سیرت کے لغوی معنی طریقہ کار یا چلنے کی رفتار اور انداز کے ہیں۔ سیرت یا سیرۃ، موجودہ دور میں
سیرت النبی کی اصطلاح مسلمانوں کے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سوانح کے لیے خاص ہے۔
میرے جہل کی کوئ حد نہیں ہے بہت مہدود مطالہ ھے لیکن مجھے نہ ہی قرآن مجید اور نہ ہی کسی مستند کتاب کا کوئ حوالا ملتا ھے جہاں رسول خدا نے اپنی ازواج یا معاشرہ کی دیگر خواتین پر کوئ بھی حکم زبر دستی صادر کیا ھو
آنحضرت کی زندگی کے دو اہم واقیات کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ پہلا واقعہ کا تعلق رسول پاک کی ذاتی ذندگی
سے ۔
اکثر کتابوں میں پڑھا ہے کہ شھد رسول پاک کو بہت پسند تھا۔ایکروز حضرت عائشہ نے نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوے خواہش ظاہر کرتے ہوے فرمایا کے حضور ص شھد کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ انہیں وہ بو نہیں پسند جو شھد کھانے کے بعد آتی ہے، رسول پاک نے بغیر کسی حیل و حجت حضرت عائشہ صدیقہ سے فرمایا کہ اگر آپ کو شھد کی بو ناگوار گذرتی ہے تو میں ابھی شھد کا استعمال ترک کرتا ہوں۔رسول کریم کے اس فیصلہ کے بعد سورۃ تحریم کی مندرجہ آیات نازل ہویں؛
اے نبی! آپ کیوں حرام کرتے ہیں جو اللہ تعالی نے آپ کے لیے حلال فرمایا ہے؟ آپ اپنی بیویوں کی رضا وخوشی چاہتے ہيں، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے، بےشک اللہ تعالی نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تعالی تمہارا مولیٰ ہے، اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے
یہ تھی سیرت اس نبی کی جو اس وقت ہر شہ پر قادر تھا۔
دوسری مثال گھر سے باہر ذاتی زندگی سے الگ صلح حدیبیہ کا موقع جب سرداران قریش معاہدہ کی پہلی شق پر اعتراض اٹھاتے ہیں کہ معاہدہ محمد ابن عبداللہ اور سہیل بن عمرو کے درمیان ہو گانہ کہ محمد رسول اللہ، قریش کا کہنا تھا کہ ان کا اعتراض ہی محمد کو رسول خدا ماننے پر ہے۔رسول اکرم علی ابن علی طالب کو حکم دیتے ہیں کہ معاہدہ سے رسول اللہ کو طلف کر دیا جاۓ۔ یہ پہلا موقع ہے جہاں علی ابن ابو طالب نبی کے حکم کی تعمیل نہ کرتے ہوے کہتے ہیں میرا تو ایمان ہی رسول اللہ ہے میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جب رسول خدا نے قلم اپنے ہاتھ میں لیا اور خود رسول اللہ حدف کر کے محمد ابن عبداللہ لکھا۔معاہدہ کی شرائط مندرجہ ذیل تھیں:
امن کی یہ شرائط محمد بن عبداللہ اور سہیل بن عمرو سفیرِ مکہ کے درمیان طے ہوئیں۔ دس سال تک کوئی جنگ نہیں ہوگی۔ کوئی بھی محمدص کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ اسی طرح کوئی بھی قریش کا ساتھ دینا چاہے یا ان سے معاہدہ کرنا چاہے تو اس امر میں آزاد ہے۔ کوئی بھی جوان آدمی یا ایسا شخص جس کا باپ زندہ ہو محمدص کی طرف اپنے والد یا سرپرست کی اجازت کے بغیر جائے تو اسے اپنے والد یا سرپرست کو واپس کر دیا جائے گا لیکن اگر کوئی بھی قریش کی طرف جائے تو اسے واپس نہیں کیا جائے گا۔ اس سال محمدص مکہ میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے جائیں گے۔ مگر اگلے سال وہ اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہو سکتے ہیں، تین دن گزار سکتے ہیں اور طواف کر سکتے ہیں۔ ان تین دنوں میں قریشِ مکہ ارد گرد کی پہاڑیوں سے ہٹ جائیں گے۔ جب محمدص اور ان کے ساتھی مکہ میں داخل ہوں گے تو غیر مسلح ہوں گے سوائے ان سادہ تلواروں کے جو عرب ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔
افسوس میں نے جب جب اپنے ظرف اور اپنی “میں” پر نظر ڈالی ؟ تو مجھے ہمیشہ اپنے آپ سے شرمندگی ہوئ۔آپ بھی کبھی ہمّت کیجۓ
سید عشرت حسین












