عراقی پارلیمنٹ کے انسانی حقوق کمیشن نے ملکی دارالحکومت اور جنوبی حصے میں مظاہروں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ترانوے بتائی ہیں۔ کمیشن کے مطابق زخمیوں کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے۔ بغداد حکومت نے انٹرنیٹ پر تقریباً پابندی عائد کر رکھی ہے اور اس باعث دارالحکومت کے باہر ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ دوسری جانب عراقی دارالحکومت میں آج ہفتے سے بظاہر دن کا کرفیو ختم کر دیا گیا ہے لیکن اہم شاہراہوں تک رسائی کو محدود رکھا گیا ہے۔
مبینہ بے روزگاری، عام آدمی کو سہولیات کی عدم دستیابی اور بدعنوانی پر احتجاج کرتے ہوئے مظاہرین منگل کے روز سڑکوں پر نکل آئے تھے۔
ہفتے کے روز ہونے والے احتجاجی مظاہروں کی کال شیعہ ملیشیا کے سابق رہنما، مقتدا الصدر نے دی تھی، جن کی پارٹی کی پارلیمان میں حزب مخالف کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں۔ انھوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ’’اقوام متحدہ کی سرپرستی میں قبل وقت انتخابات کرائے جائیں‘‘۔
رواں ہفتے منگل کے روز دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے حکام نے سکیورٹی اداروں کو طاقت کے استعمال کے احکامات دیے جس سے پانچ روز میں چھ درجن افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ سیکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق دارالحکومت کی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی معمول کی طرح ہے۔ کنکریٹ کے بڑے بلاک رکھ ان مقامات کو بلاک کیا گیا ہے جہاں مظاہرین کی سکیورٹی اداروں سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔
ملک کے نیم سرکاری انسانی حقوق کے کمیشن نے کہا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے احتجاج کے دوران درجنوں افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم ان میں سے اکثر کو رہا کر دیا گیا ہے۔
ع
جمعے کو بھی دارالحکومت سمیت کئی شہروں میں احتجاج کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکیورٹی اداروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کئی پرتشدد حربے استعمال کیے۔
رائٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مظاہرین کے احتجاج کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس نے اسنائپرز کا بھی استعمال کیا اور کئی افراد ان کا نشانہ بنے جبکہ کئی مقامات پر سکیورٹی اداروں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ بھی کی۔
خیال رہے کہ اسنائپر گن سے کافی دور بیٹھ کر بھی کسی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ اس میں لگی دور بین سے ہدف کو نشانہ بنانے میں کافی حد تک معاونت ملتی ہے۔
احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال تمام متاثرہ شہروں میں دیکھنے میں آیا۔
سکیورٹی اداروں کا دعویٰ تھا کہ احتجاج کرنے والوں میں مسلح افراد شامل تھے جنہوں نے پولیس پر فائرنگ کی جس سے کئی اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی’ کی رپورٹ کے مطابق فوج کا کہنا ہے کہ بغداد میں احتجاج میں نامعلوم اسنائپرز بھی موجود تھے جن کی فائرنگ سے چار افراد کی ہلاکت ہوئی۔ جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
خیال رہے کہ عراق میں حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ چار روز قبل شروع ہوا تھا۔ مظاہرین نوکریوں کی غیر منصفانہ تقسیم، بے روز گاری اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی کے خلاف سڑکوں پر نکلے تھے۔
احتجاج کا آغاز منگل کو دارالحکومت سے ہوا تھا تاہم بعد ازاں یہ کئی شہروں میں پھیل گیا۔ زیادہ تر احتجاج ملک کے جنوبی علاقوں میں ہوا۔
واضح رہے کہ عراق میں داعش کو 2017 میں شکست کے بعد یہ سب سے ہلاکت خیز احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ احتجاج سے عادل عبد المہدی کی حکومت کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔













