مری ، نتھیاگلی اور مضافاتی علاقوں میں برفانی طوفان،ظفر معین بلے جعفری

0
894

مری ، نتھیاگلی اور مضافاتی علاقوں میں انتظامیہ کی جانب سے بروقت کارواٸی نہ کیے جانے کے باعث باٸس سے زاٸد سیّاح جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔
ہزاروں گاڑیاں چوبیس گھنٹے سے زیادہ ٹریفک جیم اور برف باری میں پھنسی رہیں اور انتظامیہ کی جانب سے کوٸی بھی اقدامات نہ کیے جاسکے
انتہاٸی دردناک مناظر دیکھنے کے باوجود بھی انتظامیہ کی آنکھیں نہیں کھلیں ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سینکڑوں لوگ گھروں میں محصور ہیں ۔ کوٸی نہیں جانتا کہ وہ کس حال میں ہیں ۔ انہیں فوری طور پر ادویات ، خوراک اور امداد کی فراہمی کی اشد ضرورت کو محسوس نہیں کیا جارہا۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ برفانی طوفان کے باعث نہیں بلکہ انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی کے باعث قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ چھتیس گھنٹوں سے برقی رو کی بندش کے باعث صورت حال حد سے تشویشناک ہوگٸی ہے ۔ راولپنڈی ، اسلام آباد اور ایبٹ آباد کی جانب سے نتھیاگلی اور مری جانے کے راستے کو بھی بند کردیا گیا۔ گلیات میں آج برف باری کا چھٹا روز ہے اور گلیات کے بھی تمام تر راستے بند ہیں۔

حکومت پنجاب نے سانحہ ٕ مری کے حوالے سے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی گٸی ہیں ۔ اور ساتھ ہی ساتھ نو جنوری اتوار رات نو بجے تک مری میں داخلے کے تمام تر راستے بند کیے جاچکے ہیں ۔

فوج ، رینجرز اور پولیس کو امدادی کارواٸیوں کےلیے طلب کرلیا گیا ہے اور ہنگامی بنیادوں پر امدادی کام جاری ہے ۔
حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دعوےکے مطابق گزشتہ رات سے اب تک دس ہزار گاڑیوں کو مری جانے روکا جاچکا ہے۔
سماجی حلقوں کی جانب سے حکومت کی بےحسی کے رویے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ محکمہ ٕ موسمیات کی جانب سے پانچ جنوری کو اعلانیہ جاری کردیا گیا تھا کہ آٸندہ چھ سات روز شدید برف باری کے باعث سردی میں شدت کا امکان ہے اور انتظامیہ نے محکمہ ٕ موسمیات کے انتبا اور الرٹ جاری کیے جانے کے باوجود انتظامیہ کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ کی رعایا کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست اور امیر ریاست کی نہیں۔ کیونکہ حکومتی وزرا ٕ سیاحوں پر اور اپنی جان سے ہاتھ دھونے والوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

تاہم گلیات میں شدید برف باری کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔
لیکن مری اور نتھیا گلی میں گاڑیوں اور گھروں میں محصور لوگوں کی مذید اموات کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے.

SHARE

LEAVE A REPLY