ڈاکٹر نگہت نسیم کی نظم “ فلک اشتباہ “ پر زبیر منور کا تبصرہ

1
581

فلک اشتباہ ۔۔۔۔۔۔

ہم ۔۔!
کاغذ کا شہر
سوچ کی گلیاں
بھاگتی روحیں ہیں
سنو۔۔!
ہم فلک اشتباہ کا
کونسا ستارہ ہیں ؟

ڈاکٹر نگہت نسیم

نظر گہری ہو تو نسیمِ سحر کے تازہ جھونکے ڈاکٹر نگہت نسیم کے قلم سے پھوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یوں کہا جائے کہ نامور شعراء کرام کی طویل نظموں کو مختصر نظموں کے کوزوں میں بند کرنے کا ہنر عہدِحاضر نے ڈاکٹر نگہت نسیم کے قلم کی جدت اور ندرتِ خیال کو بخشا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔

ممکن جہاں نا ممکن کی حدوں کو چھونے لگتا ہے وہیں سے ڈاکٹر نگہت نسیم کا قرطاس امکان کے ہونے کا تاثر بکھیر دیتا ہے۔ آپ کی یہ تازہ نظم، ” فلک اشتباہ ” اُس سوچ کا شاہکار ہے جِسے صدیوں سے انسانی فطرت اپنی اپنی عقل کے مطابق تلاش کرتی چلی آئی ہے۔

ہم کون ہیں؟ کیا ہیں؟کیوں ہیں؟ کب سے ہیں؟ کہاں سے آئے ہیں؟ کل پرزے ہیں یا حدودِ امکاں کا ظہور؟ گومگو کی اِس کیفیت نے نہ جانے کتنے قرطاس سیاہ کیئے ہوں گے اور اب تک نہ جانے کتنے روشن دماغ جستجو کی آرزو لئے فقط اپنے ہی اندر جذب کئے ڈھیر ہو چکے ہوں گے۔

ڈاکٹر نگہت نسیم کی اس نظم، ” فلک اشتباہ ” کے عنوان ہی سے جہاں افلاک کے گردوں کا حاشیہ ترتیب پاتا دِکھائی دے رہا ہے تو وہاں شائبہ بھی موجود ہے۔ نظم کا ہر ہر لفظ اپنے اندر استعاروں کے ساتھ مضبوط قلعوں کا روپ دھارے اپنے سحر سے نکلنے ہی نہیں دیتا۔

نظم کا آغاز، ” ہم ! ” اِس قدر جدید اور قد آور ایک مکمل مصرع ہے کہ جِسے کم از کم اُردو شاعری میں شائید ہی کسی اور نے اِتنا معتبر اور مربوط پایا ہو۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کُل کائنات اِسی میں سمٹ کر کہیں گُم ہو گئی ہو۔

دسترس کی اُمید میں زقند بھرتی اس نظم نے فنی ہی نہیں سائینسی اعتبار سے بھی آئین اسٹائین کے نظریہء مطابقت کو اِس انداز سے کریدا ہے کہ جس نے روشنی کی رفتار کو لا محدود کر دیا ہے۔ زمان ومکاں جہاں امکان کے متمنی ہیں وہاں اُنہیں بیان کی گویائی دینے میں اِس منفرد طرزِ تحریر کا کردار آسان بنانے میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اِس تخلیقی کاوش نے روحانی سطح پر ہی نہیں بلکہ سائینسی انقلاب کو بھی دعوتِ فکر دے دی ہے۔ آج تک سائینس محض ایک پل کی طوات کا احاطہ یا اندازہ ہی نہیں کر پائی بلکہ محض مفروضوں کی بنیاد پر مائیکرو اور نینو سیکنڈز اپنی ہی بنائی ہوئی مشینوں کے ذریعے کرنے کی کوشش کرتی چلی آرہی ہے جبکہ اِس نظم نے اُن مفروضوں کو بھی سوچ کی نئی جدت کے تحت مات دے دی ہے۔

تحت الوجود سے تحت الشعور کا طویل سفر جِس انداز میں ڈاکٹر نگہت نسیم نے اپنی اس نظم میں سمیٹا ہے اُس پر وہ یقینی مبارکباد کی مستحق ہیں۔

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY