یہ علامہ اقبال ؒ کا مشہور شعر ہے جس کا پہلا مصرع یہ ہے کہ “ یہ شہادت گہہِ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا۔ یعنی اللہ سبحانہ تعالیٰ مسلمان کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ وہ ایسا دیکھنا چاہتے ہیں جو کہ ہر وقت اللہ سے ڈرتا ہو اور راضی بہ رضا رہتا ہو، اور وہ اس کے احکامات پر بلا چوں اور چرا، آمنا اور صدقنا کہہ کر عمل پیرا ہوجا ئے؟ چونکہ اب وحی کا سلسلہ بند ہے لہذا ہمیں اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یہ فرما کر راہ دکھا دی ہے کہ تمہارے لیئے تمہارے لیئے تمہارے نبی (ص) کے اسوہ حسنہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے۔
اور دوسری آیت میں یہ بھی فرمادیا ہے کہ جولوگ مجھ سے محبت کے دعوے دار ہیں ان سے کہدیجئے کہ وہ آپﷺ کا اتباع کریں؟ لیکن ہم کیا کرتے ہیں؟ کہ انہیں کا اتباع نہیں کرتے باقی سب کا کرتے ہیں، ا سی کا یہ بھی حکم ہے کہ “ امیر جو حکم دے اسکا بھی اتباع کرو“اس طرح امیر کا اتباع دراصل اللہ اور اس کے رسول کا اتباع ہے؟ لیکن ددسروں کے اتباع کے لیئے شرط یہ ہے کہ وہ بات معقول کہتا ہو اور قرآن اور سنت کے مطابق ہو؟ کل کے مظاہرے کے لیئے جو وزیر آعظم کے حکامات جاری ہوئے ہیں ان پر عمل کرنا تمام پاکستانیوں پر فرض ہے۔ کیونکہ کشمیری مسلمان ہی نہیں بلکہ پاکستانی بھی ہیں؟ جبکہ پاکستان میں ایک طبقہ ہے جس کا اپنا ریکارڈ خود کوئی اچھا نہیں جو کہتا ہے کہ وزیر اعظم سلکٹیڈ ہیں اور اکثر ان کا حکم نہیں مانتا ہے، جبکہ وہ ہمیشہ سے خودسلیکٹ ہوکر آتا رہا ہے اور سلیکشن کی ہی پیداوار ہے؟ جبکہ ہم سب مدینہ کی ریاست کو ہی نمونہ مانتے ہیں؟ مگر اس نمونہ پر بھی عمل کرنے کو وہ تیار نہیں ہیں؟
اس میں راجہ اور پرجا دونوں ہی شامل ہیں؟ کیونکہ اس کے لیئے ضد، انا، لالچ سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے جوکہ ہم میں سے کوئی چھوڑنے کو تیار کوئی تیار نہیں ہے جبکہ تکبر کو اللہ سبحانہ تعالیٰ نے اپنی چادر فرمایا ہے اور یہ بھی کہ جو اس میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا میں اسے نیست و نابود کردونگا۔ رہی ملت اسلامیہ جس سے کہ مدد کی امید ہے؟ جبکہ ان کی دوستی ان ہی سے ہے جن سے ہماری بھی دوستی ہے جن کو اپنا ولی قرآن بنانے سے منع فرمایا ہے؟ چونکہ کسی کے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے لہذا ہر ایک ہمیشہ کی طرح حیلے بہانے استعمال کرنے میں لگا ہوا ہے اور بیچارے کشمیری موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں؟ کچھ آوازیں یہ بھی آرہی ہیں کہ چونکہ کچھ عرب حکمرانوں نے کشمیر کے معاملہ میں ہمارا ساتھ نہیں دیا لہذا پاکستان بدلے میں عزرائیل کو تسلیم کرلے؟ کتنا اچھا حل ہے کہ جس کے لیئے یہ محاورہ مشہو رکہ “ماروں گھٹنا اور پھوٹے آنکھ “ کہنے والوں کو یاد بھی نہیں رہتا کہ فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ سے پاکستان کا ہے اور عرب حکمراں آج کل کب ان کا بھی ساتھ دے رہے ہیں جو ہمیں شکایت ہے؟
