افغانستان میں صدرارتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے۔ انتخابات میں صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سمیت 14 امیدوار میدان میں ہیں۔
افغانستان میں صدارتی انتخابات کا انعقاد ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد افغانستان میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
انتخابات میں نوے لاکھ سے زائد افغان شہری اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں سیکورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یوں تو 14 امیدوار میدان میں ہیں تاہم اصل مقابلہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان متوقع ہے۔
افغان طالبان نے صدارتی انتخابات کی مخالفت کرتے ہوئے ووٹرز کو تنبیہ کر رکھی ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشنز سے دور رہیں۔ طالبان کے ممکنہ حملوں سے بچنے کے لیے 34 صوبوں میں ہزاروں افغان سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔
صدارتی انتخابات کے لیے افغانستان میں پانچ ہزار کے لگ بھگ پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں ایک لاکھ سے زائد افغان سیکورٹی فورسز تعینات ہیں۔ جب کہ امریکی فوج فضائی نگرانی پر مامور ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق لوگوں کی بڑی تعداد اپنا ووٹ کاسٹ کرنے پولنگ اسٹیشنز کا رخ کر رہی ہے۔ یہ پولنگ اسٹیشنز اسکولوں، اسپتالوں، مساجد اور سرکاری دفاتر میں قائم کیے گئے ہیں۔
پرتشدد واقعات
افغان حکام نے تصدیق کی ہے کہ قندھار میں ایک پولنگ اسٹیشن کے باہر دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔ جس کے بعد وہاں امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئیں ہیں۔
قندھار کے گورنر کے ترجمان بہیر احمدی کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والے تین افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پرتشدد واقعات کے پیش نظر حکام نے طالبان کے زیر اثر 400 سے زائد پولنگ اسٹیشن بند کر دیے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق طالبان نے کنٹر، پکتیا، غزنی اور پروان صوبوں میں بھی حملوں کے دعوے کیے ہیں تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
بائیو میٹرک سسٹم پر تحفظات
ناقدین انتخابی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے وضع کردہ بائیو میٹرک نظام خراب ہو گیا تو شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کیا متبادل انتظام ہو گا۔
ابتدائی طور پر انتخابی عمل میں 18 امیدوار میدان میں تھے تاہم چار امیدوار دستبردار ہو گئے لیکن اس کے باوجود بیلٹ پیپر پر 18 امیدواروں کے نام درج ہیں۔
افغانستان میں 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات بھی متنازع ہو گئے تھے۔ جب صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان انتخابات کے بعد افغانستان میں شراکت اقتدار کا فارمولہ طے پایا تھا جس میں اشرف غنی کو صدر جب کہ عبداللہ عبداللہ کو ملک کا چیف ایگزیکٹو بنایا گیا تھا۔













