لاہور میں سینٹرل پولیس آفس کے باہر پولیس اہلکار نے بزرگ خاتون سے بدتمیزی کی جس کا آئی جی پولیس عارف نواز نے نوٹس لے لیا۔
معمر خاتون آئی جی پنجاب عارف نواز کے پاس داد رسی کے لیے آئی تھی، جس کو اے ایس آئی آصف بُرا بھلا کہتا رہا، آئی جی عارف نواز نے واقعے کا نوٹس لے لیا جس پر مذکورہ اہلکار کو معطل کر کے گرفتار کرلیا گیا۔
حکومت کی تبدیلی کا نعرہ پولیس کا کچھ نہ بگاڑ سکا، وزیرِ اعظم عمران خان کے پولیس کلچر میں تبدیلی کے نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے۔
آئی جی آفس کے باہر انصاف کے لیے آنے والی ضعیف خاتون نے اندر جانے کی کوشش کی تو گیٹ پر کھڑے تھانیدار آصف نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بوڑھی اماں پر برس پڑا، خاتون سے چھڑی چھین کر پھینک دی اور انہیں گالیاں بھی دیں۔
ضعیف خاتون سے بد تمیزی کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائر ل ہوئی تو آئی جی پنجاب نے بھی اس واقعے کا نوٹس لے لیا۔
بد زبانی کے مرتکب اے ایس آئی آصف علی کو فوری معطل کر کے پرانی انار کلی کی حوالات میں بند کر دیا گیا ہے۔
آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ شہریوں سے بدتمیزی کرنے والوں کی پولیس فورس میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے چیف ترجمان شہباز گل نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ آفس نے لاہور پولیس کو اس اہلکار کے خلاف فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے، ایسے رویے کسی صورت برادشت نہیں کیے جائیں گے۔
سوشل میڈیا پر اس سے اگلےبیان میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس پولیس اہلکار کو بزرگ خاتون سے نازیبا سلوک روا رکھنے اور بدتمیزی کرنے پر معطل کر دیا گیا ہے اور اسے گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔












