ہم گزشتہ مضمون میں یہاں تک پہنچے تھے کہ قر آ ن نے دو مختلف آیات میں نیک بیوی اور نیک اولاد کو رحمت اور بری بیوی اوراولاد کو فتنہ قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے بیوی کا تعاون لازمی ہے اور اس کے بعد بچوں کا تعاون بھی اسی طرح لازمی ہے جس طرح کے بیوی کا تعاون لازمی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایک بری روش نہ جانے کہاں سے آگئی ہے کہ باہمی مشاورت کا قر آنی حکم بھی پس پشت یہ کہہ کرکے ڈالدیا ہے کہ عورت کم عقل ہوتی ہے اس لیئے اس کو کسی مشورے میں شریک نہیں کرنا چاہیئے؟ جبکہ قرآن کہہ رہا ہے کہ تمام معاملات (باہمی)شوریٰ سے طے کیا کرو! نتیجہ یہ ہے کہ ہر خاندان کے سربراہ کو جھوٹ بولنا پڑتا ہے؟ یہ بھی کہاوت ہے کہ ایک جھوٹ چھپانے کے لیئے سو جھوٹ اور بولنا پڑتے ہیں۔ پھر ایک دوسری کہاوت یہ بھی ہے کہ جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا، کیونکہ اگر سچ بولے گا تو ہمیشہ ایک ہی بات ہوگی جب بھی دہرائے گاجبکہ جھوٹ میں ہر ایک کے ساتھ الگ بات کرنا پڑتی ہے اور کہنے والے کو یاد نہیں رہتا کہ اس نے کیا بات کس سے کہی تھی؟ اور اس طرح وہ خود بد گمانی کو جنم دیتا ہے جبکہ حدیث یہ ہے کہ “اپنے خلاف بد گمانی کو جنم مت لینے دو “ اور قرآن نے تو یہاں تک خبردار کردیا ہے کہ بدگمانی کفر تک پہونچا دیتی ہے؟ ہم اس کی پرواہ ہی نہیں کرتے نتیجہ یہ ہے کہ ہرایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے! گھر ہو خاندان ہو یا معاشرہ ہو۔ وجہ وہی ہے جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ جھوٹے کا کوئی اعتبار نہیں کرتا اور ہم بلاوجہ جھوٹ بولنا پسند کرتے ہیں۔ اسی لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ سچوں میں شامل ہوجا ؤ۔ اور ساتھ میں یہ بھی فرمادیا کہ جو کچھ کوئی کرتا ہے تو وہ صرف اپنے ہی لیئے کرتا کیونکہ وہ تو بے نیاز ہے؟ اس کے برعکس اگر سربراہ سچا ہو تو اسے یہ مشکل پیش نہیں آتی کیونکہ سارے پتے تاش کے پتوں کی طرح اہلِ معاملہ کے سامنے ہوتے ہیں۔ بشمول ذرائع آمدن اور خرچ سب پر عیاں ہوتا ہے۔ اگر بیوی نیک ہے تو شوہر کو حرام کما نے لانے سے یہ کہہ منع کردیتی ہے کہ میں حرام کما ئی نہ خود کھا ؤنگی نہ آپ کو کھانے دونگی نہ اپنے بچوں کو کھلا ؤں گی؟ اس طرح بیوی بچے جہنم سے بچانے کا باعث ہوتے ہیں؟ جبکہ اگر تمام شریک مشاورت میں شامل نہ ہوں تو یہ ہی بیوی بچے جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔ وہ جانتے ہی نہیں کہ ہماری آمدنی کیا ہے خرچ کیا ہےاور وہ ہم چشموں کو دیکھتے ہیں اور گھر آکر والدین سے ضد کرتے ہیں کہ ہمیں یہ چاہیئے اور وہ چاہیئے،اور اس طرح باپ حرام کمائی کمانے پر مجبور ہوتا ہے اور وہی کنبہ اسے جہنم میں لے جانے کا باعث ہوتا ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے گھر سے برکت اٹھ جاتی ہے مشکلات پیدا ہوتی ہیں؟ اگر اس کے دل میں ذراسا بھی ایمان ہے تو اسے احساس ہوتا ہے۔ تواب وہ اس مصیبت سے جان چھڑانا چاہتا مگر چھڑا نہیں سکتا، توبہ کرنا چاہتامگر کر نہیں سکتا کیونکہ اللہ تو فرماتا ہے کہ “ تم توبہ کرکے میرے پاس پہاڑ جیسے گناہ اگر لیکر آؤگے تو میں معاف کردونگا ً لیکن اگر تمہارے ذمہ کسی کے حقوق ہیں یعنی تم نےکسی کامال مارا، کھایا یا دبایا ہے تو اسی کو تمہیں جیسے بھی ہو راضی کرنا پڑے گا وہ میں معاف نہیں کرونگا؟ یہ شرط وہ کیسے پوری کرسکے گاجبکہ اسے پتہ ہی نہیں ہے کہ اس نے کس کا حق مارا ہے اس نے کس کا مال دبا یا ہے؟ کیونکہ حرام کی کمائی کاکوئی ریکارڈ ہی نہیں رکھتا؟ اگر اب اسے اللہ یاد آتا بھی ہے تو اس کے پاس جنکا مال مارا ہے ان کو مطمعن کرنے کا کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا۔اور اگر اس نے سرکاری خزانے سے مال لیا ہے تو وہ کروڑوں عوام کو کیسے مطمعن کرے گا یا کسی لمیٹیڈ کمپنی کا ہے تو کہاں سے ریکارڈ ملے گا جو وہ توبہ کی یہ شرط پوری کر سکے؟ یہ تو مجبوریاں ہیں توبہ کے سلسلہ میں اس شخص کی جو توبہ کرنا بھی چاہے تو یہ شرط پوری نہیں کرسکتا ہے؟ پھر بھیی تھوڑا سا بھی ایمان ہے تووہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ بقول حضور ﷺ حج پر چلا جاتا ہے اور غلاف کعبہ کو پکڑ دعا کرتا ہے؟مگر اسے قبولیت کی کہیں بھی جھلک نظر نہیں آتی تو پریشان ہو جاتا ہے؟ جبکہ وہاں کے بارے میں مشہور ہے کے جو وہاں جاتا ہے اور تمام شعائر حج پورے کرتا ہے تو وہ ایسا ہوجاتا ہے جیسے نوزائیدہ بچہ؟ مگر وہ بقول رسول ﷺ کے یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی غذا حرام کی ہے، کپڑے جو پہنے ہے وہ حرام کے ہیں جبکہ اللہ پاک ہے اور صرف پاک چیزماوں کو قبول فر ماتا ہے؟ لہذا حج ِ مبرور تو اسے نصیب ہونا مشکل ہے کیونکہ اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنی سنت کو تبدیل نہیں کرتا؟ لیکن یہاں میری ناقص رائے میں ایک صورت ابھی بھی باقی ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ میری رحمت سے مایوس نہ ہو صرف کافر ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوتے ہیں؟اگر زندگی میں توبہ کرلے اور کوشش کرکے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ حقداروں کو واپس کردے اور باقی اللہ پر چھوڑ دےتو امید ہے کہ شاید اللہ سبحانہ تعالیٰ اس کے عزم ِراسخ اور مجبوری کو دیکھ کر اسے معاف کر دے یا تھوڑی سی سزا دیکر معاف کردے جو اس سے کہیں بہتر ہے کہ وہ ابدی طور پر جہنم کی صعوبتیں جھیلتا رہے؟ اللہ ہم سب کو توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)












