پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کا حصہ بننا ایک تاریخی غلطی تھی۔ امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کے طالبان وہ نہیں ہیں جو 2001 میں تھے۔
امریکہ کے شہر نیو یارک میں پیر کو امریکی تھنک ٹینک کونسل فار فارنِ ریلیشنز سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ امریکہ نے روس کے خلاف جنگ میں جہادیوں کو ہیرو بنایا۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کو پھر پاکستان کی ضرورت پڑی اور ہمیں کہا گیا کہ جہادیوں کے خلاف جنگ کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے 2008 میں امریکہ آ کر کہا تھا کہ افغانستان کا کوئی جنگی حل نہیں ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانی ویسے تو آپس میں لڑتے ہیں لیکن جب کوئی بیرونی قوت ان پر حملہ آور ہو تو وہ مل کر اس کے خلاف لڑتے ہیں۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اگر 19 برس میں افغانستان میں کامیاب نہیں ہوا تو آپ مزید 19 سال بھی کوششیں کر لیں، تب بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ افغانستان کے مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔
بھارت سے تعلقات سے متعلق عمران خان نے کہا کہ میں نے وزیرِ اعظم بننے کے بعد نریندر مودی سے بات کی اور کہا کہ آئیں غربت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف نئے سرے سے تعلقات کا اغاز کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے محسوس کیا کہ وہ انتخابات کے باعث بات چیت نہیں کرنا چاہتے تھے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے تمام پڑوسی ملکوں کے ساتھ پر امن تعلقات چاہتے ہیں اور ہم کرتار پور بارڈر بھی کھول رہے ہیں۔
کشمیر سے متعلق عمران خان نے کہا کہ بھارت یہ کہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کا باہمی مسئلہ ہے اور جب ہم باہمی مذاکرات کی بات کرتے ہیں تو وہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگا کر 80 لاکھ افراد کو گھروں میں قید کیا ہوا ہے۔ ہم اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیر سے کرفیو ختم کرائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ تنظیم اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ایک موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا کہ میری ہر پالیسی کو پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے۔ یہ پہلی بار صرف ہماری حکومت میں ہوا ہے جب فوج نے اپنے بجٹ اخراجات میں کمی کی ہو۔ ہماری فوج ہمارے ساتھ کھڑی ہے۔
عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ میں موجود ہیں جہاں اُن کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔
عمران خان امریکہ میں سات روزہ قیام کے دوران اقوام متحدہ کی کارروائیوں میں شریک ہوں گے اور مختلف ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔
وزیر اعظم عمران خان اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آج (پیر) کو ملاقات ہوگی اور وہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔
عمران خان اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رواں سال ہونے والی یہ دوسری ملاقات ہوگی۔ اس سے قبل ہونے والی ملاقات میں عمران خان نے کشمیر کے معاملے کو اُجاگر کیا تھا۔
اتوار کو صدر ٹرمپ نے ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ہمراہ بھارتی نژاد امریکیوں کے ایک جلسے سے خطاب کیا تھا۔ ‘ہاؤڈی مودی’ نامی اس پروگرام کی کوریج بھارتی میڈیا سمیت امریکی ذرائع ابلاغ میں بڑے پیمانے پر کی گئی۔
بھارتی وزیر اعظم کی نریندر مودی سے ملاقات کو موجودہ تناظر میں خصوصی اہمیت دی جارہی تھی۔ وہ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ تاہم ان کا خطاب پاکستان کے وزیراعظم سے پہلے ہوگا۔
خیال رہے کہ عمران خان خود کو کشمیر کا سفیر قرار دیتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
گزشتہ ماہ قوم سے خطاب میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ دنیا کشمیر کے لیے کچھ کرے یا نہ کرے، پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
دورہ امریکہ کے دوران عمران خان کی ترک صدر رجب طیب ایردوان، چین کے وزیر خارجہ وانگ یی، سوئس صدر یولی مورر، اطالوی وزیر اعظم گوئسیپے کونٹی اور ورلڈ بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس سے ملاقات شیڈول ہے۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اتوار کو نیو یارک میں کشمیر اسٹڈی گروپ کے سربراہ فاروق کتھواری سے ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات کے دوران بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اُس موقع پر پاکستان کی اقوام متحدہ میں مستقل مندوب ملیحہ لودھی اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔













