صلاح الدین کی فرانزک رپورٹ میں جسمانی تشدد ثابت

0
681

رحیم یار خان میں پولیس کی زیرِ حراست ہلاک ہونے والے صلاح الدین کی فرانزک رپورٹ میں جسمانی تشدد ثابت ہو گیا۔

فرانزک رپورٹ کے مطابق صلاح الدین کی موت سے قبل اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

صلاح الدین کے دائیں بازو کے اوپر اور پیٹ کے بائیں حصے پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں، تشدد زدہ حصوں میں خون کے لوتھڑے بھی جمے ہوئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق صلاح الدین کو پھیپھڑوں کی پرانی بیماری تھی، جس میں سانس کا نہ آنا اور پھولنا بھی شامل ہے۔

پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے مطابق میڈیکل بورڈ کی جانب سے دی گئی رپورٹ میں صلاح الدین کی موت کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ صلاح الدین کی موت میں تشدد اور پھیپھڑوں کی بیماری کا ساتھ مل کر نیورو جینک شاک سمیت کوئی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل رحیم یار خان میں پولیس کی زیرِ حراست صلاح الدین کی ہلاکت کے معاملے پر 4 رکنی ٹیم نے رحیم یار خان سے مزید شواہد حاصل کر کے فرانزک لیب میں جمع کروا ئے تھے۔

ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کی ہدایت پر 4 رکنی تفتیشی ٹیم نے شواہد اکٹھے کیے تھے، ڈی جی پی آر سے ٹی وی چینلز پر چلنے والی فوٹیج بھی مانگی گئی تھی، ان فوٹیجز کا فرانزک بھی کروایا جائے گا۔

ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کا کہنا تھا کہ فرانزک رپورٹیں آنے پر متاثرہ خاندان سے دوبارہ پوچھ گچھ ہو گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 30 اگست کو صلاح الدین کو پولیس نے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کرنے کے الزام میں رحیم یار خان سے گرفتار کیا تھا۔

صلاح الدین یکم ستمبر کو پولیس کی حراست میں جاں بحق ہو گیا تھا، جس کے بعد ملزم پر پولیس کے تشدد کرنے کا ناصرف الزام سامنے آیا تھا بلکہ پولیس حراست میں اس پر ہونے والے تشدد کی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھی۔

پولیس کا کہنا تھا کہ صلاح الدین طبیعت خراب ہونے پر دورانِ حراست ہلاک ہوا جبکہ سوشل میڈیا پر تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے اور پنجاب پولیس پر کڑی تنقید کے بعد کیس کی جوڈیشل انکوائری شروع کی گئی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY