وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بے نقاب کردیا۔
وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھنے پر خونریزی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہاکہ بھارتی ظلم و تشدد سے انتہائی پسندی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ الزام پاکستان پر لگاتا ہے، وہ مستقبل میں بھی ایسا ہی کرے گا۔
عمران خان نے یہ بھی کہاکہ جس طرح آج کشمیری مسلمان محصور ہیں،اس طرح 8 لاکھ یہودی قید ہوتے تو اقوام عالم یوں ہی خاموش ہوتا؟ کیا مسلمان دیگر اقوام سے کمتر ہیں؟
اسلام فوبیا
وزیراعظم عمران خان نے اسلامو فوبیاں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ نائن الیون کے بعد سے اسلامو فوبیا میں خطر ناک حد تک اضافہ ہوا ہے،بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنادیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ بنیاد پرست اسلام یادہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا ،اسلام صرف ایک ہے جو حضور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے،مغرب کو سمجھناہوگا کہ مسلم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنی محبت کرتے ہیں،مغرب میں کچھ جان بوجھ کر مسلمانوں کو تکلیف دینے کے نفرت انگیز بات کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے مزید کہاکہکوئی مذہب بنیاد پرستی نہیں سکھاتا،افسوس کی بات ہے بعض سربراہان اسلامی دہشت گردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں،افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس بارے میں توجہ نہیں دی۔
منی لانڈرنگ
عمران خان نے منی لانڈرنگ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ غریب ملکوں کو وہاں کا اشرافیہ طبقہ لوٹ رہا ہے،ہر سال اربوں ڈالر غریب ملکوں سے ترقی یافتہ ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ امیر افراد اربوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بینکوں میں منتقل کردیتے ہیں، ہمارے ملک کا قرضہ 10 برس میں 4 گنا بڑھا ہے،اس کے نتیجے میں ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھاکہہم نے مغربی دارالحکومتوں میں کرپشن سے لی گئی جائیدادوں کا پتا چلایا، امیر ممالک میں ایسے قانون ہیں جوکرمنلز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں،جس کی وجہ سے غریبوں کی زندگی بدلنے پر دولت خرچ ہوتی ،ہمیں مغربی ملکوں میں بھیجی گئی رقم واپس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ کرپٹ حکمرانوں کو لوٹی گئی رقم بیرون ممالک بینکوں میں رکھنے سے روکاجائے۔
ماحولیاتی تبدیلی
پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ 10 ممالک میں شامل ہیں، گرین ہائوس گیسز میں پاکستان حصہ انتہائی کم ہے ،اس حوالے سے بہت سے لیڈر سنجیدہ نہیں ، اس کے باوجود ہم نے خبیرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے ۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان میں 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے ،گلیشیئرز پگھلتے رہے اور کچھ نہ کیا گیا تو بہت بڑی تباہی آئے گی ، صرف ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا ،سب ملکوں کو ذمے داری ادا کرنا ہوگی ۔
وزیراعظم نے کہاکہ اقوام متحدہ کی جنرل سے خطاب میں موسمیات تبدیلی سے متعلق بہت سے ممالک کے سربراہان نے بات کی ،ان میں سے کچھ سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہے ۔