رہے برصغیر کے مسلمان!ان کا یہ ہمیشہ سے مسئلہ رہا ہے، جبکہ ابھی فلسطین ابھی مسئلہ بنا بھی نہیں تھا؟ خلافت کی تحریک میں بھی یہ خطہ سب سے آگے تھا جبکہ ترکوں کو خلافت سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ کیوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ برِ صغیر کے مسلمان مسلم امہ کی یک جہتی پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ باقی ممالک، قبائل اور قومیت میں بٹے ہوئے تھے اور آج تک ہیں؟ اس کا حل کیا ہے؟ ایک حل یہ ہے کہ جیسی دنیا ہے وہ بھی بن جا ئیں؟ لیکن وہ ان کے لیئے ناممکن ہے اس لیئے کہ وہ خدا اور رسول ﷺکو اوروں سے زیادہ چاہتے ہیں۔ اور پاکستان بنانے کا مقصد بھی یہ ہی تھا کہ وہ ایک مثالی اسلامی حکومت بنا ئیں گے جوکہ تمام دنیا کے لیئے نمونہ ہوگی؟ مگر بننے کے بعد اس کو کبھی نمونہ نہیں بنا سکے، صرف نعروں تک رہے نعرے ہی لگاتے رہے؟ اس میں ہر دفعہ ترقی ہوتی رہی۔ لہذا نعروں کی حدتک تو ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ ضیا الحق مرحوم دو قدم آگے بڑھے انہوں نے نعرہ لگایا کہ میں اسلام نافذ کرکے دکھاؤنگا ؟ دس سال انہیں ملے مگر وہ نافذ نہیں کرسکے جبکہ وہ آل اینڈ آل تھے؟ چونکہ پچھلے دو عدد نعرے پٹ چکے تھے لہذا قوم کو لبھانے کے لیئے نئے نعرے کی ضرورت تھی اس لیئے موجودہ نعرہ اپنالیا گیا ہے جبکہ حکومت کو معمولی اکثریت حاصل ہے اور بقیہ قوانیں اللہ تعالیٰ حاکمیت اعلیٰ ماننے کے باوجود قوانیں انسانوں کے بنا ئے ہوئے بہتر سال سے چل رہے ہیں؟ اس کو نافذ کرنے کے لیئے دستور میں ترمیم لانا ہوگی جس کے لیئے دو تہائی اکثریت چاہیئے؟ جبکہ مدینہ کی ریاست میں شورائی نظام تھا اور حتیٰ لامکان امیر اکثریت رائے کو ماننے کی بھی کوشش کرتے تھے، جس کی مثال غزوہ احد میں موجود ہے۔ جبکہ امیر کاحکم حتمی ہوتا تھا۔ مگر نا انصافیوں کا کہیں دور تک پتہ نہیں تھا؟اور ان کا سب کا دعویٰ اور عمل اس پر تھا کہ جب تک میں کسی کمزور کو اس کا حق طاقتور سے نہ دلادوں اس وقت تک میں چین سے نہیں بیٹھونگا؟ کیا موجود پاکستان میں یہ قانون نافذ ہوچکا ہے؟
ہمیں پتہ نہیں کیونکہ ہم بہت دور بیٹھے ہیں؟ مگر ٹی پر روزانہ فریادیں دیکھتے رہتے ہیں؟ عوام کی بات چھوڑئیے ایک اینکر روز چلاتا ہے رہتا ہے کہ میرے منہ پر ایک منسٹر نے تھپڑا مارا اور میری رپورٹ بھی ابھی تک درج نہیں ہوسکی؟ کیا مدنی ریاست میں ایسی کوئی مثال ہے کم از کم میری نظر سے تو نہیں گزری؟ بس سورہ صف کی پہلی اور دوسری آیت پڑھ کر سنانے کو جی چاہتا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ “مسلمانوں ایسی بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو،اللہ کو یہ بات سخت نا پسند ہے؟ قول اور فعل کا یہ تضاد رکھتے ہوئے اللہ سبحانہ تعالیٰ سے نصرت کی امید وہ بھی اس سے جس سے دل کی باتیں چھپی ہوئی نہیں ہیں، نہ ہی بندوں کے ارادے اور احوال چھپے ہوئے ہیں؟ میں اس پر کچھ نہیں کہونگا کیونکہ کسی کو بھی اللہ سے قربت تقوے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور جو جتنا قریب ہوتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ ڈرتا رہتا ہے اس لیے کہ جہاں اتباع کرنے والوں کے لیئے اس کی دوستی پائدار ہے جیسے نوح ؑ کے ساتھ ایک ہزار سال تک اور ابرہیم ؑ اور حضور ﷺ کے ساتھ آجتک، کیونکہ یہ سب سراپا اتباع تھے اور رہے۔ جبکہ ابلیس کی سرداری ایک نافرمانی پر ختم کردی گئی کیونکہ اس نے تکبر کیا تھا۔ ہم روز تکبر کرتے ہیں اور ڈرتے نہیں ہیں۔ چونکہ وہ فرماتا ہے کہ میں اپنی سنت نہیں بدلتا لہذا مجھے تو کچھ بھی کہتے ہوئے ڈرلگتا ہے۔ کیونکہ قرآن میرے سامنے ہے جس میں قوموں کے قصے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوا اور کیوں ہوا حضور ﷺ کااسوہ حسنہ میرے سامنے ہے کہ ان سا کوئی پیدا نہ ہوا، نہ کوئی اللہ کو ان جیسا پیارا ہوگا؟ وہ اس کی ناراضگی سے کس قدر ڈرتے تھے؟ تو ہم کس گنتی میں ہیں۔













