پاک فوج کابھارت کو کرارا جواب ، محمداعظم عظیم اعظم

0
411

بیشک ،گزشتہ دِنوں جھوٹے سرجیکل اسٹرائیکس پر پاک ا فواج کے کرارے جواب کے بعدمودی سرکار کی لُنگی ڈھیلی اور بھارتی افواج کی پینٹیں گیلی ہوگئی ہیں،تو اِدھر پاکستان میں بھی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں حکومتی اور اپوزیشن کی پارٹیاں اور عسکری قیادت اور ساری پاکستانی قوم بھی سرحد پر بھارتی جارحیت اور کشمیر میں جاری بھارتی غنڈہ گردی کے خلاف ایک پیج پر ہیں اور کشمیر اور سرحد پر بھارتی مودی سرکار اور افواج کی غنڈہ گردی کا منہ توڑجواب دینے کا عزمِ عظیم کئے ہوئے ہے۔

تواُدھر بھارت ہی سے آنے والی خبر کے مطابق پاکستان پرسرجیکل اسٹرائیکس کے دعویدار بھارتی غیرسنجیدہ اور جوکر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی نئی دہلی میں خود ہی پاکستان پر اپنا تھوکا ہواچاٹ لیاہے اور اپنی افواج کی جانب سے پاکستان پرکئے جانے والے حملے سے متعلق کہی ہوئی بات ودعوے اور اُن تمام بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈوں سے بھی صاف اور واضح طور پر انکار کرتے ہوئے یہ کہہ دیاہے کہ” ہندوستان نے کسی مُلک پر حالیہ دِنوں کسی قسم کے کوئی سرجیکل اسٹرائیکس کئے ہی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی حملہ کیااور نہ ہی بھارت کسی کی زمین ہتھیانے کا بھوکا ہے، پتہ نہیں کیوں بھارتی افواج نے خود ہی سرحد کے اُس پار سرجیکل اسٹرائیکس کا ڈرامہ رچایا حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوا جس کی بھارتی افواج دعویدار ہوئی مودی سرکار ایسا کرنے والوںکے خلاف صاف وشفاف تحقیقات کرے گی اور ہمارا کسی بھی سطح کا جو بھی فوجی اِس ساری ڈرامے بازی میں ملوث پایاگیاتوتُرنت بھارتی سرکار اُس سے سختی سے نمٹے گی قانون کے مطابق سزادے گی“ابھی پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیکس سے متعلق بھارتی وزیراعظم کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں اور ساری ڈرامے بازی کے حقا ئق زبان پر آئے تو اُدھر ہی کیجروال کے بعد بھارتی اپوزیشن نے بھی سرجیکل اسٹرائیکس کے ثبوت مانگ لئے ہیں تو وہیں بھارت کی اپوزیشن پارٹی نے مودی کو گدی سے دپوچتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کا سرجیکل اسٹرائیکس کادعویٰ جھوٹاہے ابھی روی شنکر اور کیجروال نے مودی کو کیا دپوچا …..چدم برم بھی مودی کی گُدی پرزوردار طمانچہ مارنے میں پیچھے نہیںرہے اُنہوں نے بھی نرریندمودی سے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیکس کے ثبوت مانگ کر مودی کی پہلے سے ڈھیلی لنگی کومزیدڈھیلا کردیاہے۔

آج جہاں سرجیکل اسٹرائیکس کے معاملے پر مودی سرکار میں بھارت تقسیم ہوگیاہے تووہیں 1992کے ©” ایشیا ویک “ کے ستمبرکے تیسرے شمارے کی یہ خبربھی سچ ثابت ہونے کو ہے جس کے مطابق ہر وہ بھارتی سیاستدان اور بیوروکریٹ جس نے دس سال سے زائدعرصہ تک بھارتی سیاست یا حکومت میں شرکت کی ہے وہ بالادوٹوک اور مکمل طور پر اِس خیال کا حامی ہے کہ بھارت مستقبل میںضرورٹوٹ جائے گا اوراَب وہ دن بھی کوئی زیادہ دور نظر نہیں آرہے کہ جب بھارت اپنے اندر جنم لینے والی علیحدگی کی تحریکوں کی وجہ سے شیرازہ بکھیرنے کو ہے تب اِس حقیقت سے بھی انکار کرنے والا کوئی نہیں ہوگا کہ دنیا کے دسویں نمبر کے دہشت گرد موجودہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سرکار میں بھارت مستقل طور پر ٹوٹ جائے گا بات یہیں ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ کچھ عرصے قبل” بھارتی اخبار ڈیلی نیوز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا کہ بھارت ٹوٹنے والاہے رپورٹ کے مطابق بھارت کی معیشت کو تباہ کرنے والے عناصر میں سیاسی استحکام، مذہبی اور علاقائی فسادات اور علیحدگی کی چلنے والے تحاریک نے بنیادی کرداراداکیا ہے یہی صُورتِ حال مستقل میں مزید تباہی اور مشکلات کا باعث ثابت ہوگی ایک اندازے کے مطابق بھارت کو ہر آنے والے برس میں علیحدگی کی تحریکوں سے نمٹنے کےلئے اپنی حفاظتی افواج میں دس فیصد اضافہ کرنا پڑتاہے اِس کی معیشت کوسالانہ نیا دھچکالگتاہے یہ صورتِ حال جاری رہی تودس برس بعد بھارتی بجٹ80فیصد داخلی شورشوں سے نمٹنے پر خرچ ہونے لگے گا“( کتاب ۔۔۔ بھارت ٹوٹ جائے گا“ سے اقتباس)۔

اَب یقینا مودی کے اِس بیان نے دنیا کومودی کے غیرسنجیدہ اور اِس کے بہروپپئے ہونے کابھی واضح ثبوت دے دیاہے اور اِس کے ساتھ ہی دنیا کو یہ بھی بتادیاہے کہ اَب آئندہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے کہے ہوئے کسی بھی لفظ اور جملے پر یقین نہ کیا جائے کیونکہ جب اُلٹی سیدھی حرکتوں اور مکروہ کارناموں کے باعث خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے اور جنگی جنون میں مبتلارہنے والے مودی کے سر پر چاروں جانب سے جوتے پڑتے ہیں تو اِس کا پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈوںاور مخالفت کا بھوت اُترتا ہے پھر کچھ عرصے بعد خود ہی مودی اپنے غیرسنجیدہ پن اوراپنی لاو ¿بالی طبیعت کے باعث اپنے ہی کہے ہوئے سے ایسے ہی مکرجاتا ہے جیسا کہ یہ ابھی پاکستانپر سرجیکل اسٹرائیکس سے انکاری ہے۔
آج اِس منظر اور پس منظر میں جہاں دنیا کو مودی کی باتوںکو غیرسنجیدہ لینا چاہئے تو وہیںبھارتی عوام کو بھی اپنے جو کراور باو ¿لے وزیراعظم نریندرمودی کی باتوںپر تُرنت یقین کرکے پاکستان مخالف سرگرمیوں میںحصہ لے کر اپنے گربیان چاک اور سروں پر خاک ڈالنے سے پہلے سوباریہ ضرور سوچ لینا ہوگا کہ اِن کا وزیراعظم جو کچھ کسی پڑوسی مُلک سے متعلق بَک رہاہے آیا وہ درست بھی ہے کہ نہیں…؟؟

