۔
اللہ پاک نے سب سے پہلے انسان کو ہر دین اور مذہب سے بالا تربنایا پھر اس کے لیئے دین فطرت کو پسند فرمایا ۔ مجھے ہمیشہ سے یوں لگا کہ ہمیں دین اور مذہب سے بالاتر ہو کر ہر انسان کی عزت اور اس سے محبت کرنی چاہیئے۔۔۔ کیونکہ ہم اس وقت تک انسان کی عظمت کو نہیں پا سکتے جب تک ہم اس آفاقی قانون پر عمل نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔
کیا نیک نیتی اور اخلاص کا بھی کوئی دین مذہب ہوا ہے ۔۔ ؟ نہیں نا ۔۔ بلکہ یہ تو انسانیت کی اساس ہے۔ میں ایسی باتیں اس وقت خود سے دھراتی ہوں جب میرا انسانیت پر سے یقین متزلزل ہونے لگتا ہے ۔
پچھلے دنوں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا ۔ مجھے اپنے ہی شعبے کی ایک پاکستانی ڈاکٹر نے جو واقعہ سنایا ،اسے اب بھی یاد کر کے اور محسوس کر کے میرے جسم پر کپکی طاری ہو جاتی ہے ۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ میری دوست ڈاکٹر کو فون پرکسی شخص نے اسے اپنے ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے آسٹریلیوی حکومت کو ایک سرکاری خط لکھنے کو کہا جس میں اسے یہ لکھنا تھا کہ اس کے زہنی طور پر پراگندہ اور منشیات کے عادی جوان بیٹے کو پاکستان سے معصوم سی لڑکی “بیوی “ کی مد میں چاہیئے تاکہ وہ “انسانیت “ کے ناطے اس کے بیٹے کی گندگی کواپنے نازک ہاتھوں سے تا حیات اٹھاتی رہے ۔۔۔ وجہ اس خط کے لکھنے کی یہ تھی کہ حکومت آسٹریلیا پہلے ہی ان کے کیس کومسترد کر چکی تھی اور اس کا جواز متعلقہ حکام کے مطابق یہ تھا یہ سب دھوکہ دہی ہے ۔
اپنی ڈاکٹر ساتھی کی یہ گفتگو سن کر میرا دل جیسے پسلیاں توڑ کر باہر نکل رہاتھا۔۔۔ آنکھیں آنسوؤں سے نم تھیں اور لڑکے کے باپ کا یہ جواز میرے خون کی گردش کو تیز کر رہا تھا کہ اس کی بیوی اس کے منشیات کی وجہ سے ذہنی معذور بیٹے کی رفع حاجت اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان سے اپنے ہی خاندان کی ایک غریب یتیم بچی کو اس کی بیوی کے طور پر آسٹریلیا بلوا لیا جائے تاکہ وہ بیٹے کی دیکھ بھال بھی کرے اور اس کی بیوی کو کچھ سکون مل سکے ۔ میری ڈاکٹر دوست نے تعلقات کے باوجود اس کے اپنے الفاظ میں یہ ظلم کرنے سے انکار کر دیا۔ بقول اس کے “
اگر میں نے رپورٹ نہیں لکھی کہ” لڑکا شادی کے قابل ہے اور اپنی فیملی کو جسمانی اور زہنی طور پر سنبھال سکتا ہے “ تو کیا ہوا ، کوئی اور ڈاکٹر لکھ دے گا ، کوئی اور وکیل اس کیس کا وکیل ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی کبھی بھی بک سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔
سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی میری ڈاکٹر ساتھی کا چہرہ زرد ہو رہا تھا اور ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔ اس نے استفسار کے لہجے میں مجھ سے کہا “ ڈاکٹر نگہت کیا انسان اس حد کا جانور بھی ہو سکتا ہے ، سوچواپنے خوابوں کا پردہ اٹھاتے ہی جس لڑکی کی ملاقات ایک حیوان سے ہو اس کا کیا مستقبل ہو گا۔۔۔۔۔؟
میں سوچنے لگی کاش ایسے خود غرض لوگ اس لڑکی کی جگہ اپنی بیٹی کو رکھ کر سوچیں کہ کوئی کبھی ان کے ساتھ بھی ایسا داؤکھیل جائے اور انہیں زندگی بھر کے لیئے ویران کرجائے ۔۔ پھر کیا ہو ۔۔۔ ۔
میری بد دعائیں ہمیشہ ہر ان ماں باپ کے ساتھ رہیں گی جو جانتے بوجھتے کبھی رشتے ناطوں کے نام پر تو کبھی دوستی یاری میں تو کبھی کسی کی غریبی کافائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے معصوم لڑکے یا لڑکیوں کے لیئے اپنے بدکردار ، ذہنی معذور ، منشیات کے عادی بچوں کے ساتھ شادیاں کر دیتے ہیں جو باقی ماندہ عمر کے لیئے روگ کی طرح ان سے چمٹجاتی ہیں ۔
عزیز دوستو ۔۔۔۔۔۔ !
انسان کو پیدا کرنے والے نے کسی بچے کو بھی بد نصیب پیدا نہیں کیا ۔۔اگر کوئی بچہ کسی کمی کے ساتھ اس دنیامیں آیا ہے تو پیدا کرنے والے نے اسے کوئی اور اضافی خوصوصیت عطا کی ہے ۔خدا کے لیئے اپنے بچوں کے نصیب روشن رکھنے کی ہر ممکن کوشش کیجئے ۔۔۔ اپنے بچوں پر کسی دوستی ، کسی محبت کو فوقیت مت دیجئے ۔۔ یقین جانیئے ان کی دکھ تکلیف کی ازیت جتنی آپ کو ہو گی کسی اور کو ہو ہی نہیں سکتی ۔۔ اپنی زمیداری کوپہچانیئے اور بغیر چھان بین کے اپنے جگر گوشوں کو کسی کے حوالے مت کیجئے چاہے وہ آپ کی سگی بہن یا بھائی ہی کیوں نا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کی بیٹی کو بیٹی کہنا ہی کافی نہیں بلکہ عملی طور پر سمجھنا بھی ضروری ہے













