آسمان ادب کا اختر ۔ اختر حسین جعفری ۔ ظفر معین بلے جعفری

1
2576

اختر حسین جعفری جدید اردو نظم کے قدآور شاعر تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ وہ جدید اردو نظم کے انتہاٸی معتبر شاعر ہیں۔ اس لیے کہ وہ جہان ادب میں آج بھی زندہ ہیں۔ آسمان ادب کا ” اختر “ ڈوبا نہیںٕ بلکہ جھلملا رہا ہے اور خوب جگمگا رہا ہے۔ وہ یقینی طور پر اختر صبح تھے اس لیے دنیا کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہوتے بھی ہمیں ”آخری اجالا “ دے گٸے ہیں۔ ”آخری اجالا “ دراصل کلیات اختر حسین جعفری کا نام ہے۔ جس کی دھوم کل بھی مچی ہوئی تھی اور آج پھی ایوان ادب میں پوعری گھن گرج کے ساتھ اس کی بازگشت سناٸی دے رہی ہے۔ اس کلیات سے پہلے ان کے دو خوبصورت شعری مجموعے ” آٸینہ خانہ “ اور “جہاں دریا اترتا ہے ” زیور طباعت سے آراستہ ہوکر کاغذی پیرہن میں سامنے آٸے ۔ یہ تینوں شعری مجموعے جدید اردو ادب کا گراں مایہ سرمایہ ہیں ۔ میرے والد بزرگوار قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب انہیں جدید اردو نظم کی آبرو اور پہچان کہاگ کرتے تھے اور ادبی محافل میں انہوں نے فیض احمد فیض ۔ احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا کی موجودگی میں یہ بھی فرمایا کہ مجھے اس عہد میں جدید نظم کا کوٸی شاعر اختر حسین جعفری سے بڑا نظر نہیں آتا اور اگر آپ میں سے کوٸی بھی کسی اور قدآور شاعر کا نام جانتا ہے جو اختر حسین جعفری سے بڑا ہو تو مجھے ضروربتاٸے ۔

ایسا ہونا بھی ! کارِ دارد ہے
جیسے اختر حسین جعفری ہیں
(ظفر معین بلے جعفری)

ایک روز احمد ندیم قاسمی صاحب ریڈیو پاکستان سے اپنا ہفتہ وار کالم پڑھ کر فارغ ہوٸے اور طے شدہ پروگرام کے مطابق
سیدھے بابا جانی قبلہ سیدا فخرالدین بلےشاہ صاحب کی اقامت گاہ (جی۔او۔آر۔تھری) پہنچے ان کے ہمراہ
خالد احمد بھاٸی اور نجیب احمد صاحب بھی تھے۔ اور کچھ ہی دیر بعد طارق عزیز صاحب اور عارفانہ کلام پڑھنے میں بے مثل مقبولیت پانے والے اقبال باہو بھی پہنچے۔
اختر حسین جعفری صاحب کو پک کرکے لانے کی ذمہ داری جناب ابصارعبدالعلی صاحب کی تھی کیوں کہ ہمساٸیوں کے بھی تو حقوق ہوتے ہیں ۔ باباجانی کبھی خود چین و قرار کے ساتھ نہیں بیٹھے تو ہمساٸیوں تک بھی تو فیض پہنچنا ضروری ہے
اس روز احمد ندیم قاسمی صاحب کا موڈ کچھ کوفت زدہ سا لگ رہا تھا ۔ قاسمی صاحب باباجانی سے کچھ یوں مخاطب ہوٸے بَلّے صاحب حد ہی ہوگٸی خدا معلوم کیا ہوگا ان عاقبت نا اندیشوں کا ۔ باباجانی نے دریافت کیا ہوا تو پھر ان کو قاسمی صاحب نے بتایا کہ میں تو برسوں سے ریڈیو سے وابسطہ ہوں اور میرا مسلسل ریڈیو سے اور وابستگان ریڈیو سے رابطہ بھی ہے۔ آج جب ریڈیو پر ایک انتہاٸی نااہل شخص سے رابطہ ہوا تو محسن ملک و ملت جناب سید مصطفی علی ھمدانی بہت یاد آٸے ۔ کیا نفیس انسان تھے ریڈیو پاکستان کی پہچان اور جان۔ پیشہ ورانہ مہارت میں ان کا کوٸی ثانی نہ تھا نہ ہے۔ جب آج ریڈیو پر ایک نااہل شخص سے سابقہ پڑا تو میں نے اس سے کہا کہ کاش آج سید مصطفی علی ھمدانی حیات ہوتے تو وہی آپ کو کچھ سمجھا سکتے تھے لیکن نہیں ایسا ممکن نہیں ہوسکتاتھا کہ آپ اور مصطفی علی ھمدانی صاحب بیک وقت ریڈیو کی اس چھت تلے اکٹھے ہوتے۔ بس اتنی ہی بات کرکےاحمد ندیم قاسمی صاحب نے بہت کچھ کہہ ڈالا تھا۔ قاسمی صاحب کی بات کو آگے بڑھاتے ہوٸے ابصارعبدالعلی گویا ہوٸے ہاٸے ہاٸے کیا ہیرا راہبر و راہنما تھے استاد محترم جناب مصطفی علی ھمدانی صاحب ۔ ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور وہ بھی کمال شفقت فرمایا کرتے تھے اور بہت سی کام کی باتیں سمجھانے کے ساتھ ساتھ ریڈیو پاکستان کے مختلف مراکز میں پنپنے والی داخلی سیاست سے دور اور محفوظ رہنے کا مشورہ دیا کرتے۔ ہمزاد دا دکھ کے خالق اور مقبول ٹو وی شو نیلام گھر سے شہرت کی بلندیوں کو پہنچنے والے جناب طارق عزیز صاحب نے احمد ندیم قاسمی صاحب اور ابصارعبدالعلی صاحب کے موقف کی تاٸید کرتے ہوٸے فرمایا کہ پاکستان ریڈیو اور پاکستان ٹیلی وژن ( کے قیام ) کی عمروں میں جو فرق ہے باپ بیٹے یا ماں بیٹے کی عمروں میں بھی اتنا ہی فرق ہوتا ہے اور ریڈیو پاکستان کے سامنے پاکستان ٹیلی وژن کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسی ماں باپ کے سامنے اولاد کی یا استاد کے سامنے شاگرد کی اور میں تو فخریہ طور پر جناب مصطفی علی ھمدانی صاحب کو اپنا گرو۔ اور راہبر بلکہ روحانی استاد سمجھتا ہوں۔ اختر حسین جعفری صاحب نے عقیدت مندانہ انداز میں مصطفی علی ھمدانی کو خراج پیش کیا اور پھر فرمایا ہم اپنے اسلاف اور محسنین ملت سے آنکھیں چرا کر کہیں کے نہیں رہیں گے یہ بات نٸی نسل کو سمجھ لینی چاہیے۔ یہ بات سن کر طارق عزیز صاحب نے فرمایا اختر حسین جعفری ۔ احمد ندیم قاسمی ۔ سید فخرالدین بلے صاحب اور منیر نیازی میرے پھر طارق عزیز صاحب نے احمد ندیم قاسمی صاحب سے مخاطب ہوکر کہا آپ کی سفارش بھی کام نہ آٸی میں نے بارہا جناب سید فخرالدین بلے صاحب سے گزارش کی کہ وہ میرے شو میں مہمان شاعر و محقق کے طور پر شرکت فرماٸیں اور وہ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹلا دیتے ہیں کہ نہ تو آپ کہیں جا رہے ہیں اور نہ ہی میں ۔ قاسمی صاحب آپ ہی فرماٸیے کہ میں کیا کروں اور بلے صاحب سے احتجاج بھی کروں تو کیسے پسندیدہ شعرا میں سے ہیں۔ محترمہ توصیف افضل صاحبہ اپنی یادوں کے حوالے سے جناب مصطفی علی ھمدانی شاہ صاحب کو خراج پیش کیا
جناب اختر حسین جعفری صاحب گو کہ احمد ندیم قاسمی صاحب اور والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کا بےحد احترام فرمایا کرتے تھے جبکہ یہ دونوں بزرگوار اور خالد احمد بھاٸی ۔ نجیب احمد بھاٸی ۔ ڈاکٹر سلیم اختر۔ مظفر وارثی۔ شہزاد احمد ۔منصورہ احمد۔ صدیقہ بیگم ۔پھپی اماں ادا جعفری ۔ فہمیدہ ریاض۔ بانو قدسیہ آپا۔ اشفاق احمد خاں صاحب ۔ ممتاز مفتی جی۔ پروفیسر انجم اعظمی ۔ شبنم رومانی صاحب۔ جون ایلیا ۔ منیر نیازی ۔ سیف الدین سیف۔ طفیلگ ہوشیارپوری ۔ کلیم عثمانی ۔ محسن نقوی ۔ یوسف حسن ۔ اور علامہ غلام شبیر بخار۔ علامہ طالب جوہری ۔ پیر نصیرالدین نصیر ۔ سلطان ارشد القادری ۔ اور کس کس کا نام لیں اور کون ہے جس کو ہم نے قبلہ اختر حسین جعفری صاحب کی تعظیم و تکریم کرتے نہیں دیکھا۔

شاعر باکمال قبلہ اخترحسین جعفری صاحب سرکار کا مزاج خالصتا“ درویشانہ تھا۔ وہ کیا شہرت کے پیچھے بھاگتے ہم نے تو مقبولیت اور شہرت کو ان کے پیچھے بھاگتے دیکھا ہے
اور جس محکمے سے ان کا تعلق تھا اس محکمے کا مالی بدعنوانی اور رشوت ستانی میں کوٸی ثانی نہ تھا لیکن ہم آج بھی ببانگ دہل چیلنج کرتے ہیں کہ ہے کوٸی کہ جو ان کے حوالے سے جھوٹا دعوی کرنے کی بھی جرات رکھتا ہو۔

سید فخرالدین بلے اور پوری بلے فیملی کو جناب اخترحسین جعفری صاحب کی میزبانی اور مہمان نوازی کا مسلسل اعزاز بھی حاصل ہوتا رہا گو کہ عام طور وہ ہمارے والد گرامی کی طرح کم کم ہی کہیں جایا کرتے تھے لیکن اگر وہ اپنے گھر پر موجود نہیں اور کسی خاص تقریب میں بھی تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا تھا کہ یا تو وہ احمد ندیم قاسمی صاحب کے کسی بھی ٹھکانے مثلا“ مجلس کے دفتر یا فنون کے دفتر یا پھر والد گرمی سید فخرالدین بلے کے گھر پر ملیں گے۔

اختر حسین جعفری کی شعری تخلیقات ویسے تو بلا شبہ 90 فیصد انتہاٸی تواتر اور اہتمام کے ساتھ فنون میں شاٸع ہوا کرتی تھیں یا پھر یہ اعزاز سید فخرالدین بلے اور راقم السطور ظفر معین بلے کے زیر ادارت شاٸع ہونےوالے جریدے ”آواز جرس“ کو حاصل ہوا ۔ فنون کے مدیر احمد ندیم قاسمی اور معاون مدیرہ منصورہ احمد نے قبلہ اختر حسین جعفری کی رحلت کے بعد شاندار و جاندار فنون کا اختر حسین جعفری نمبر بھی شائع کیا تھا۔

ہمارے پیارے اور محترم جناب اختر حسین جعفری صاحب کی والدگرامی قبلہ سید فخرالدین بلے سے محبت اور تعلق داری اور رفاقت کی داستان اللہ جانے کتنی عمر رسیدہ ہوگی ہم تو کم از کم اپنے ہوش سنبھانے کے بعد سے دیکھتے چلے آٸے ہیں اور بےشک ہمیں اختر حسین جعفری انکل کی محبت و چاہت وراثت میں ملی ہے۔ ہمیں جناب منظر حسین اختر بھاٸی صاحب اور برادر عزیز جناب امیر حسین جعفری کا شمار خوبصورت شعرا میں ہوتا ہے اور وہ ہمیں بہت عزیز ہیں۔احمد ندیم قاسمی صاحب نے اختر حسین جعفری صاحب کی موجودگی میں قافلہ کے ایک پڑاٶ میں شرکاٸے قافلہ سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا کہ اگر منظر حسین جعفری اور امیر حسین جعفری نے اسی محنت اور لگن سے اپنے شعری سفر کو جاری رکھا تو ایک دن ضرور یہ آسمان ادب کے درخشاں ستاروں میں شمار ہونگے

اور اب اختر حسین جعفری کا ایک سلام دیکھیں

مجلس شہ۴ میں نئی سطر معانی پڑھئے
سخن اس پر ہو تو کیوں نظم پرانی پڑھئے
وہی اک درس فنا اول وآخر موجود
چاہے سوبار تجھے عالم فانی،پڑھئے
کس کا اقرار سر نوک سناں شہ۴ نے کیا
بات کیا تھی جو تہِ تیغ نہ مانی پڑھئے
چہرہء احمدمرسل۴کو بہ تفصیل پڑھیں
اسی تفصیل میں اکبر۴ کی جوانی پڑھئے
صفحہء دشت پہ یاریت تھی یا پیاس تھی درج
کہیں پانی تھا تو کیسے اسے پانی پڑھئے
جمع میں کرتا ہوں جلتے ہوۓ خیموں کے حروف
آپ اس شام بیاباں کی کہانی پڑھئے
کہاں ترتیب میں اس طرح کے غم آتے ہیں
اشک عنواں کو یہاں مصرعء ثانی پڑھئے(جہاں دریااترتاھے)

غزل۔۔۔۔۔
ھجراک حسن ھے،اس حسن میں رہنا اچھا
چشم بے خواب کو خونناب کا گہنا اچھا

کوئی تشبیہ کا خورشید نہ تلمیح کاچاند
سرقرطاس لگا حرف برہنہ اچھا

پاراترنے میں بھی اک صورت غرقابی ھے
کشتیء خواب رہِ موج پہ بہنا اچھا

یوں نشیمن نہیں ہرروز اٹھاۓ جاتے
اسی گلشن میں اسی ڈال پہ رہنا اچھا

بے دلی شرط وفا ٹھہری ھے معیارتودیکھ
میں برااورمرا رنج نہ سہنا اچھا

دھوپ اس حسن کی یک لحظہ میسر تو ہوئی
پھر نہ تاعمر لگا ساۓ میں رہنااچھا

دل جہاں بات کرے ،دل ہی جہاں بات سنے
کار دشوار ھے اس طرز میں کہنا اچھا

نظم : فیصلہ صبح کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اختر حسین جعفری
فیصلہ صبح کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
رات، تصویر، منتشر چہرہ
چھت گری ہے کہ آئنہ ٹوٹا
کوئی پتھر ہوا کے کاتھ میں تھا
راستہ خود ہو رہنما جیسے
تیز قدموں سے یوں چلا جیسے
اندھا لاٹھی میں آنکھ رکھتا تھا
باغ، جلسہ، افق افق نعرہ
شور، تقریر، قہقہہ، نوحہ
چاند شاید ابھی نہیں نکلا
بلب، فٹ پاتھ، ٹیلیفون کے تار
جسم جیسے پڑھا ہوا اخبار
بورڈ پر نرخ، کان میں جھمکا
چائے عورت کے رنگ سی کالی
بیرا، ہوٹل، غلیظ سی گالی
صاف وردی میں جسم میلا تھا
شیشہ و سنگ جوہری کی دکاں
بند شو کیس، قید روشنیاں
قفل، زنجیر، آہنی پہرا
کذب، دعوے، حقوق، سچائی
ھاتھ خنجر، محاذ آرائی
صبح ہوگی تو فیصلہ ہو گا

ممتاز شاعر ادیب محقق نقاد اور استاذالاساتذہ جناب پروفیسر ڈاکثر خالد اقبال یاسر صاحب نے اس فقیدالمثال نوحے کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ رقم فرمایا ہے آپ بھی پڑھیے ”اس نوحے کا ایک حصہ ضیا الحق نے اپنی ایک تقریر میں اپنی رواداری کے ثبوت کے طور پر پیش کیا۔ اہل قلم کانفرنس کے اس افتتاحی اجلاس میں اختر حسین جعفری بہ نفس نفیس تشریف فرما تھے“
ہم خالد اقبال یاسر صاحب کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے یہ تاریخی واقعہ تحریر فرمایا کہ جو اکثر احباب کو معلوم نہیں تھا۔

(چار اپریل ) ۔۔۔۔۔۔ نوحہ ۔۔۔۔۔ اختر حسین جعفری

اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب
اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کُھلتے نہیں
سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے
جس قدر حرفِ عبادت یاد تھے ، پو پھٹے تک اُنگلیوں پر گن لیئے
اور دیکھا ۔۔۔۔ رحل کے نیچے لہو ہے
شیشہ ِ محفوظ کی مٹی ہے سُرخ
سطرِ مستحکم کے اندر بست و در باقی نہیں
یا الٰہی! مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
ایلچی کیسے بلادِ مصر سے
سُوے کنعاں آئے ہیں
اِک جلوسِ بے تماشہ
گلیوں بازاروں میں ہے
تعزیہ بر دُوش انبوہ ہوا
روزنوں میں سر برہنہ مائیں جس سے مانگتی ہیں منتوں کا اجر، خوابوں کی زکوٰة
سبز سجادوں پی بیٹھی بیبیو!
اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں
اب سمیٹو مُشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم
اشک پونچھو، اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو
کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں
( اختر حسین جعفری)

ایک روز جب میں صدیقہ بیگم کے ہمراہ ادب لطیف کےدفتر سے کچھ کام سمیٹ کر اپنے گھر شادمان جی۔او۔آر تھری پہنچا تو ماشإ اللہ رونق لگی ہوٸی تھی احمد ندیم قاسمی ۔ اختر حسین جعفری ۔ منصورہ احمد ۔ خالد احمد ۔ نجیب احمد ڈاکٹر سلیم اختر۔ ڈاکٹر اجمل نیازی اور غالبا“ دیگر احباب کے علاوہ سرفراز سید بھی ہمارے والد گرامی کے ساتھ محفل جماٸے بیٹھے تھے ۔ اختر حسن جعفری احباب سے مخاطب تھے اور فرما رہے تھے کہ ” اختر واقعی ادب پرور تھا اور احمد ندیم قاسمی صاحب سے تو اسے خاص قلبی لگاٶ تھا جب کبھی فنون کے خدمت گاروں کی فہرست تیار ہوگی تو اختر کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہوگا ۔ اللہ اختر کے درجات بلند فرماٸے ۔“ ہم کیونکہ دوران پہنچےتھےاس لیےجو کچھ بھی ہمارےکانوں نے سنا ہم اس کے پس منظر بالکل بھی واقف نہ تھے البتہ جو کچھ سنا وہ سن کرحیران ضرور تھے پیارے بھائی خالد احمد نے بھانپ لیا کہ ہم موضوع گفتگو سے لاعلم ہیں ۔ اسی لیے خالد احمد بھائی قبلہ اختر حسین جعفری سے انہی کی بات میں اضافہ کرنے کےلیے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ ہمارا بھائی ظفر معین بلے جب بھی فنون کے دفتر آتے تو اختر تمام کام چھوڑ کر ان کیی آؤ بھگت میں لگ جاتا اور کہتا کہ بس پانچ سات منٹ میں آجائیں گے قاسمی صاحب ۔ تب ہم سمجھے کہ فنون کے دفتر میں احمد ندیم قاسمی صاحب کے معاون و مددگار اختر بھائی کی بات ہورہی ہے۔

ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے ہی گھر میں قافلہ کا ماہانہ پڑاٶ ڈالا گیا تو اختر حسین جعفری صاحب نے (ہمارے والد قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کی اس گزارش پر کہ اب باقاٸدہ پڑاٶ کا آغاز فرماٸیے) حاضرین محفل کو ان الفاظ میں مخاطب فرمایا کہ آج کے اس قافلہ پڑاٶ کا آغاز ہوا چاہتا ہے. آج احمد ندیم قاسمی صاحب ۔ خالد احمد . اجمل نیازی۔ ڈاکٹر سلیم اختر ۔ طفیل ہوشیارپوری ۔ شہزاد احمد۔ کلیم عثمانی ۔ ڈاکٹر آغا سہیل۔ منیر نیازی اور آج کے قافلہ کے تمام شرکاٸے پڑاٶ اور مجھ خاکسار و میزبان اختر حسین جعفری کی بھرپور اور پرزور فرماٸش پر سید فخرالدین بلے صاحب سے ان کا کلام سنا جائے گا اور آج ہم سب بلے صاحب کے میزبان ہیں اور بلےصاحب ہمارے مہمان لہذہ آج ہم سید فخرالدین بلے شاہ صاحب کو یہ باور کروانا چاہتے کہ ان کا ہم سب سے جس قدر قلبی اور روحانی تعلق ہے اور ان کے دل میں میرے اور ہم سب کے لیے جتنا خلوص ہے ہم سب بھی انہیں اس سے زیادہ نہ بھی سہی تو اس سے کم بھی نہیں چاہتے اور پھر اختر حسین جعفری صاحب اور احمد ندیم قاسمی صاحب سمیت تمام شرکاٸےقافلہ پڑاٶ نے والد گرامی سے فرماٸش کر کر کے کلام سنا ۔ اختر حسین جعفری اور قاسمی صاحب نے بابا جانی قبلہ سید فخرالدین بلے شاہ سے بطور خاص
نعت ۔ ہے خوف خدا
منقبت سرکار مولاٸے کاٸنات
مری نماز علی ہے مری دعا بھی علی
سلام ۔ سرکار امام حسین ع
حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کےلیے

نظم ”آگ“ ۔ نظم 6.ستمبر ۔
نظم۔ خلا کی تسخیر
نظم ۔ بازیافت
اور
نظم ۔ سالگرہ کا تحفہ
اور دیگر نظمیں اور غزلیں مسلسل فرماٸش کرکر کے سنتے رہے
بے پناہ داد دیتے رہے ۔ سر دھنتے رہے اور سنتے رہے۔

ایک اور اہم واقعہ بھی مجھے یاد آرہا ہے۔ہم لاہور میں تھے محترمہ منصورہ احمد کا فون آیا اور انہوں نے کہا بابا یعنی محترم احمد ندیم قاسمی صاحب بات کرنا چاہ رہے ہیں اور پھر قاسمی صاحب نے بتایا کہ ہم بہت تھوڑی دیر کیلئے علامہ طالب جوہری صاحب کے ساتھ آپ کے گھر آرہے ہیں۔ میرے والد گرامی قبلہ سید فخرالدین بلے یہ ُسن کر جی اٹھے ۔انہوں نے اصرار کرکے مختصر ملاقات کو ظہرانے میں تبدیل کرانے پر علامہ صاحب کو راضی کرلیا۔ نظم کے عظیم اور معروف شاعر اختر حسین جعفری اپنے صاحبزادےمنظر حسین اختر اور مشکورحسین یاد کے ساتھ تشریف لے آئے۔ادب لطیف کی چیف ایڈیٹر محترمہ صدیقہ بیگم کو بھی میں نے فون پر آگاہ کردیا۔ روزنامہ ڈان کے اشفاق نقوی کوبھی مدعو کرلیاگیا۔ مایہ ء ناز صداکاراور فلمی اداکار محدو علی بھی آگئے ۔ اہم ادبی موضوعات پر بڑے لوگوں کے مابین گفگتگو شروع ہوگئی۔ اوربڑی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد علامہ طالب جوہری ابو کی طرف متوجہ ہوئے اور امیر خسروکے بعد انہوں نے جوقول ترانہ تخلیق کیا ہے، اسے سننے کی فرمائش کردی۔ فضا من کنت مولا فھذا علی مولا کی صداءوں سے گونج اٹھی۔ علامہ طالب جوہری نے بڑے ذوق و شوق سے یہ سنا اور فرمایاکہ امیرخسرو کے سات سو سال بعد نیا قول ترانہ تخلیق کرنا بجائے خود اہمیت کاحامل ہے اور بلاشبہ سید فخرالدین بلے صاحب کا یہ قول ترانہ معرفت کاانمول خزانہ ہے ۔علامہ طالب جوہری نے احمد ندیم قاسمی اور محترم اختر حسین جعفری سے ان کے تازہ کلام کی فرمائش کردی۔ یہ کلام سن کر میرے والد محترم سید فخرالدین بلے نے اتنا کہا کہ آج کے عہد میں اختر حسین جعفری سے بڑا نظم کا کوئی شاعر ہوتو علامہ صاحب مجھے اس کا نام ضرور بتائیےگا۔ اداکار محمد علی نے انیس اور دبیر کا کلام اپنے مخصوص انداز میں سنا کر سماں باندھ دیا۔۔ علامہ طالب جوہری سے ان کا شعری کلام بھی سناگیا۔ انہوں نے اپنی کئی نظمیں اور غزلیں سناکردامان ِ سماعت کو علم و عرفان کے موتیوں سے بھر دیا۔ ۔ یہ بیٹھک کئی گھنٹے رہی اور اس کے نقوش اب بھی میری یادداشتوں میں محفوظ ہیں ۔ ایک یہی نشست کیا ؟ جہاں جہاں اور جب جب بھی میں نے علامہ طالب جوہری کوسنا،ان تمام یادوں اور باتوں کو شاید میں عمر بھر نہیں بھلا پاءوں گا
احمد ندیم قاسمی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اکثر لوگ مجھ سے میرے ، سید فخرالدین بلے صاحب اور اختر حسین جعفری صاحب کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آپ تینوں ہم جسامت ہونے کے ساتھ ساتھ ہم مزاج بھی نظر آتے ہیں اور ہم لباس بھی آپ کس برانڈ کا ڈریس زیب تن کرتے ہیں۔تو میں ان سے جوابا” کہتا ہوں کہ آپ نے بالکل درست تجزیہ فرمایا ہم تینوں کسی حد تک واقعی ہم جسامت بھی ہیں اور ہم مزاج بھی اور ہم لباس بھی کیونکہ ہم تینوں کا تعلق خاندان فقرإ سے ہے ۔ ہم تینوں فقیرانہ مزاج اور درویشانہ روش کو پسند کرتے ہیں اور اس میں بھی کوٸی شک نہیں کہ ہم تینوں پر ایک دوسرے کی شخصیت کے گہرے اثرات ہیں البتہ یہ فیصلہ ہم نہیں کرپاٸے کہ ہم تینوں میں سے کس کی شخصیت کے زیادہ اثرات مرتب ہوٸے ۔ ہم تینوں کے درمیان اعتماد اور خلوص کا اٹوٹ رشتہ نصف صدی سے قاٸم ہے اور جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط تر ہوتا چلا جارہا ہے ۔ اور آخری بات یہ کہ یہ برانڈ وغیرہ کا معاملہ ہم جیسے وضعدار اور مشرقی اقدار و روایات کے پاس دار خاندانوں میں تاحال تو دیکھنے میں نہیں آیا ۔

ممتاز شاعر اور قلمکار جناب رضا مہدی باقری نے اپنے ایک مضمون میں اختر حسین جعفری صاحب کا خاندانی پس منظراور اہم کواٸف کا ذکر ان الفاظ میں رقم فرمایا ہے بتیس کو برطانوی انڈیا کے ہوشیارپورکے ایک موضع میں سید محمد علی جعفری کے ہاں پیدا ہوۓ جو ایک سرکاری افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک صاحبِ مطالعہ سخی دردمند اور درویش صفَت انسان تھے۔جناب اختر حسین جعفری نے سرسولی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور غیرمعمولی ذہانت وفطانت کے سبب سرکاری وظیفہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوۓ۔ ابھی پرائمری کے طالب علم تھے کہ ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ھوگیا جس کے بعد وہ گجرات اپنے دادا شاہ محمد کے پاس آگۓ جو اپنے علاقے کی بااثر شخصیت تھے۔ اور ایک وسیع و عریض اراضی کےمختارِ عام تھے۔ ۔۔۔کالج لائف سے ہی ترقی پسند حلقہ میں شامل ھوگۓ۔اسی وجہ سے ان کے کاج کے استاد جناب صفدر میر کو ملازمت اور انہیں کالج سے نکال دیاگیا۔چونکہ قیامطھ پاکستان کے بعد ان کےوالد بھی گوجرانوالہ آگۓ تھے۔۔۔لہذا وہ گوجرانوالہ کے کالج میں داخل ہوۓ اور وہیں سے بی اے کیا۔ بعد ازاں کسٹم ڈیپارٹمنٹ میں ملازم ہوۓ اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے تک پہنچے۔اپنی ریٹائرمنٹ سے چند ماہ قبل تین جون انیس سو بانوے کو اپنے دفتر میں حرکت قلب بند ھو جانے کے باعث مالک حقیقی سے جاملے۔
اختر حسین جعفری جدید شاعری کا بہت بڑا نام تسلیم کیا جاتا ھے۔احمدندیم قاسمی کے مطابق وہ ایسے عظیم المرتبت شاعر تھے کہ وہ اپنے بیمثال کلام کی وجہ سے تاریخ ادب میں صدیوں گونجتے رہیں گے۔انہیں انگریزی ادب سے خاص شغف تھا جس کے سبب ان کے کلام میں کیٹس براؤننگ شیلے اور شیکسپئیر وغیرہ کے فکری اثاثے ان کے کلام میں جابجا نظر آتے ہیں۔۔۔۔بلکہ بعض نقاد تو انہیں بیدل کی سطح کا
بے بدل شاعر قرار دیتے ہیں جبکہ بیدل کے بارہ میں دبیرالملک حضرت اسداللہ خان غالب یہ کہنے پر مجبورتھے کہ
طرز بیدل میں ریختہ لکھنا
اسداللہ خاں قیامت ھے
اختر حسین جعفری نے نئی روایات کوجنم دیاشعر کی دنیا کو نئی کہکشاؤں اور نھت نۓ افق دکھاۓ کہ عقل دنگ رہ جاتی ھے۔۔۔سچائی اور محبت کا یہ خوبصورت شاعر کالج لائف سے آخری عمر تک طاغوتی طاقتوں طسے برسر جنگ و جدل رھا“
ٕایک مرتبہ ہم جب احمد ندیم قاسمی صاحب کے بلاوانے پر مجلس کے دفتر پہنچے تو قاسمی صاحب اختر حسین جعفری اور منصورہ احمد سے محو گفتگو تھے
ہمیں دیکھتے ہی قاسمی صاحب نےجعفری صاحب سے پوچھا کہ کیا آپ نے کھوج لگاٸی کہ یہ شعر کس کا ہے
ایسا ہونا بھی ! کار دارد ہے
جیسے اختر حسین جعفری ہیں
تو جعفری صاحب نے معصومیت سے فرمایا مجھ تک تو جب یہ شعر آپ کے توسط سے پہنچا تو شاعر کی کیا مجال جو وہ روپوش رہ سکے ۔ یہ سن کر قاسمی صاحب نے یہی شعر دوبارہ پڑھا اور اس مرتبہ شاعر یعنی ہمارا نام بھی پڑھا کچھ اس طرح سے

ایسا ہونا بھی ! کارِ دارد ہے
جیسے اختر حسین جعفری ہیں
(ظفر معین بلے جعفری)

اختر خسین جعفری اور سید فخرالدین بلے داستان رفاقت
ولادت:- 15.اگست 1932.ہوشیارپور وصال :- 3 .جون 1992.لاہور
داستان گو :۔ ظفرمعین بلے جعفری
”اخترحسین جعفری اور سید فخرالدین بلے داستان رفاقت“
سے ایک اقتبا س۔ تحریر :۔ ظفر معین بلے جعفری

SHARE

1 COMMENT

LEAVE A REPLY