کیوںکہ خطے اور پاکستان سے جنگی جنون میںمبتلارہنے کی وجہ سے بے سوچے سمجھے پاکستان جیسے اُ س مُلک سے متعلق جو خطے میں دائمی امن و محبت ا و رخطے کے پڑوسی ممالک سے دوستی اوربھائی چارگی کے مضبوط رشتوںکا متلاشی مُلک ہے اُس کے خلاف منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کرنا اور اُسے عالمی سطح پر تنہاکرنا مودی سرکاراور بھارتی میڈیا کا مشغلہ بن گیاہے۔
حالانکہ خطے میں واحد پاکستان ہی ایسا مُلک ہے جو دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فرنٹ لائن کا کرداراداکررہاہے جب سے پاکستان نے یہ بیڑااُٹھاہے تب ہی سے پاکستان نے سیاسی و معاشی اور اقتصادی و اخلاقی لحاظ سے اپنا سب سے زیادہ ہی نقصان اُٹھایاہے اوریہ ابھی تک اُٹھاتاہی چلاجارہاہے۔
یقینی طور پر پاکستان خطے کاوہ اکیلامُلک ہے جس کی کل بھی یہی خواہش تھی اور آج بھی جس کی اِس خواہش میں شدت آگئی ہے کہ بس کسی بھی طرح سے خطے اور خطے سے وابستہ ممالک سے دہشت گردی کا خاتمہ یقینی بنا کر خطے اور خطے کے ممالک کے درمیان دائمی امن و محبت اور چاروںگرد کے پڑوسی ممالک سے مضبوط دوستی قائم کی جائے اور آپس میں ایسے سیاسی و معاشی اور اقتصادی و اخلاقی روابط استوار کئے جائیں کہ پھر اِن میں کوئی دراڑنہ آنے پائے۔
آج اِن ہی نیک جذبوںکی جستجو میں سرگرداں پاکستان کو بھارت کی مودی سرکار اور بھارتی ا فواج اور بھارتی میڈیایک زبان ہوکر پاکستان مخالف سرگرمیوں میںغرق ہیں اور بھارت پاکستان مخالف منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کرکے پاکستان کو ناکام اور ایک بدنام ریاست ثابت کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتراہواہے ۔
بھارت کی پاکستان مخالف بڑھتی روش سے تو ایسا لگتا ہے کہ خطے میں پاکستان جیسے دائمی امن کی خواہش رکھنے والے مُلک کے خلافمودی سرکار ، بھارتی افواج اورچھینالوں جیسی لگائی بجھائی والی خصلت کے حامل بھارتی میڈیا کاایک لمحہ بھی ضائع کئے بغیردن اور رات بک بک کرنا فرضِ اولین ہوگیاہے کہ جب تک یہ سب مل کر پاکستان مخالف منفی پروپیگنڈہ اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال نہ کرلیںاِنہیںنیدیں ہی نہیں آتی ہے۔

بہر حا ل ،آج دنیا یہ خوب جانتی چکی ہے کہ مودی سرکار ،بھارتی افواج اور نفرتوں کو ہوادینے کی گھٹی پینے والابھارتی میڈیاپاکستان مخالف فضا ءپیداکرکے پاکستان کے ساتھ جس جنگی کشیدگی والا کھیل کھیل رہے ہیںاِن کے کیا مقاصد ہیں؟؟ اِن کے ناپاک عزائم اُس وقت کھل کر سامنے آگے جب مودی نے پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس میںافغانستان ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کو اپنا ہم خیال بنا کر شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا بالآخر یوں وہ خطے میں جنگ کے خطرات پید اکرکے اپنے عزائم میں کامیاب ہوگیااِس کا م کو کرنے کے لئے سازشی مودی سرکار اور ڈرپوک بھارتی افواج نے کتنے پاپڑ بیلے یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیںہے اَب کچھ بھی ہے؟؟ مگراتناپھر بھی ضرور ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے بھارت کشمیر میں نہتے اور معصوم کشمیریوں پراپنی فوج کی غنڈہ گردی ڈھائے جانے والے تاریخ کے اِ نسانیت سُوز مظالم پر سے دنیا کی توجہ ہٹانے میںہرگز ہرگز کامیاب نہیں ہوسکاہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY